Site icon News Intervention

زمینوں پر پاک فوج کے قبضے اوربندربانٹ کی کہانی – نیوز انٹر ونشن خصوصی رپورٹ

پاکستان میں زمینوں کی الاٹمنٹ یا بندر بانٹ کا معاملہ پاکستان کے پہلے فوجی آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے سے ریکارڈ پر موجود ہے۔
ایوب خان نے آرمی چیف اور پھر صدر بننے کے بعد فوج کے سینئر افسران کو زمینوں کی الاٹمنٹ کا ایک سلسلہ شروع کیا۔

پاک فوج کے پاس اس وقت ایک کروڑبیس لاکھ ایکڑزمین ہے۔جوپاکستان کے کل رقبے کا12%حصہ ہے۔
ابتدا میں تو قبل ازوقت ریٹائر ہونے والے افسران کو یہ زمینیں دی جاتی تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ سینئر فوجی افسران تک پھیل گیا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ فوج کو زمینوں کی الاٹمنٹ میں مدد اور معاونت فراہم کرنے والے سول سرکاری افسران کو بھی اس کا حصہ دیا جانے لگا۔

یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اور جنرل مشرف کے دور کی زمینوں کی الاٹمنٹ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سابق فوجی صدر پرویزمشرف کے دور میں ان پلاٹوں کی تقسیم تاریخ میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

سابق صدر پر اپنے ساتھیوں کو قوانین سے ہٹ کر خصوصی طور پر پلاٹ تقسیم کرنے کا الزام بھی رہا اور اس سلسلے میں ایک سینئر افسر کو تو 80 سے زائد پلاٹ بھی ملے جس کے بارے میں سینئر وکیل اور پاکستانی فوج کے شعبہ ایڈجوٹنٹ جنرل سے ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم نے نیب سے بھی رجوع کیا تھا تاہم تاحال اس پر کوئی پیشرفت سامنے نہیں آ سکی۔

جنرل پرویز مشرف کے بعد آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو بھی پالیسی کے مطابق زمین الاٹ کی گئی تاہم اس حوالے سے کوئی سکینڈل منظر عام پر نہ آیا لیکن جنرل راحیل شریف کو لاہور کے نواح میں 808 کنال قطعہ اراضی 16 دسمبر سنہ 2016 کو الاٹ کیا گیا۔

حیران کن بات یہ تھی کہ جنرل راحیل شریف کو انتہائی قیمتی قطعہ زمین کی الاٹمنٹ ریٹائرمنٹ سے قبل عمل میں آئی۔ یہ بات ابھی سامنے نہیں آئی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں الگ سے زمین الاٹ کی گئی یا نہیں۔

پاکستان فوج کی طرف سے زمینوں کی الاٹمنٹ کا کام فوج کے شعبہ ایڈجوٹنٹ جنرل کے زیرانتظام ویلفئیر اینڈ ری ہیبلی ٹیشن ونگ کرتا ہے جو فوجی افسران اور شہدا کے خاندانوں کو زمینوں کی الاٹمنٹ کے کام کا اصل نگران بھی ہوتا ہے۔

اس شعبے کی طرف سے زمینوں کی الاٹمنٹ کا کوئی قانون یا پالیسی ابھی تک ریکارڈ پر نہیں لائی گئی۔

کتاب دا آرمی اینڈ ڈیموکریسی

(The Army and Democracy)

کے مصنف، سول ملٹری امور کے ماہر اور امریکہ کی یونیورسٹی آف اوکلا ہوما میں ایسوسی ایٹ پروفیسر عاقل شاہ کا کہنا ہے ’افسران کو رہائشی زمین الاٹ کی جاتی ہے۔ رہائشی پلاٹوں کی الاٹمنٹ میجر کے عہدے سے لیکر اوپر تک کے عہدوں کے لیے عمل میں لائی جاتی ہے۔ جتنا اونچا رینک ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ زمین ملتی ہے۔‘

’جی ایچ کیو میں زمینوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں باقاعدہ ایک پالیسی پائی جاتی ہے لیکن اس حوالے سے آرمی چیف کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں۔ جہاں تک میرے علم میں ہے امریکہ، برطانیہ حتیٰ کہ ارجنٹینا اور برازیل کی فوجی آمریت میں بھی ایسی مثالیں نہیں ملتیں۔‘

حکومت پاکستان مسلح افواج کو تربیت اور آپریشنل مقاصد کے لیے زمین گاہے بگاہے، فوجی ضروریات کے پیش نظر ملک کے مختلف علاقوں میں الاٹ کرتی رہتی ہے۔ یہ زمین باقاعدہ طور پر وفاقی حکومت الاٹ کرتی ہے اور اس الاٹمنٹ کو باضابطہ قانونی شکل دی جاتی ہے۔لیکن فوج کی جانب سے انہیں تربیت یا آپریشنل مقاصد کیلئے استعمال نہیں جاتا بلکہ بھیچ دیا جاتا ہے اور فوج کو کوئی نہیں پوچھ سکتا کہ اس نے زن زمینوں کیو نکر بھیچ دیا ہے۔

مسلح افواج یہ زمینیں فلاحی سکیموں کے لیے استعمال کرتی ہیں جن میں کمرشل منصوبے بھی شامل ہوتے ہیں اور شہدا کے خاندانوں کی فلاح کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں۔

بنیادی طور پر یہ زمینیں استعمال کرنے کا پورا حق مسلح افواج کے پاس ہوتا ہے اور اس مقصد کے لیے انھیں صوبائی حکومتوں کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔

ایک اور قسم کی زمینیں جو فوج کی ملکیت میں جاتی ہیں وہ اس کے رہائشی منصوبوں، جیسا کہ ڈی ایچ اے یا عسکری رہائشی منصوبوں میں استعمال ہوتی ہیں لیکن یہ زمینیں افوج کمرشل طریقے سے مارکیٹ سے خریدتی ہیں۔

فروری2007میں بلوچستان اسمبلی نے کوئٹہ کے مضافات میں پاک فوج اور پاک فضائیہ کی جانب سے عوامی زمینوں پر قبضے کے خلاف قرار داد منظور کی ہے۔
یہ قرار داداس وقت کے مخلوط حکومت میں شامل متحدہ مجلس عمل کے وزیر بلوچستان ڈویلپمنٹ اتھارٹی عبدالرحیم بازئی نے پیش کی ہے جس کی حمایت حزب اختلاف کے تمام اراکین نے کی ہے۔

قرار داد میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ایئر فورس کی جانب سے تین صدیوں سے قبیلہ بازئی کی جد امجد کی ملکیت اراضیات واقع علاقہ اغبرگ تحصیل و ضلع کوئٹہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح سرہ غڑگئی چشمہ اچوزئی ہنہ، اوڑک مشرقی اور مغربی بائی پاس کی زمینوں پر فوج نہ صرف قبضہ کرنیکی کوشش میں مصروف عمل ہے بلکہ اس سلسلہ میں بلا جواز بغیر کسی نوٹس ان اراضیات کے مالک زمینداروں کو گرفتار بھی کیا جا رہا ہے جس نے یہاں کی عوام اور خاص طور پر بازئی قبیلے کو ناقابل تلافی نقصانات کے علاوہ ذہنی کرب اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ لہذا ایئر فورس اور فوجی انتظامیہ کو قبضہ گردی ایسے غیر قانونی غیر اخلاقی اور اسلام کے منافی اقدامات سے روکا جائے۔

اس وقت کے سپیکر بلوچستان اسمبلی جمال شاہ کاکڑ نے کہا تھا اس پر کمیٹی قائم کی جائے لیکن حزب اختلاف اور مجلس عمل کے موجود وزراء نے قرار داد کی بھر پور حمایت کی جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

اسی طرح جنوری 2006 میں بلوچستان کے علاقے سوئی میں پاک فوج نے سوئی ایئرپورٹ سے جڑی چار سو ایکڑ زمین چھاؤنی بنانے کے لیے غلط طریقے سے حاصل کرلی اور وہاں کے رہائشیوں کو بے دخل کردیا۔

حکومت کا کہنا تھا کہ یہ زمین بگٹی قبیلہ کی شاخ کلپر بگٹیوں کی ملکیت ہے اور اسی قبیلے کے سردار سے معاملہ طے کیا گیا۔اور یہ زمین قانون کے مطابق حاصل کی گئی ہے اور ڈیرہ بگٹی کے ضلعی رابط افسر یا ڈی سی او کو تقریبا نو کروڑ روپے کی ادائیگی کردی گئی ہے۔

لیکن کہا جارہا ہے کہ یہ رقم آج تک اصل لوگوں میں تقسیم نہیں کی گئی ہے۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جو کلپر بگٹی،شہیدنواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ہیں انہوں نے اس زمین کی فروخت کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ کو بھی خط لکھا۔

سوئی میں شہیدنواب اکبر خان بگٹی کے حامی کلپروں کا کہناہے کہ جن کلپروں نے حکومت سے اس زمین کا سودا کیا ہے وہ جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے قبیلہ سے نکالے جاچکے ہیں اور اسی بنیاد پر پاک فوج نے غلط طریقے اور سستے داموں زمین خرید لیا ہے جو دراصل خریدنانہیں بلکہ ایک قبضہ ہے۔

اسی طرح بلوچستان کے علاقے خضدار کے گاؤں چھیڑو کے مقام پرپاک فوج نے خضدار چھاؤنی کی توسیع کے لیے زہری قبائل کی مشترکہ اراضی کو سستے داموں دو ارب روپے میں خرید لیااور عوام کو جبری طور پر یہ علاقہ خالی کرایا گیا۔

زہری قبیلہ کے بڑے سردار اور چیف آف جھالاوان دودا خان مرحوم کے بیٹے میر ظفراللہ کا کہناتھا کہ تحصیل چھڈ اندراج ضلع خضدار میں سترہ سو ایکڑ رقبہ ان کی ملکیت ہے جسے ان کے بھائی میر ثنا اللہ زہری نے حکومت کو چھاؤنی بنانے کے لیے بیچ دیا ہے جو قانونی طور پر اور شرعی طور پر غلط ہے اور اُن سے ناانصافی ہے۔

سندھ میں 1955ء میں سندھ میں کوٹری بیراج کی تکمیل کے بعدگورنرجنرل غلام محمدنے آبپاشی سکیم شروع کی۔ 4 لاکھ روپے مقامی افراد میں تقسیم کرنے کے بجائے درج ذیل افراد کوزمین دیدی گئی۔جن میں
1:جنرل ایوب خان۔۔500ایکڑ
2:کرنل ضیااللّہ۔۔500ایکڑ
3:کرنل نورالہی۔۔500ایکڑ
4:کرنل اخترحفیظ۔۔500ایکڑ
5:کیپٹن فیروزخان۔۔243ایکڑ
6:میجرعامر۔۔243ایکڑ
7:میجرایوب احمد۔۔500ایکڑ
8:صبح صادق۔۔400ایکڑ
واضع رہے کہ صبح صادق چیف سیکرٹری بھی رہے۔
1962ء میں دریائے سندھ پرکشمورکے قریب گدوبیراج کی تعمیرمکمل ہوئی۔
اس سے سیراب ہونیوالی زمینیں جن کاریٹ اس وقت5000-10000روپے ایکڑ تھا۔فوجی حکام نے صرف500روپے ایک یکڑکے حساب سے خریدا۔

گدوبیراج کی زمین فوجیوں میں اس طرح بانٹ دی گئی:
1:جنرل ایوب خان۔۔247ایکڑ
2:جنرل موسی خان۔۔250ایکڑ
3:جنرل امراؤ خان۔۔246ایکڑ
4:بریگیڈئر سید انور۔۔246ایکڑ
دیگر کئی افسران کو بھی نوازا گیا۔

ایوب خان کے عہدمیں ہی مختلف شخصیات کومختلف بیراجوں پرزمین الاٹ کی گئی۔انکی تفصیل یوں ہے:
1:ملک خدا بخش بچہ…..وزیر زراعت۔۔158ایکڑ
2:خان غلام سرور خان….. وزیرمال۔۔240ایکڑ
3:جنرل حبیب اللّہ….. وزیرداخلہ۔۔240ایکڑ
4:این-ایم-عقیلی…..وزیرخزانہ۔۔249ایکڑ
5:بیگم عقیلی…..251ایکڑ
6:اخترحسین……گورنر مغربی پاکستان۔۔150ایکڑ
7:ایم،ایم،احمد….. مشیراقتصادیات۔۔150ایکڑ
8:سیدحسن…..ڈپٹی چیرمین پلاننگ۔۔150ایکڑ
9:نوراللّہ ریلوے انجینئر۔۔150ایکڑ
10:این-اے-قریشی…..چیرمین ریلوے بورڈ۔۔150ایکڑ
11:امیرمحمد خان….. سیکرٹری صحت۔۔238ایکڑ
12:ایس،ایم،شریف سیکرٹری تعلیم۔۔239ایکڑ

جنرل ایوب خان کی جانب سے جنریلوں کوالاٹ کی گئی زمینوں کی تفصیل:

۔۔۔ جنرل کے-ایم-شیخ۔۔150ایکڑ
۔۔ میجر جنرل اکبرخان۔۔240ایکڑ
۔۔۔ برگیڈیئر ایف،آر،کلو۔۔240ایکڑ
۔۔جنرل گل حسن خان۔۔150ایکڑ
گوہر ایوب کے سسرجنرل حبیب اللّہ کوہربیراج پروسیع قطع اراضی الاٹ ہوا۔
جنرل حبیب اللّہ گندھاراکرپشن سکینڈل کے اہم کردارتھے۔

جنرل ایوب خان کی جانب سے ججزکوالاٹ کی گئی زمینوں کی تفصیل:

۔۔ جسٹس ایس-اے-رحمان 150ایکڑ
۔۔۔ جسٹس انعام اللّہ خان۔۔240ایکڑ
۔۔ جسٹس محمد داؤد۔۔240ایکڑ
۔۔ جسٹس فیض اللّہ خان۔۔240ایکڑ
۔۔ جسٹس محمد منیر۔۔150ایکڑ
جسٹس منیرکواٹھارہ ہزاری بیراج پربھی زمین الاٹ کی گئی۔اسکے علاوہ ان پرنوازشات رہیں۔

ایوب خان کی جانب سے پولیس افسران میں تقسیم کی گئی زمینیں:
۔۔ملک عطامحمدخان ڈی-آئی-جی 150ایکڑ
۔۔:نجف خان ڈی-آئی-جی۔۔240ایکڑ
۔۔:اللّہ نوازترین۔۔240ایکڑ
یاد رہے کہ نجف خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے قتل کیس کے ایک کردارتھے۔اور کہا جاتا ہے کہ لیاقت علی خان کے قاتل سیداکبرکوگولی نجف خان نے ماری تھی۔
اللّہ نوازفاطمہ جناح قتل کیس کی تفتیش کرتے رہے۔1982میں حکومت پاکستان نے کیٹل فارمنگ سکیم شروع کی۔اسکا مقصد چھوٹے کاشتکاروں کو بھیڑبکریاں پالنے کیلئے زمین الاٹ کرنی تھی۔مگراس سکیم میں گورنرسندھ جنرل صادق عباسی نے سندھ کے جنگلات کی قیمتی زمین240روپے ایکڑکے حساب سے مفت بانٹی۔
اس عرصے میں پاک فوج نے صوبہ سندھ کے علاقے کوٹری،سیہون،ٹھٹھہ، اورکلی میں 25لاکھ ایکڑزمین خریدی۔1993میں حکومت نے بہاولپور میں 33866ایکڑزمین فوج کے حوالے کی۔
جون2015میں حکومت سندھ نے جنگلات کی9600ایکڑ قیمتی زمین فوج کے حوالے کی۔24جون2009کوریونیوبورڈ پنجاب کی رپورٹ کے مطابق 62% لیزکی زمین صرف 56 اعلیٰ فوجی افسران میں بانٹی گئی۔جبکہ کہا جاتا ہے کہ انکاحصہ صرف10% تھا۔2003میں صوبہ پنجاب کے تحصیل صادق آباد کے علاقے نوازآباد کی2500ایکڑ زمین فوج کے حوالے کی گئی۔یہ زمین مقامی مالکان کی مرضی کے بغیردی گئی۔جس پرسپریم کورٹ میں مقدمہ بھی ہوا۔
اسی طرح سندھ میں پاک نیوی نے کیماڑی ٹاؤن میں واقع مبارک گاؤں کی زمین ٹریننگ کیمپ کے نام پرحاصل کی۔اس کابھی کیس چلتارہا اوراب یہ نیول کینٹ کاحصہ ہے۔
2003میں اوکاڑہ فارم کیس شروع ہوا۔
اوکاڑہ فارم کی16627ایکڑ زمین حکومت پنجاب کی ملکیت تھی۔یہ لیزکی جگہ تھی۔1947میں لیزختم ہوئی۔حکومت پنجاب نے اسے کاشتکاروں میں زرعی مقاصدکیلئے تقسیم کیا۔ 2003میں اس پرفوج نے اپناحق ظاہرکیا۔
اس وقت کے ڈی جیISPRشوکت سلطان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ فوج اپنی ضروریات کیلئے کوئی بھی جگہ لے سکتی ہے۔
2003میں پاکستان کے سینیٹ میں ایک رپورٹ پیش کی گئی۔جس کے مطابق فوج پاکستان بھر میں 27ہاؤسنگ اسکیمزچلارہی ہے۔
اسی عرصے میں 16ایکڑکے 130پلاٹ افسران میں تقسیم کئے گئے۔

فوج کے پاس موجود زمین کی تفصیل:
پاک آرمی کے پاس پاکستان بھر میں کتنی زمین ہے؟ اس سلسلے میں 2009میں قومی اسمبلی میں یہ انکشاف ہوا۔
لاہورمیں۔۔12ہزارایکڑ
کراچی میں۔۔12ہزارایکڑ
اٹک میں۔۔3000ایکڑ
ٹیکسلامیں۔۔2500ایکڑ
پشاورمیں۔۔4000ایکڑ
اورکوئٹہ میں۔۔2500ایکڑ زمین موجود ہے جن کی قیمتیں 300بلین روپے ہے۔

بہاولپورمیں سرحدی علاقے کی زمین380روپے ایکڑکے حساب سے جنرلزمیں تقسیم کی گئی۔جنرل سے لیکرکرنل صاحبان تک کل100افسران تھے۔
جن میں چندکے نام یہ ہیں:
جنرل پرویزمشرف،جنرل زبیر،جنرل ارشادحسین،جنرل ضرار،جنرل زوالفقارعلی،جنرل سلیم حیدر،جنرل خالدمقبول اورایڈمرل منصورالحق۔

ہمیں دستیاب مختلف اعدادوشمارکے مطابق پاک فوج کے پاس اس وقت ایک کروڑبیس لاکھ ایکڑزمین ہے۔جوپاکستان کے کل رقبے کا12%حصہ ہے۔
سترلاکھ ایکڑکی قیمت700ارب روپے ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق پاک فوج ایک لاکھ ایکڑزمین صرف کمرشل مقاصدکیلئے استعمال کررہی ہے۔

Exit mobile version