Site icon News Intervention

بدنام زمانہ شفیق الرحمن مینگل کون ہے؟ رپورٹ۔ اسلم خان

بدنام زمانہ شفیق الرحمن مینگل،1973ء کے بلو چ قومی غدار آئی ایس آئی کے کارندہ نیک محمد محمد زئی کے نواسے اور قابض ریاست پاکستان کے کاسہ لیس نصیر احمد محمدزئی کا بیٹاہیے۔شفیق مینگل نے وڈھ میں قومی غدار گھرانے میں آنکھ کھولی اس کے بعد بدتہذیب مدرسوں میں پرورش پائی۔ جہاں بداخلاقیات،بدتہذیبی غیر اخلاقی کام عروج پرتھے۔جب موصوف جوان ہوئے تو کراچی بھتہ مافیا کے ساتھ منسلک ہوگئے۔بھتہ لینا اور دوسرے سماج دشمن سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ان کا معمول بن گیا۔کراچی کے علاوہ اندرونی سندھ کے اغوا برائے تاوان والے گروہوں کی سرپرستی شروع کردی جس کیلے اپنا مرکز حیدر آباد سندھ کو چن لیا۔2000ء میں مشرف کی فوجی حکومت نے اقتدار سنبھالی تو اس دوران بلوچ آزادی کی جہد ایک بار پھر شروع ہوا۔آزادی کے راہ کو روکنے کیلے ریاست کواپنے ایجنسیوں کو سرگرم کرنا پڑی۔

ایجنسیز اکثر انھی سماج دشمن عناصر کا چنا کرتے ہیں تو اس بار بھی انھیں انکی ضرورت پڑی چونکہ شفیق مینگل اور اس کے بھائی عطاء الرحمن بلوچ غدار گھرانے سے تعلق رکھنے کی سبب انکے کیلے کار آمد اور بااعتبار تھے،تو اس کام کیلے انھیں باقاعدہ آئی ایس آئی میں بھرتی کرکے خضدار کی ذمہداریاں سونپی گئیں۔اس دوران خضدار میں بلوچ سرمچاروں نے کاروائیاں تیز کردیں تو انھوں نے اپنے مقامی گروہ خاص کر اپنے بھانجے قدوس محمد زئی جوکہ خضدار میں اوزان پیمائش کے انسپکٹر تھے،انھیں بلوچ آزادی پسندوں کے سرکوبی کیلے اہم ذمہداری سونپ دی۔ان کے مدد کیلے خضدار کے مشہور کار لفٹر رشید کلٹی،صحافی فیض الدین سالولی،غلام رسول محمدحسنی جوکہ ڈیتھ اسکوائڈ کے کارندہ زکریا کے باپ تھے سمیت دوسرے چھوٹے موٹے لوگوں سے کام لینا شروع کردیا۔جبکہ زہری میں مرتضی زہری میر ایوب جتک کے سالے کو ذمہداریاں دی گئیں اور مسلح دفاع کے نام سے ڈیتھ اسکواڈ بھی بنایا گیا

بلوچ سرمچاروں نے خضدار میں،انکے بھانجے قدوس،سمیت دوسرے کارندوں کا صفایا شروع کردیا تو شفیق الرحمن نے اپنے بھائی عطاء الرحمن کے ساتھ ملکر،مذہبی شدت پسند تنظیم حق نا توار کی بنیاد رکھی۔اور دوسرے مذہبی شدت پسند تنظیم لشکر جھنگوی اور دوسرے شدت پسندوں کے ساتھ مل کر،خضدار کے قریبی علاقہ باغبانہ کے مغربی پہاروں میں ٹرینگ کیمپ قائم کردیئے،او ردوسرا بیس کیمپ خط کپر میں قائم کردی۔طالبان کا ایک مرکزی کیمپ کسی مدرسہ کے نام پر خضدار نیو بس اڈھ سات مرحلہ میں قائم کردیا تو انکے لنکس،باغبانہ اور خط کپر والے کیمپوں سے مل گئے۔انھوں نے آزادی پسند سرفیس جماعتوں کے ورکز کو، ایجنسیوں کے ہاتھوں اغوا کرنے کا سلسلہ شروع کردیا،اور ٹارگٹ کلنگ کی بھی ابتداء کی۔ ان مذہبی شدت پسندوں کا بڑا کارنامہ 18فروری2011کا توتک میں فوج کیساتھ ملکر بڑا آپریشن تھا،جہاں انھوں نے پورے علاقے کو تاراج کرکے سینکڑوں لوگوں کو اٹھاکر غائب کردیئے اور کئی کو شہید کردیا۔اس کے بعد اپنا مرکزی کیمپ توتک کو بنالیا۔اس دوران میر زیب کے ساتھ ملکر اتحاد قائم کردیئے،انھوں نے اپنا مرکزی کیمپ زہری گنکو میں قائم کردی۔یہاں ایک طرف وہ بلوچ آزادی پسندوں کو نشانہ بناتے تو دوسری طرف کراچی ٹو کوئٹہ روڈ پر لوٹ مار شروع کردی چھوٹے چھوٹے گاڑیوں کو چھینتے اور بڑے مسافر کوچز او منی بسوں کے مسافروں کو لوٹتے۔
مختلف علاقوں میں سرگرم انکے کارندے بھی اپنے علاقوں میں سرگرم ہوگئے۔جیسے نال میں اقبال بزنجو،بیسیمہ میں خدائے رام،مشکے میں ملا برکت،نال ،خضدار میں زکر یا محمدحسنی،یونس محمد شہئی،ڈاکٹر عصمت محمد شہئی،ڈاکٹر انور محمد شہئی،کرخ میں وڈیرہ فاروق،زیدی میں ظفر ساسولی اور اسکے کزنز،ساسول میں میر مراد شیخ،زہری میں مولابخش،اور دوسرے کارندے سرگرم ہوگئے۔2014ء میں جب توتک سے اجتماعی قبر دریافت ہوئے،پاکستان کی بدنامی اور لین دین کے بعد ان گروہوں میں بھی ٹوٹ پھوٹ پیداہوگئی۔اس کے بعد ایک دوسرے دشمن بن گئے۔ آپسی اختلاف میں انھوں نے پچاس سے زیادہ ایک دوسرے کے کارندوں کو ہلاک کردیا۔بڑے دھڑے انکے میر زیب اور شفیق الرحمن مینگل کے تھے،الگ ہوگئے۔پھر میر زیب اور انکے کزن دوداخان میں اختلاف شدت اختیار کرگیا وہاں شفیق مینگل اور ملابرکت میں پھوٹ پڑی،اس دوران بھی ایک وسرے کو ایجنسیوں ائی ایس آئی اور ایم آئی کے واضح تقسیم کے زریعے بھی خوب نقصان پہنچا دیئے۔جب توتک کے اجتماعی قبر کا براہ راست اثر شفیق مینگل پر پڑا دوسری جانب ملابرکت کو انھوں نے پکڑ کر مار ڈالا تو پاکستان فوجی سرکار بھی شفیق مینگل سے ناراض ہوگئے۔انکا خضدار ڈپٹی کمشنر کے واقع گھر میں جو ٹارچر سیل قائم تھا جس کی سربراہی ڈپٹی کمشنر وحید شاہ کر رہے تھے کو وقتی طور پر بند کر دیا گیا۔ادھر میرزیب اور اسکے کزن سکندر زہری ولد ثناء اللہ زہری بلوچ لبریشن آرمی کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس واقع بعد شفیق مینگل کی قدر اور گرپڑی،کیوں کہ بتایا جاتاہے کہ جب میز زیب مارے گئے تو جی ایچ کیو راولپنڈی میں بھی صف ماتم بچھ گیا تھا۔یقینا ان کا ماننا تھا کہ شفیق مینگل کی احمق پن اور خود سری کی وجہ سے انھیں بھاری نقصان اٹھانا پڑاہے۔اس کے بعد خضدار میں زکریا محمد حسنی اور شکیل درانی ایکٹو ہوگئے۔کافی عرصہ کے زیر زمین رہنے بعد 2020 ء میں شفیق الرحمن کو آئی ایس آئی نے باقاعدی اسلام آباد بلاکرنئی ذمہداری سونپ دی۔چھ ماہ بعد وہ واپس کوئٹہ پہنچ کر پریس کانفرنس کی۔جس کے بعد سیاسی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایک بار پھر انھیں بااختیار کئے جانے کی تیاریاں مکمل ہوگئے ہیں۔ حالیہ دنوں اس سلسلے میں شفیق مینگل نے اسلام آباد جاکر حاٖظ سعید کے پارٹی ملی مسلم لیگ کے سربراہ رانا اشفاق سے مل کر نئے حکمت عملی بنا رہے ہیں خدشہ ہے کہ وہ اسی پارٹی کو فعال کرنے کیلے کود پڑیں گے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ وہاں آئی ایس آئی نے انکی ملاقات بدنام زمانہ عالمی دہشت گرد حافظ سعید سے بھی کرایا ہے۔
یوں گمان ہو رہا ہے کہ ایک بار پھر بلوچستان میں مختلف مذہبی گروہ داعش کے نام پر اتحاد بناکر سرگرمیاں شروع کردیں گے۔خود کشوں کو انڈیا،کشمیر،افغانستان، سمیت دیگر مذہبی شدت پسند ملکوں میں بھجیں گے اور دوسرے گروہ کو بلوچ آزادی پسندوں کے خلاف تیار کرکے پاکستانی فوج کے مدد کیلے بھیجیں گے۔

Exit mobile version