Site icon News Intervention

گلگت بلتستان متوقع لینڈ ریفارمز ایکٹ۔۔تحریر ۔ علی خان گلگت

حالیہ ایک مہینے سے گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ بحث گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے لائے جانے والے متوقع لینڈ ریفارمز ایکٹ پر بحث ہورہی ہے۔
پہلے مرحلے میں اسمبلی اور بیروکریسی میں اس موضوع پر کافی بحث ہونے کے بعد اس موضوع پر سب ڈویژن کی سطع پر اسسٹنٹ کمشنرز کے زریعے سے سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اسلام آباد سرکار اس ایکٹ کے زرہعے سے گلگت بلتستان کے مقانی لوگوں کی زمینوں, پہاڈوں اور معدنیات پر قبضہ جمانا چاہتی ہے۔۔
ماضی میں سرکار خالصہ سرکار کے نام پر لوگوں کی ملکیتی زمینوں پر قبضہ جماعتی تھی۔
حالیہ سالوں میں گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کے خلاف بھرپور عوامی احتجاج ہوا تو سرکار نے قانون کا نام تبدیل کرکے پہلے سے بڑے پیمانے پر زمینوں پر قبضے کے لئے نیا قانون بنانے کی کوشش شروع کرچکی ہے۔۔۔۔۔
عوامی ایکشن کمیٹی اور قوم پرست جماعتوں نے اس متوقع قانون سازی کے خلاف بھی آواز اُٹھانی شروع کی ہے۔۔۔۔۔۔
قوم پرست جماعتوں, قانونی ماہرین اور سول سوسائٹی کا یہ کہنا تھا کہ گلگت بلتستان جموں کشمیر کا قانونی حصہ ہے اور جموں کشمیر آئین پاکستان , پاکستانی عدالتی فیصلوں اور عالمی قوانین کی روشنی میں متنازعہ علاقہ ہے اور پاکستان کی یہاں حثیت عبوری اور نگران کی ہے اور پاکستان کے پاس کوئی قانونی گنجائش نہیں کہ وہ گلگت بلتستان کی ڈیموگرافی کو چھیڑے۔۔۔۔۔
ان کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں 2019 تک سٹیٹ سبجیکٹ رول قائم رہا ۔۔۔ پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر (مظفر آباد) میں آج بھی سٹیٹ سبجیکٹ رول قائم ہے۔ جبکہ گلگت بلتستان میں پاکستانی سرکار نے 1954 میں ہی سٹیٹ سبجیکٹ کو چھیڑ نا شروع کیا اور گلگت بلتستان کے اندر پاکستان سے لاکے لوگوں کو آباد کرانا شروع کیا۔۔۔۔ جس سے یہاں کی ڈیموگرافی متاثر ہوئی۔ گلگت بلتستان کے کاروبار معدنیات پر کے پی کے کے پٹھانوں کا قبضہ ہوا۔۔۔۔ پیٹرول پمپس, چائینہ ٹریڈ اور ٹمبر جیسا بڑا کاروبار گلگت بلتستان کے لوگوں کے ہاتھ سے نکل کے پاکستانیوں کے قبضے میں گیا۔۔۔
گلگت بلتستان سے پاکستانیوں کو ڈومسائل ایشو ہوئے اور پاکستانیوں نے گلگت بلتستان کے مقامی لوگوں کے کوٹے پر پروفیشنل اداروں سے تعلیم حاصل کی اور مقامی لوگوں کی جگہ پاکستانیوں نے بڑی سرکاری ملازمتیں بھی حاصل کی۔۔۔۔۔
قانونی ماہرین , قوم پرستوں اور سول سوسائٹی کا یہ کہنا ہے کہ پاکستان متوقع لینڈ رہفارمز ایکٹ کے زریعے سے گلگت بلتستان کے 20 فیصد زمینوں پرقبضہ جمانا چاہتی ہے۔۔
اس بار مقامی ابادی میں اس قانون کے خلاف خاصی مزاہمت موجود ہے۔۔۔
گلگت بلتستان کی معدنیات پر پہلے سےپاکستان کے منرلز ڈیپارٹمنٹ کا قبضہ ہے اور تمام معدنیات کا لیز غیر مقامی کمپنیوں کے پاس ہے۔ دیامر کے جگلات کے اختیارات بھی حکومت پاکستان کے پاس ہے اور پاکستان ہی ٹمبر پالیسی دیتا ہے۔ اب لوگوں کی غیر آباد زمینوں کا 20 فیصد حصے پر پاکستان ایک بار پھر سے قبضہ جمانا چاہتا ہے۔۔۔
لینڈ ریفارمز ایکٹ کا قانون بھی پاکستانی چیف سیکرٹری, سیکرٹریز, کمشنرز, ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز مل کے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔
عوامی ایکشن کمیٹی نے گلگت گھڑی باغ میں عوامی جرگہ بلا کے اس کالے قانون کو مسترد کیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان اور عوامی ایکشن کمیٹی یاسیم نے بھی شدید احتجاج کرکے اس کالے قانون کو ماننے سے انکار کیا جبکہ ہنزہ کےال پارٹیز کانفرنس , حلقہ تین کی یوتھ اور غذر کی سول سوسائٹی سب ہی نے سرکار کے اس اقدام کو مسترد کیا ہے اور عوام کا مطالبہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں فلفور مہاراجہ ہری سنگھ کے قانون سٹیٹ سبجیکٹ رول کو فوری بحال کرکے گلگت بلتستان کی ڈیموگرافی بدلنے کا سلسلہ بند کیا جائے بصورت دیگر شدید احتجاج ہوگا۔۔
گلگت بلتستان جموں کشمیر کا حصہ ہے اور آئین ہندوستان کی روشنی میں گلگت ہندوستان کا حصہ ہے جبکہ آئین پاکستان کی روشنی میں گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے اوت لوگوں کا یہ سوال ہے کہ پاکستان کس طرح ایک متنازعہ علاقے کی زمینوں پر قبضہ کرسکتا ہے۔۔۔؟۔
قوم پرست جماعتیں اور سول سوسائٹی نے عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان کو ایسے کالے قوانین لانے سے روکے۔۔

Exit mobile version