Site icon News Intervention

آزادی اظہاراورپاکستان – دوستین بلوچ

آزادی اظہار رائے وہ حق ہے جو لوگوں کو انتقامی کارروائیوں کے خوف کے بغیر اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسی طرح، یہ معلومات کو آزادانہ طور پر اور بغیر کسی سنسرشپ کے، مختلف ذرائع سے حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
دوسرے لفظوں میں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی یا گروہی رائے کا اظہار کرنے کا حق، ہمیشہ احترام کے ساتھ اور معلومات کی سچائی سے مشروط ہوتا ہے۔


اس حق کی ضمانت انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے ذریعہ حاصل ہے۔نظریات کی گردش پر پابندی لگانا اور اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگانا بے لگام حکومتوں میں لوگوں سے لیا جانے والا حق ہے۔
خیالات، تبادلہ خیال اور گفتگو کا تبادلہ معاشرے کو تبدیل کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ مزید برآں، اظہار رائے کی آزادی طاقت کے ناجائز استعمال کو محدود کرتی ہے۔ اس طرح آمرانہ حکومتیں سب سے پہلے میڈیا کو سنسر کرنے اور ان مقامات کی نگرانی کرتی ہیں جہاں نظریات تیار کیے جاتے ہیں، جیسے یونیورسٹیاں اور اسکولز۔


اگر ہم پاکستان کی صورتحال کا جائزہ لیں تو یہ کہنے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے کہ سرکاری سطح کے علاوہ یہاں گھریلو، سماجی اور تعلیمی سطح پر فرد کے اظہار رائے پر کئی قسم کی قدغنیں موجود ہیں۔ گھریلو سطح پر ہمارے ہاں بچوں کے اظہار رائے کی حوصلہ افزائی کی روایات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اسکول کی سطح پر بچوں کے تنقیدی تجسس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ رہی سہی کسر تعصب، عدم برداشت اور تقلیدی فکر کو فروغ دینے والا تعلیمی نصاب پوری کر دیتا ہے۔ تعلیمی نصاب میں تنقیدی و سائنسی تصورات کے بجائے مذہبی عناصر کو زیادہ تقویت ملنے سے بچوں کے اذہان میں کائنات کے اسرار ورموز بارے پائے جانے والے تنقیدی سوالات کی خاطر خواہ تفشی نہیں ہو پاتی۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یونیورسٹی کی سطح پر تحقیق و جستجو، اجتہادی فکر اور اظہار رائے کی مکمل آزادی ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں یونیورسٹیوں میں بھی اظہار رائے پر مکمل قدغنیں موجود ہیں۔ اظہار رائے اور اجتہادی فکر پر نظریے، مذہب یا سلامتی کے نام پر لگائی جانے والی قدغنوں کے نتیجے میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آزادانہ تحقیق و جستجو کا وہ ماحول نہیں بن سکا جو اعلیٰ سطح کی ریسرچ اور ایجادات و اختراعات کیلئے ضروری ہوتا ہے۔
یونیورسٹیاں صرف ان ملکوں میں علمی و ادبی اور سائنسی وتحقیقی میدان میں ترقی کا باعث بنتی ہیں جہاں یونیورسٹیوں کی حدودکے اندر کسی بھی موضوع پر سوال اٹھانے کی مکمل آزادی ہو۔ جس ملک کی یونیورسٹیوں میں سیاست، سائنس، مذہب اور فلسفے پر مکالمے اور بحث و مباحثے کے کلچر کو فروغ دینے پر مشال خان جیسے ترقی پسند نوجوان توہین کے الزام میں ساتھی طالبعلموں کی جنونیت کی بھینٹ چڑھ جائیں وہاں تحقیقی و علمی ترقی ایک خواب ہی رہتی ہے۔
پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی پرمکمل پابندی ہے،بلوچستان،پشتون علاقوں میں میڈیا بلیک آؤٹ اور آزادی اظہار پر پابندی کئی عرصے سے تھی،خاص کر بلوچستان میں 2012 کے بعد آزادی اظہار اور صحافت پرمکمل پابندی رہی ہے، مگر نیازی کی ملٹری حکومت کے بعد اب پاکستان بھر میں اظہار رائے پر مکمل بندش ہے،جسکا مقصد طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کے کرتوتوں کو باہر نہ آنے دینا۔
قصہ مختصر یہ کہ سماج کی ذہنی و فکری اور علمی و مادی نشوونما اظہار رائے کی آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ اگرچہ سوشل میڈیا کی روز افزوں مقبولیت نے عوام کی ایک بڑی تعداد کو اظہار رائے کا ایک بہترین پلیٹ فارم مہیا کر دیا ہے لیکن ارباب اختیار مختلف حیلے بہانوں سے سوشل میڈیا پر اظہار رائے کی راہیں مسدود کرنے کے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ارباب اختیار کبھی مقدس ہستیوں کی توہین کے سدباب کے نام پر تو کبھی فوج اور عدلیہ پر تنقید روکنے کی آڑ میں عوام کو اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی حق سے محروم کرچکے ہیں۔


جدید جمہوری ریاستوں کے قیام کے بعد سے اظہار رائے کی آزادی کا حق بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں سرفہرست تصور کیا جاتا ہے۔ جدید جمہوری معاشروں میں آزادی اظہار پر کسی بھی قسم کی قدغن لگانے کو دیگر تمام بنیادی حقوق پر قدغن لگانے کے مترداف سمجھا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کا عالمی اعلامیہ آزادی اظہار رائے کے حق پر غور کرتا ہے، اس پر غور کرتے ہوئے کہ یہ جمہوریت کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ مگر پاکستان جیسا ریاست اپنی وجود سے ہی جمہوری نہیں رہا ہے۔

Exit mobile version