Site icon News Intervention

عالمی وبا سے دنیا بھر میں انسانی حقوق متاثر ہوئے،اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے اقوامِ عالم پر زور دیا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے بحالی کی کوششوں میں انسانی حقوق کو پہلی ترجیح دیں تاکہ اپنے شہریوں کے لیے ایک بہتر مستقبل کا حصول ممکن ہو۔

انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر جمعرات کو اپنے ایک انٹرویو میں انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا نے فرنٹ لائن ورکرز، بزرگوں، معذوروں، خواتین، بچیوں اور اقلیتوں سمیت کمزور گروپوں پر غیر متناسب اثرات مرتب کیے ہیں۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ وائرس اس لیے پھلا پھولا کیوں کہ، غربت، عدم مساوات، تعصب، ہمارے قدرتی ماحول کی تباہی اور دیگر انسانی حقوق کی پامالیوں نے ہمارے معاشروں میں بے تحاشہ کمزوریاں پیدا کی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لیڈروں کو یہ بہانہ ملا کہ وہ سخت سیکیورٹی اور جابر اقدامات اٹھائیں جس سے میڈیا کی آزادی اور شہری حقوق سلب ہوئے۔

بدھ کے روز جنیوا میں خطاب کرتے ہوئے، انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کی کمشنر، مشعل بیشلیٹ کا کہنا تھا کہ متعدد ملکوں نے کرونا وائرس کے پھیلاو¿ کو روکنے میں سنجیدگی اختیار نہیں کی اور اس کی فوری روک تھام کے لیے اقدامات اٹھانے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی، شہری اور سیاسی حقوق سمیت انسانی حقوق سے متعلق متعدد معاملات کو نقصان پہنچا۔

مشعل بیشلیٹ کا کہنا تھا کہ عالمی وبا کو سیاسی رنگ دینا غیر ذمہ داری سے کہیں بڑھ کر ہے بلکہ قابلِ ملامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سائینسی ثبوت اور عمل کو رد کیا گیا اور اس کی جگہ سازشی نظریوں اور غلط معلومات کو پھلنے پھولنے دیا گیا۔

چلی کی سابق صدر ،مشعل بیشلیٹ کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کی وجہ سے دنیا میں یمن کی طرح تنازعات کا شکار ممالک میں بسنے والے کمزور ترین اور غیر محفوظ افراد کو تعصب اور منظم نسل پرستی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ یمن کو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران تنازعات، بیماریوں، رکاوٹوں، اور انسانی بنیادوں پر ملنے والے فنڈ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

مشعل بیشلیٹ کا کہنا تھا کہ دنیا اس نکتہ پر کھڑی ہے جہاں کم از کم ایک محفوظ اور موثر کووڈ 19 ویکسین بنا لے گی، لیکن وہ عالمی وبا سے پیدا ہونے والے سماجی اور معاشی نقصانات کو نہ روک سکے گی اور نہ ہی ان کا ازالہ کر سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس سب کا مداوا انسانی حقوق کی ویکسین ہے، جس کے بنیادی اجزا یونیورسل ڈیکلریشن آف ہیومن رائیٹس میں مرقوم ہیں، اور جس کی منظوری دس دسمبر انیس سو اڑتالیس کو اقوام متحدہ کی جینرل اسمبلی نے دی تھی۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق، اس عالمی وبا سے اب تک دنیا بھر میں کم از کم 6 کروڑ اسی لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے اور 15 لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

Exit mobile version