Site icon News Intervention

پاکستان: جبری گمشدگیوں میں اضافہ


پاکستان میں اگست آتے ہیں سندھ میں بلوچستان مظلوم قوموں کے خلاف ریاستی آپریشن تیز ہوگیا ہے، سندھ میں سیاسی کارکنوں کے گھروں پہ انٹیلی جنس اداروں کے سول کپڑوں میں ملبوث اور رینجرز کے اہلکاروں کی مشترکہ کارروائیاں سیکڑوں کارکنان گرفتار کرکے جبرن لاپتہ کیے گئے ہیں، سندھ میں مسلسل چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے، اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی جاری ہے،
1947ع کے بعد سندھ اور بلوچستان کے ساتھ غلاموں جیسا رویہ کیا جا رہا ہے، جو کہ 14 اگست کے نام پر سندھی اور بلوچ کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، آزادی کے نام پر دنیا کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے، پاکستان بننے کے بعد مسلسل مظلوم قوموں کا استحصال کیا جارہا ہے، جس کے خلاف آواز بلند کرنے پر پاکستان آرمی پاک قومی تحریک کے خلاف آپریشن کر کے ہزاروں قومی کارکنان کو جبرن لاپتہ کرتی ہے اور مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں تحفہ دیتی ہے، گزشتہ 70 سالوں سے سندھیوں اور بلوچوں کی نسل کشی جاری ہے
سندھ میں 14 اگست آتے ہیں قومی کرکنان کے گھروں پر ریاستی کاروائیاں شروع ہوجاتی ہے، جئے سندھ فریڈم موومنٹ کہ چیئرمین سہیل ابڑو کے گھر پر سول کپڑوں میں ملبوث کاروں نے چھاپے مارے گھر میں توڑ پھوڑ کر کے چادر چودیواری تقدس پامال کیا اور جئے سندھ محاذ کے رہنماؤں سمیت سیکڑوں کارکنان گرفتار کرکے جبرن لاپتہ کیے گئے ہیں جن میں انجنیئر لطیف میمن, ایاز دیشی، زاہد چنا کو گھر سے اٹھا کر گم کردیا ہے یہ صدما اس والد برداشت نھ کرسکا اور ھرٹ اٹیک سے جان بھک ھوگیا، تفصیلات کے مطابق 70 سے ذائد سندھ سے قومی کاکنان کو
اگست کی آڑ میں جبرن گھرون اور رستون سے اٹھا کر گم کردیا گیا ہے۔

Exit mobile version