Site icon News Intervention

پشتون تحفظ موومنٹ کا برطانوی رکن پاکستان میں گرفتار

پشتون تحفظ موومنٹ کے پاکستانی نژادبرطانوی کارکن یوسف علی خان کو بغاوت کے الزام میں پاکستان میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

یوسف علی خان اپنے ایک عزیز کی تدفین کے سلسلے میں پاکستان پہنچے تھے۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے لندن میں ایک تقریر کے دوران ’ریاست کے خلاف‘ بات کی تھی جسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا تھا۔

یوسف علی خان پشتون تحفظ موومنٹ کی برطانوی برانچ کے سربراہ ہیں۔

ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ حراست میں لیے جانا پاکستان میں اختلافی سوچ کو دبانے کی مہم کا حصہ ہے۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار سکندر کرمانی کے مطابق یوسف علی خان ایک برطانوی شہری ہیں جو گزشتہ 20 برس سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ وہ اپنے ایک عزیز کی تدفین کے سلسلے میں پاکستان پہنچے تھے۔

یوسف علی خان کے بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی رات کو ان کے آبائی علاقے صوابی میں ان کے خاندانی گھر کو پولیس کی بھاری نفری نے گھیر لیا اور ان کو حراست میں لے لیا گیا۔

یوسف علی خان پی ٹی ایم برطانیہ کے صدر ہیں۔ یہ تنظیم پاکستانی فوج پر الزام لگاتی ہے کہ اس نے قبائلی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ پی ٹی ایم کا مطالبہ ہے کہ ان مبینہ خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائیں۔

قانونی دستاویزات کے مطابق یوسف علی خان پر الزام ہے کہ انھوں نے دسمبر 2019 میں اپنی تقریر میں ’نفرت‘ اور ’تشدد‘ پر اکسایا تھا۔

تاہم ان کے وکیل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

برطانوی وزارتِ خارجہ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ ایک برطانوی شہری کی پاکستان میں حراست کے سلسلے میں مقامی حکام سے رابطے میں ہیں۔

Exit mobile version