Site icon News Intervention

پاکستان:جانی خیل دھرنا لاش کے ساتھ 16 ویں روز بھی جاری

پاکستان کے پشتون علاقے جانی خیل میں قومی وطن پارٹی کے مقتول رہنماء ملک نصیب خان وزیر کی میت کی تاحال تدفین نہیں ہوسکی۔ ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے جانی خیل میں گذشتہ 16 دنوں سے لوگ فوجی قلعہ کے سامنے لاش کے ساتھ دھرنا دے کر بیٹھے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں۔

احتجاجی مظاہرین نے بارہا کہا ہے کہ اگر انھیں انصاف نہیں ملا تو مارچ کے مہینے میں قتل ہونے والے چار بچوں کی لاشوں کو بھی قبر سے نکال کر احتجاج کریں گے جن کے قاتل تاحال گرفتار نہیں ہوسکے ہیں۔

دھرنے کے شرکائنے اسلام آباد کی طرف مارچ کا کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاحال اس بارے میں فیصلہ نہ ہوسکا۔ جانی خیل قوم نے دھرنے میں فیصلہ کیا ہے کہ انکے قبیلے کا کوئی شخص پاکستانی فوج سے تعاون نہیں کرے گا اگر کسی نے فوج کے ساتھ کوئی واسطہ رکھے تو اسے پچاس ہزار کا جرمانہ ادا کرنا پڑئے گا۔

پی ٹی ایم کے رہنماء منظور پشتین نے کہا ہے کہ وہ جانی خیل قبیلے کے احتجاج اور فیصلوں کی حمایت کریں گے لیکن ان کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔

پولیس کی طرف سے جانی خیل جانے والے راستے میں میریان روڈ پر بھاری نفری تعینات کرکے رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔

جانی خیل قومی جرگہ میں شامل اور قوم پرست قومی وطن پارٹی کے رہنما ملک نصیب خان وزیر کو 30 مئی اتوار کی شام نامعلوم حملہ آوروں نے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔جانی خیل قومی جرگہ میں شامل 60 سالہ ملک نصیب کو نقاب پوش مسلح افراد نے جانی خیل کے گاؤں زندی علی خیل میں گولیاں مارکر قتل کردیا تھا۔ملک نصیب خان کو ہلاک کرنے کے بعد حملہ آور ان کی کلاشنکوف، موبائل فون اور نقد رقم لے کر فرار ہو گئے تھے۔

ملک نصیب خان رواں سال مارچ میں علاقے میں بگڑتی ہوئی امن وامان کے صورتحال پر حکومت کے خلاف ہونے والے جانی خیل دھرنے کے سرکردہ رہنما تھے اور 28 مارچ کو قبائلی قومی جرگہ اور حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدے پر انھوں نے بھی دستخط کیے تھے۔

مارچ کے وائل میں چار کمسن لڑکوں کی گولیوں سے چھلنی لاشیں ملنے کے بعد قبائلیوں نے میتوں سمیت تقریباً نو روز تک احتجاجی دھرنا دیا تھا جس کے بعد وزیر اعلیٰ محمود خان نے دیگر وزرا اور اعلیٰ سول اور پولیس عہدیداروں کے ہمراہ قبائلیوں سے ملاقات کی تھی۔

اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ نے دھرنے کے مطالبات تسلیم کیے تھے اوران کے ساتھ بنوں انتظامیہ کے ذریعے ایک تحریری معاہدہ بھی کیا گیا تھا۔
صوبائی حکومت کی جانب سے اس معاہدے کو’تصفیہ جانی خیل امن و امان‘ کا نام دیا گیا تھا۔

اس معاہدے پر کمشنر اور ڈپٹی کمشنر بنوں اور جانی خیل قبیلے کے 13 رہنماؤں اور مصالحتی جرگہ میں شامل چھ اراکین نے دستخط کیے تھے۔معاہدے میں مختلف قبائلی علاقوں اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی کردار ادا کیا تھا۔

تصفیہ جانی خیل امن و امان، کے نکات

حکومت علاقہ جانی خیل میں مکمل امن وامان کی بحالی یقینی بنائے گی حکومت علاقے کو ہر قسم مسلح گروپوں سے صاف کرے گی جانی خیل میں پرامن لوگوں کے گھروں سے کسی قسم کا قانونی اسلحہ نہیں اٹھایا جائے گا اور امن کی بحالی میں کسی گھر کو مسمار نہیں کیا جائے گا۔

حکومت کی تحویل میں جانی خیل کے گرفتار افراد کی جانچ پڑتال اور نظرثانی کا عمل فوری شروع کیا جائے گا اور ترجیحی بنیادوں پر 3ماہ میں مکمل کیا جائے گا بے گناہ افراد کو ترجیحی بنیادوں پر فوری رہا کیا جائے گا اور اگر کوئی گناہ گار ثابت ہوا تو پاکستان کے مروجہ قوانین کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

چار شہداء کو شہداء پیکج دیا جائے گا۔

جانی خیل علاقہ جوکہ بدامنی کی وجہ سے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ گیا ہے حکومت علاقے کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج دے گی۔
– جانی خیل اقوام اپنے مسائل کے حل کے لیے اعلیٰ سرکاری حکام سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں جس کا جلد اذ جلد بندوبست کیا جائے گا۔

– جانی خیل اقوام اور دیگر احتجاج کرنے والے جو آج مورخہ 28مارچ2021 کو اس حوالے سے گرفتار ہوئے ہیں ان کو فوری رہا کیا جائے گا۔

– چار شہداء کے واقعہ کی صاف شفاف انکوائری کی جائے گی اور قصوروار کو قرار واقعی سزا دی جائے گی آئندہ بھی اس قسم کے واقعات کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

جانی خیل اقوام اس تحریر کی روشنی میں قبائلی جرگہ کی وساطت سے دھرنا اور احتجاج فی الفور ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ اس معاہدئے کی پاسداری نہیں کی گئی اور بچوں کے لواحقین کو انصاف کے بجائے جانی خیل کے معروف قوم پرست رہنما کو قتل کیا گیا۔

Exit mobile version