Site icon News Intervention

مقبوضہ بلوچستان:بولان اورآواران پاکستانی فوجی جارحیت جاری

مقبوضہ کے علاقے بولان کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن جاری ہے،جبکہ آواران کے مختلف علاقوں فوجی جارحیت لوگوں کو جبربا نقل مکانی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

ضلع آواران کے مختلف علاقوں بانی جو، گندچائی اورگردو نواح کے دیگرعلاقوں میں گذشتہ چند دنوں سے پاکستانی فوج کی فوجی جاریت جاری ہے۔علاقائی ذرائع کے مطابق لوگوں کوتشددکا نشانہ بناکر دھمکایا جارہا ہے کہ اپنے گھر بار خالی کرکے نقل مکانی کروبصورت دیگرتمام علاقہ مکینوں کو زبردستی بے دخل کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق گذشتہ شام گندچائی میں رشید ولد عیدو اور اسماعیل ولد عیدو کے گھر میں چھاپا مار کر گھر میں موجود گندم سمیت تما م اشیا فوجی گاڈیوں میں ڈال کر گشانگ آرمی کیمپ منتقل کیا گیا۔

یاد رہے کہ ان علاقوں میں مکمل طور پر فوج کی عملداری اورآئے روز فوجی جارحیت کے ذریعے لوگوں کوحراست بعد لاپتہ کرنے اور گھروں کوجلانے کاسلسلہ سالوں سے جاری ہے۔لیکن میڈیا کی عدم رسائی اور سیاسی پارٹیوں کی خاموشی سے ان علاقوں کے مکین سخت ترین فوجی بربریت کے شکار ہیں۔ذرائع بتاتے ہیں کہ ان علاقوں میں لوگوں کے جان و مال سمیت عورتوں کی عزتیں بھی محفوظ نہیں ہیں اور ایک سنگین انسانی المیہ کی صورتحال ہے۔

مقبوضہ بلوچستان کے علاقے بولان میں پاکستانی فوج آپریشن جاری ہے جس میں فورسز کو فضائی مدد حاصل ہے۔

فوجی آپریشن کا کل آج صبح کیا گیا، فوجی آپریشن بولان اور مچھ کے مختلف پہاڑی علاقوں ڈھڈر، پانچ، پیر مڑد، ترمڑ، جعفری اور گردنواح میں کی جارہی ہے۔

علاقائی ذرائع نے بتایا کہ آج صبح پاکستان فوج کی بڑی تعداد مختلف اطراف سے گاڑیوں میں مذکورہ علاقوں میں پہنچی جبکہ ان کو فضائی کمک بھی حاصل ہے جن میں گن شپ ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔

گذشتہ ہفتے بھی بولان کے مختلف علاقوں میں فضائی آپریشن کی گئی، دوران آپریشن ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے مقامی افراد کے مال مویشی ہلاک ہوئے تھے۔

Exit mobile version