Site icon News Intervention

مقبوضہ بلوچستان: فورسز ہاتھوں چروا قتل،خواتین بچوں سمیت19 افراد جبری گمشدگی کا شکار

مقبوضہ بلوچستان کے علاقے بولان و گردنواح میں پاکستان فوج کی جانب سے آپریشن جاری ہے۔ فوج کے ہاتھوں قتل ایک چرواہے کی لاش برآمد ہوئی ہے۔

گذشتہ روز سانگان کے قریب سفری کے مقام سے محمد غوث ولد افضل خان مری کی لاش برآمد ہو ئی جنہیں ستمبر 2021 میں حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا تھا، بعدازاں تین مہینوں کی گمشدگی کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب بولان میں جاریفوجی آپریشن کے دوران ان کو قتل کر دیا گیا ہے۔آج ساتویں روز بولان فوجی محاصرے میں ہے جہاں مختلف علاقوں سے مزید لاشوں کی برآمدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں تاہم ان تصدیق تاحال نہیں ہوسکی ہے۔

پاکستانی فورسز نے گذشتہ روز قلات کے علاقے شیخ حاجی سے کلیم اللہ ولد علی گل مینگل کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا ہے-قلات کے مختلف علاقوں سے فورسز نے دو روز کے دوران تین افراد کو حراست میں لیکر لاپتہ کردیا ہے اس سے قبل پاکستانی فورسز نے بڑی تعداد میں قلات خزینئی کا محاصرہ کرتے ہوئے تشدد کے بعد دو گلہ بانوں کو زخمی حالت میں گرفتار کرکے اپنے ہمراہ لے گئے تھے-

قلات خزینئی فورسز قافلے پر بم حملے کے بعد پاکستانی فورسز نے مذکورہ علاقے میں آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے علاقہ مکینوں کو شدید تشدد کا نشانہ بناکر دو افراد خالق داد اور عبدالحکیم کو حراست میں لیکر اپنے ہمراہ لے گئے تھے-

بلوچستان بھر سے روزانہ کی بنیاد پر جبری گمشدگی کے کیسز رپورٹ ہورہے ہیں۔ رواں ہفتے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے خواتین بچوں سمیت 18 افراد کے قریب جبری لاپتہ افراد کی شناخت ہوسکی ہے۔

Exit mobile version