پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں عوامی انقلاب،تمام داخلی،خارجی راستوں پر احتجاج جاری

0
288

پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے عوامی انقلاب نے پاکستانی فورسز کوکشمیر سے باہر کر دیا۔

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ ایک ماہ سے عوام کی جانب سے اپنے جائز مطالبات کے لیے پر امن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے،مگر نام نہاد آزاد کشمیر کی حکومت جسکی بھاگ دوڑ پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں میں ہے نے عوام سے پرامن احتجاج کا حق بھی چھین لیا ہے۔

پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں عوام نے گزشتہ ماہ سے آٹا سمیت دیگر ضروریات زندگی کی اشیاء کے مہنگائی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا اور عوام کے مطالبات تھے کہ آٹا،چینی و دیگر اشیاء کو یک دم مہنگا کرنا عوام کو بھوکا مارنے کے مترادف ہے جس پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر آزادی پسندوں نے نام نہاد حکومت سے مطالبہ کیا کہ نرخوں میں اضافے کے فیصلے کو واپس لیا جائے،مگر قابض پاکستانی فوج جسکے کے ہاتھ میں آزاد کشمیر کی حکومت ہے، عوامی مطالبات مانے سے انکار کر دیا۔

جس پر عوامی آگاہی کا سلسلہ شروع کیا گیا اور 13 جنوری کو عظیم الشان احتجاج و ریلیوں کا فیصلہ کیا گیا مگر12 جنوری کی رات سے ہی پاکستانی فورسز نے کارکنوں،لیڈروں کو اغوا،تشدد کے ساتھ گرفتار کرنا شروع کردیا۔

پونچھ ڈویژن جو انقلاب کی بنیاد بتائی جاتی ہے کو پولیس کے ساتھ پاکستانی آرمی نے13 جنوری کی صبح سے ہی لاک کر دیا تھا اور گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔

جنوری کی 13 تاریخ کو راولاکوٹ،پونچھ میں مکمل ہڑتال کا سماں رہا اور پولیس اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی مظاہرین پر تشدد کے بعد عوام نے بھی سخت ردعے عمل ظاہر کیا۔پتن میں پرامن مظاہرین پر پولیس تشدد کے بعد مظاہرین نے پتن پولیس چوکی کو آگ لگا کر پولیس کو پتن پل سے بھگا کر پاکستانی حدود میں داخل کر دیا ہے۔

عوامی انقلاب کی یہ لہر بہت طویل مدت بعد دیکھی گئی ہے۔ اور عوام شدید غصہ میں ہیں،لوگ پاکستان کے خلاف سخت نعرے بھی لگا رہے ہیں کہ کشمیر پاکستان کا حصہ نہیں ہے اور ہماری قومی شناخت ہماری پہچان ہے۔

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق پتن پل جو پاکستان کو کشمیر سے ملاتا ہے کو عوام نے بلاک کر دیا اور فورسز کو کشمیر بدر کر دیا ہے۔ اور پل پر دھرنا جاری ہے۔
ڈاھنڈال پل جو پاکستان اور کشمیر کو ملاتا ہے اس پل پر بھی عوام نے دھرنا دے کر بند کردیا اور فورسز کو پاکستان کی طرف دھکیل دیا ہے۔

کوالا پل جو کشمیر کو پاکستان سے ملاتا ہے کو بھی عوام نے دھرنا دے کر بند کر دیا ہے۔

دوسری جانب پونچھ ایکشن کمیٹی کا بڑا فیصلہ سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ ہڑتال غیر معینہ مدت تک جاری رہے گی۔
اور انہوں نے مطالبات حل نہ ہونے تک گھروں کو ناجانے کا اعلان کرتے ہوئے ریاستی فورسز کی تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

پونچھ ایکشن کمیٹی نے مطالبات حل ہونے نوٹیفکیشن جاری ہونے تک احتجاج جاری رھنے کا اعلان کر دیا ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبات تسلیم نہ ہونے آٹے کی قیمت 5 نومبر کی سطح پہ بحال کرنے کے نوٹیفکیشن تک گھروں کو نا جانے کا اعلان کر دیا پونچھ ایکشن کمیٹی نے آزاد پتن شرکاء پہ بدترین تشدد کے بعد لائحے عمل کا اعلان کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال کا اعلان کر دیا عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے کسی بھی مصلحت سے انکا کر دیا نہ ہی مزید وقت دیا جائے گا، جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے تب تک گھروں کو نہیں جائینگے مزاکرات کے راستے کھلے ہیں حکومت نامعنی مزاکرات کرے مطالبات تسلیم کرے تشدد گرفتاریوں سے خوفزدہ نہیں ہونگے حکومت اور انتظامیہ حالات خراب کرنے سے گریز کریں تشدد پہ نہ اکسایا جائے ایکشن کمیٹی نے عوام الناس سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کے احتجاج جاری رکھیں یہ احتجاج اس وقت تک ختم نہں ہو گا جب تک مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں