Site icon News Intervention

عمران پاور شو،دراصل عدلیہ،فوج، آئی ایس آئی کے درمیان دھڑے بندیوں و پاور کی جنگ ہے، نیوز انٹرونشن خصوصی رپورٹ

پاکستان کے فوجی سیاست کی موجودہ صورت حال دراصل کوئی نہیں کہانی نہیں ہے،البتہ اس بار فوج،آئی ایس آئی،عدلیہ کے آپسی رسہ کشی کا سلسلہ ہے یا یوں کہیں کہ فوج بمقابلہ فوج،عدلیہ بمقابلہ عدلیہ اور مہرہ خاص عمران نیازی ہیں جو انکی اپنی پیداوار ہے۔

پاکستانی سیاست جو ہمیشہ سے اسکی فوج کے گرد گھومتی رہی ہے اور آئی ایس آئی ہی ملک کو چلاتی آ رہی ہے۔ آج بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں ہے،۔جنرل باجوا کے ریٹائر ہونے کے ساتھ ہی آئی ایس آئی یا پاکستانی فوج کا مہرہ عمران نیازی ایک بار پھر بازی مارتے دیکھائی دے رہا ہے۔آج عمران خان پر فرد جرم کی کارروائی مؤخر،اورسماعت 30 مارچ تک ملتوی کرد یا گیا،یہ نہیں بلکہ سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کی گاڑی میں حاضری لگانے کی استدعا منظور کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان سے گاڑی میں ہی عدالتی حاضری کے دستخط لے لیے گئے۔

اب آتے ہیں عمران شو کے تصویر کے دوسرے رخ کی جانب یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب اُس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر باجواہ کی اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ سے دوریاں شروع ہوتی ہیں اور یوں اس قصے کی شروعات ہو جاتی ہے،اپنی باری کی انتطار میں آصف رزداری اور شہباز شریف جنرل باجواہ کے قریب ہو جاتے ہیں اور عمران نیازی کی حکومت کو ختم کر دیا جاتا ہے۔

اسکے ساتھ جنرل باجواہ کے خاص دوست عاصم منیر کو آرمی چیف سمیت فوج مین بڑی تبدیلیاں کرا کر باجواہ سیر و تفریح پر نکل جاتے ہیں۔ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران نیازی کی موجودہ شو کے ماسٹر مائنڈ ریٹائر جنرل فیض حمید ہیں۔ اس وقت پاکستانی فوج میں موجود حاضر سروس اور ریٹائر فوجی افسران کی بڑی تعداد انکے ساتھ ہے اور جس طرح عدلیہ کی جانب سے عمران کو کھلی چھوٹ دی گئی صاف ظاہر ہے کہ عدلیہ کے بشتر ججز کا انکو سپورٹ ہے۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ عمران گروپ کے فوجی و عدلیہ ٹیم چاہتی ہے کہ اسی طرح پاور شو دیکھا کر پاکستانی عوام کے سامنے عمران کو ہیرو پیش کیا جا سکے اور ایک خوف کا ماحول برقرار رکھتے ہوئے خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں الیکشن کرا کر عمران نیازی کو دوبارہ وزیراعظم بنایا جا سکے اور یہ عمل ستمبر سے پہلے ہونا ہوگا اس لیے کہ اسکے بعد چیف جسٹس فائز عیسی ہونگے جو عمران و اسکی گروپ کے مخالف سمجھے جاتے ہیں۔

ذرائع بتاتے ہیں کہ پھر قانون میں رو بدل کر کے آئی ایس آئی چیف ایک بار پھر ریٹائر جنرل فیض کو بنایا جائے گا اور قانون میں یہ شک موجود ہے کہ ضروری نہیں کہ آئی ایس آئی سربراہ کوئی حاضر سروس جنرل ہو اسی طرح موجودہ آرمی چیف عاصم منیر جسے وزیر اعظم پاکستان نے صوابدیدہ آرمی چیف بنایا جسکی ریٹائر منٹ قریب تھی یا تو اسے ہٹایا جائے یہ عمران کے تابع بنایا جائے گا۔

عمران کے جان کو خطرہ یا اسکے اوپر ہونے والا حملہ بھی دراصل خود اسی پروجیکٹ کاحصہ بتایا جا رہا ہے،اس وقت پاکستان میں پہلی بار ہوا ہے کہ عمران پاور شو میں عدلیہ،فوج،آئی ایس آئی دو دھڑوں میں بٹ چکے ہیں یا بانٹ دئیے گئے ہیں،۔

بظاہر یوں لگتا ہے کہ اب شہباز،زرداری کمپنی کے لیے حالات کا سامنا کرنا مشکل ہے بلکہ خود پاکستانی موجودہ آرمی چیف جنر عاصم منیر بھی کمزور پڑ سکتے ہیں،عدلیہ کو عمران نیازی گروپ کے سامنے گھٹنے ٹیکتے دیکھ کر یقینا عوام کے سامنے عمران کو ایک پاور فل سیاست دان کے سامنے ریٹائرجنرل فیض پیش کرنے میں ابھی تک کامیاب دیکھائی دے رہے ہیں۔اب آنے والا وقت ہی بتا سکتا ہے کہ جیت کس کی ہو گی مگر ایک بات واضح ہے کہ جو بھی ہو پاکستان معاشی تباہی کی جانب گامزن ہے اور جون کے مہینے میں اسے چین کے بینکوں کو قرضے کی سود کی بھاری رقم ادا کرنی ہے جو یقینا اس ملک کی تباہی کا منظر نامہ پیش کر سکتی ہے۔

Exit mobile version