Site icon News Intervention

مقبوضہ کشمیر:آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ منظر عام پر آگیا۔قوم پرستوں کا مانے سے انکار

پاکستان کے راجدانی اسلام آباد میں مقبوضہ کشمیر حوالے آل پارٹیز نے متفقہ طور پر یہ طے کیا ہے کہ ریاست پاکستان کی طرف سے مسلط شدہ عبوری آئین ایکٹ74ء میں کی جانے والی 13ویں ترمیم عوامی امنگوں کے مطابق ہے۔ اس ترمیم کے ذریعے حاصل اختیارات کو چھینے جانے کی کوئی کوشش قبول نہیں کی جائے گی، باقی جو مرضی کرتے رہیں۔

البتہ یہ یاد رکھا جانا چاہیے کہ 13ویں ترمیم کے نتیجے میں اس خطے میں الحاق پاکستان پر یقین نہ رکھنے والی کسی سیاسی جماعت، تنظیم، گروہ کے قیام اور اجتماع کے انعقاد کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ سیاسی جماعت رجسٹرڈ کروانے کیلئے الحاق پاکستان پر یقین رکھنے کا حلف نامہ جمع کروانا اور آئین میں الحاق پاکستان کا نظریہ نصب العین کے طور پر رکھا جانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔
ٹیکس جمع کرنے کے اختیارات ملے ہوئے ہیں، جس وجہ سے بجلی کے بلات پر بے جا ٹیکس جمع کر کے حکمران اشرافیہ کی مراعات اور لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا جاتا ہے۔ دیگر تمام مدات میں جمع ہونے والے ٹیکسوں سے اس خطے کے لوگوں کو کوئی بنیادی سہولت اور روزگار ابھی تک فراہم نہیں کیا گیا، جس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ یہ ترمیم صرف مقامی حکمران اشرافیہ کو مالی مفاد دینے کیلئے کی گئی تھی۔ اسی ترمیم کے بعد ایک چپڑاسی کی نوکری حاصل کرنے کے لئے بھی حاضری سے قبل الحاق پاکستان اور نظریہ پاکستان پر حلف ایک رسمی تقریب میں لینے کی پابندی شامل کی گئی ہے۔ اسی ترمیم کے نتیجے میں 24 اکتوبر کے اعلامیہ کے مطابق اس حکومت کے غیر فرقہ وارانہ کردار کو ختم کیا گیا ہے۔ جہاں تک قانون سازی کے اختیارات کا تعلق ہے تو اس ترمیم کے مطابق 54 سب جیکٹس میں سے 32 پر قانون سازی کا اختیار براہ راست وزیراعظم پاکستان کو دیا گیا ہے، جبکہ 22 سبجیکٹس پر مقامی اسمبلی قانون سازی کر سکتی ہے، وہ بھی وزیراعظم پاکستان کی پیشگی رضامندی یا منظوری کے بعد ہی ایسا کیا جا سکتا ہے۔

اس کے منظرے عام پر آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسندرہنماؤں کا شدید ردعے عمل سامنے آ رہا ہے۔
دوسرے لفظوں میں اس آل پارٹیز کانفرنس سے قبل دیا گیا ہمارا موقف نہ صرف درست ثابت ہوتا ہے بلکہ ہمارے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے رجعتی اور تنگ نظر عناصر کیلئے بھی ایک پیغام ہے کہ حکمران اشرافیہ کے نمائندوں سے مل کر محنت کشوں کی نجات کی جدوجہد استوار نہیں کی جا سکتی۔
انکے مطابق اسلام آبااد میں مقبوضہ کشمیر کا فیصلہ کرنے والے دراصل آل پارٹیز والے ہمیں غلام رکھنے میں پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

Exit mobile version