Site icon News Intervention

بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بین البراعظمی تجارتی راہداری کے معاہدے پر دستخط

بھارت اور متحدہ عرب امارات نے تجارتی راہداری کے ایک معاہدے پر دستخط کر لیے ہیں جس کا مقصد یورپ کو مشرق وسطیٰ کے کچھ حصوں کے ذریعے سمندر اور ریل کے ذریعے بھارت سے جوڑنا ہے، اس منصوبے کو امریکا اور یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے۔

خبر رساں اداروں ’رائٹرز‘ اور ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا دورہ متحدہ ارب امارات بھارت میں اپریل سے شروع ہونے والے انتخابات کے دوران دیکھنے میں آیا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم بدھ کو مشرق وسطیٰ کے سب سے بڑے ہندو مندر کا افتتاح کریں گے جس کے ایک دن بعد وہ دارالحکومت ابوظہبی میں ایک کمیونٹی پروگرام میں ہزاروں تارکین وطن سے خطاب بھی کریں گے۔

ماہرین کے مطابق ان کے دورے کی زیادہ تر توجہ بھارتی تارکین وطن کو متحرک کرنے پر ہے، حالانکہ متحدہ عرب امارات میں بھارتی بیرون ملک سے ووٹ نہیں ڈال سکتے ہیں۔

آج نریندر مودی نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی ہے، بھارتی وزارت خارجہ اور مقامی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ 8 ماہ میں ان رہنماؤں کی پانچویں ملاقات ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ انہوں نے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے جن میں دو طرفہ سرمایہ کاری کا معاہدہ بھی شامل ہے، جو 2022 میں دستخط کیے گئے جامع اقتصادی شراکت داری کے معاہدے کی تعمیر ہے۔

وزارت کے بیان کے مطابق یہ معاہدہ ​​مفاہمت اور تعاون کو فروغ دے گا اور بھارت اور متحدہ عرب امارات کے تعاون اور علاقائی روابط کو فروغ دے گا۔

تاہم وزارت خارجہ کے بیان میں بھارت اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ کسی بھی ملک کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے معاہدے کی تفصیلات پر تبصرہ کرنے کے لیے ای میل کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا ہے۔

نریندر مودی کے یوٹیوب چینل پر شیئر کی گئی ویڈیو کے مطابق منگل کو شیخ محمد نے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا کہ آج ہمارا خطہ مشکل وقت سے گزر رہا ہے لیکن آپ کے ساتھ ہمارے تعلقات کی وجہ سے ہم پر امید ہیں اور بھارت کے ساتھ ایک ایسے مستقبل کے منتظر ہیں جو ہمارے عزائم کے برابر ہو۔

Exit mobile version