Site icon News Intervention

افغانستان: لشکر طیبہ کا اہم کمانڈر حبیب عرف ذاکر حملے میں ہلاک

لشکر طیبہ کا ایک اہم کمانڈر حبیب عرف ذاکر کو گذشتہ رات افغانستان کے صوبہ کنٹر کے ضلع سرکانی کے علاقے گلاپڑئی میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے مارا گیا ہے۔

سرکانی کے ضلعی سربراہ سید زیور شاہ سادات نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ مارے جانے والے کمانڈر کی لاش پشد گاؤں کی قبرستان میں خفیہ طور پر دفنائی گئی۔

لشکرطیبہ پر افغان ذرائع الزام لگاتے ہیں کہ پاکستانی خفیہ اداروں کی ماتحت ہے اور افغانستان میں پاکستان کے اہداف کے لیے سرگرم ہے۔

ایک ذرائع نے ہم سے بات کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ کندھار میں بلوچ مہاجرین کے خلاف ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں لشکر طیبہ کا ہاتھ ہے۔اس نیٹورک کو مولانا امیرحمزہ چلاتا ہے جو پشاور آرمی کینٹ میں رہتا ہے۔

ذرائع نے دعوی کیا ہے افغانستان میں بلوچ مہاجرین پر حملوں میں لشکرطیبہ ملوث رہی ہے۔

اس نیٹورک کا کمانڈ مولانا امیر حمزہ کے ہاتھ میں ہے۔مولانا امیر حمزہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کی حمایت میں بیان دینے کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔ اس نے ایک ویڈیو پیغام میں جنرل قمبر جاوید باجوہ کو سچا عاشق رسول ، تہجد گزار اور ایسا شخص قرار دیا جنھوں اپنے پوری زندگی بھارتی فلم انڈسٹری کا کوئی گانا نہیں سنا۔

مولانا امیرحمزہ ڈگی محلہ لاہور کی مسجد کا خطیب رہا ہے اور خود کو جنرل قمر جاوید باجوہ کے خاندان کا قریب بتاتا ہے۔

لشکرطیبہ کا تعارف

لشکرطیبہ ان نام نہاد مجاہد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے جو نام نہاد افغان جہاد کے وقت پاکستان کی فوج کی سرپرستی میں بنائے گئے۔ لشکر طیبہ 1986 میں بنائی گئی اور افغانستان میں روس کے انخلا کے بعد پاکستان نے اسے کشمیر میں ہندوستان کے خلاف استعمال کیا۔

اس تنظیم کی قیادت پنجابیوں کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے یہ آج بھی پاکستانی فوج کی چہیتی تنظیم ہے جس کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ تنظیم آج تک پاکستان میں کسی بھی کارروائی میں ملوث نہیں رہی ہے۔

لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کا تعلق سرگودھا سے ہے۔ لشکرطیبہ پاکستان میں جماعت الدعوۃ کے نام سے کام کرتی ہے۔تنظیم پر عالمی پابندی کے بعد اب یہ فلاح انسانیت کے نام سے متحرک ہے۔

لشکر طیبہ اور بلوچستان

لشکر طیبہ پاکستانی فوج کی سرپرستی میں بلوچستان میں بھی دہشت گردی کے نیٹورک اور فوج کی حمایت میں مذہبی ڈیتھ اسکواڈ چلاتی ہے۔لشکرطیبہ ممبئی حملوں میں بھی ملوث رہی ہے اس الزام کو پاکستان نے بھی تسلیم کیا ہے اور عالمی دباؤ پر لشکرطیبہ کے کئی رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔

ممبئی حملے کا ایک اہم سہولت کار زامران کا رہنے والے ملا مجیب تھا جو بلوچستان میں لشکرطیبہ کا امیر تھا۔ملا مجیب حافظ محمد سعید کا قریبی ساتھی تھا۔ اسے 4 جولائی 2020 کو کراچی میں ایک حملے میں ہلاک کیا گیا۔ ملا مجیب پر بھی بلوچ مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔

جنوری سنہ 2020 کو بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیموں کی اتحاد براس نے زامران میں لشکر طیبہ کے کارندوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔اس حملے میں شھاب ڈک جاہ کلبر میں لشکرطیبہ کے کارندے نواز ولد سید اور اصغر ولد مجید سکنہ پل آباد ہلاک ہوگئے۔

براس کے ترجمان بلوچ خان نے اس وقت اپنے بیان میں کہا تھا مذکورہ مذہبی دہشت گرد بلوچ سرمچاروں پر براہ راست حملوں میں ملوث تھے۔

Exit mobile version