کریمہ بلوچ محکوم و مظلوم اقوام کی آواز تھے | نیوزانٹرویشن کی ٹوئٹر اسپیس پرمقررین کے خیالات کا ٹرانسکرپشن

0
100

شہید بلوچ رہنما کریمہ بلوچ کی شہادت کو ایک سال کا عرصہ ہونے پرمظلوم و محکوم اقوام کیلئے جدوجہدپرانہیں خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ”نیوز انٹرونش“ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ٹوئٹر“پر19دسمبر کونیو دہلی ٹائم کے مطابق رات 8بجے”بلوچستان کی بیٹی بانک کریمہ بلوچ کی شہادت“کے نام سے ٹوئٹر اسپیس کا انعقاد کیاگیا جس کی مہمان خاص بلوچ نیشنل موومنٹ ڈائسپورہ کے آرگنائزرڈاکٹرنسیم بلوچ تھے جبکہ اس میں بلوچستان کی میڈیا اسٹیک ہولڈر”سنگرمیڈیا“ کے ایڈیٹر انچیف دوستین بلوچ، شہیدبانک کریمہ بلوچ کے شوہراور بی این ایم کے رہنما حمل حیدر بلوچ، کمال بلوچ،حفصہ بلوچ، بلوچی رائٹر اور شہید کریمہ بلوچ کے قریبی دوست اور سہیلی عندلیب گچکی نے بطور اسپیکر کریمہ بلوچ کی ذاتی زندگی، سیاسی، سماجی و ادبی پہلو اور بلوچ و دیگر محکوم ومظلوم اقوام کی حقوق وآزادی کیلئے ان کی جدوجہد پر تقابلی جائزہ اورروشنی ڈالی۔

اس ٹوئٹر اسپیس کی نظامت کے فرائض نیوز انٹرونشن کے ایڈیٹر انچیف اور بنیادکار ویوک سنہا نے سر انجام دیئے۔اس پروگرام میں سینکڑوں بلوچ، انڈین،سندھی، اورپشتون ایکٹیوسٹوں نے حصہ لیااور بانک کریمہ بلوچ کو ان کی شہادت اور محکوم و مظلوم اقوام کیلئے جہدوجہد پر خراج تحسین پیش کیا۔

پرواگرام میں پہلے اسپیکرز نے شہید بانک کریمہ بلوچ کی زندگی، سیاست اورسیاسی جہدوجہد پر اپنے اپنے خیالات کا اظہارکیا اوربعد ازاں سوال و جواب کا ایک سیشن رکھا گیا جس میں شرکا نے اپنے سوالات رکھے اوراسپیکر ز نے ان کے جوابات دیئے۔

ویوک سنہا
ناظم ٹوئٹراسپیس
ایڈیٹر انچیف اور بنیادکار نیوز انٹرونشن

اس ٹوئٹراسپیس کے نظامت کے فرائض نیوز انٹرونشن کے ایڈیٹر انچیف اور بنیادکار ویوک سنہانے سرانجام دیتے ہوئے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان کے مسئلے کولیکرمیڈیا بلیک آؤٹ رہتا ہے۔ ٹوئٹر اسپیس پروگرام کا مقصد نیوز انٹرونشن کی ایک کوشش ہے کہ کس طرح اس بلیک آؤٹ کو ہٹا یاجائے اوربلوچستان کی حقیقی آواز کوسامنے لایا جائے۔

آج سے ایک سال قبل بانک کریمہ بلوچ کوکینیڈا میں پاکستان آرمی اور آئی ایس آئی نے ایک سازش کے تحت شہید کیا تھا۔آج اس کے شہادت کو ایک سال ہوگیا ہے۔یہ اسپیس اس کیلئے رکھا گیا ہے تاکہ ہم اس کو شردانجلی دے سکیں۔

پچھلے سال 2020میں ایک بہت دکھ بھری اور منحوس خبرہم سب نے سنا تھا اورہم سبھی لوگ چونک گئے کہ ایسا کیسے ہوگیا۔کیونکہ کریمہ بلوچ کینیڈیا جیسے ایک ایسے ملک میں تھیں جو سب سے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔وہاں پر ان کو غواکرکے ان کا قتل کیا گیا۔یہ بہت ہی چونکانے والی بات تھی۔آج اسی واقعہ کوایک سال ہورہے ہیں اور کریمہ بلوچ ایسی تھیں کہ انہیں بلوچستان کی ایشو کو کہیں پر بھی اور کسی بھی فورم پر اٹھانے میں خوف نہیں تھا اور بے باکی سے اپنی بات کو سب کے سامنے رکھتا تھا۔ وہ پورے مظلوم و محکوم اقوام کیلئے ایک انسپائریشن اوررول ماڈل تھیں۔

کریمہ بلوچ تمام مظلوم و محکوم اقوام جن میں بلوچ، سندھی اور پشتون شامل میں کی حقوق کی بات کرتی تھی اور اس کے چہرے پر کھبی کسی خوف و ڈر کے آثارنہیں ہوا کرتے تھے،ہر وقت مسکراتی تھیں۔وہ اپنی باتوں سے کسی کو کوئی تھریٹ نہیں کرتی تھیں لیکن پاکستان نے اسے کیونکر شہید کیا، ایسا کیا خوف تھا پاکستانی حکمرانوں کو جس نے اسے شہید کیا۔اور جب اس کی میت کو پاکستان لایا گیا تو کراچی ایئرپورٹ پر اسے یرغمال بنایا گیا۔اسی طرح ساجد حسین کو سویڈن میں شہید کیا گیا۔بلوچ قوم بلوچستان میں محفوظ نہیں ہیں لیکن بیرون ملک بھی وہ غیر محفوظ ہیں۔ تواس پروگرام میں ان تمام سوالوں کے جوابات جاننے کی کوشش کرینگے۔

حفصہ بلوچ
بلوچ ایکٹیوسٹ

حفصہ بلوچ نے کہا کہ بانک کریمہ بلوچ بذات خودایک تاریخ ہیں اور میں ان کو انکی جہدو جہد اور عظیم قربانی پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔کچھ ایسے شخصیت ہوتے ہیں جو اپنے عمل اور کردار کی وجہ سے تاریخ میں اپنامقام حاصل کرپاتے ہیں لیکن کریمہ بلوچ ایک ایسی شخصیت تھیں جوبذات خودایک تاریخ ہیں۔کیونکہ بلوچستان کے جو حالات ہیں،بلوچستان کوہر دہائی اور ہر دور میں ظالموں سے واستہ پڑ اہے لیکن اس صدی میں بدقسمتی سے ہمارا ظالم اور محکوم کا جو رشتہ ہے وہ پاکستان سے ہے۔

پاکستان ایک ایسی کم ظرف اورغیر فطری ریاست ہے جہاں نہ انصاف ہے، نہ ہی قانون ہے اور نہ ہی انسانیت ہے۔ اس ریاست میں رہ کرکریمہ بلوچ پاکستان کے ظلم وجبر کا ڈٹ کرمقابلہ کرتی رہیں۔اسی لئے میں کہتی ہوں کہ کریمہ بلوچ بذات خود ایک تاریخ ہیں اور اس کا مطالعہ ناگزیر ہے۔وہ پہلی بلوچ خاتون ہیں جو پاکستان کے ظلم و جبر کیخلاف باہرنکلی تھیں۔

پاکستان اس خوش فہمی میں نہ رہے کہ انہوں نے کریمہ بلوچ کو شہید کیابلکہ آج اس کی سوچ و فکر زندہ ہے اور گوادرجو ایک چھاؤنی کی صورت اختیار کرگیا ہے جہاں سیکورٹی فورسز کی بڑی تعداد گلی کوچوں میں موجود ہے لیکن ہزاروں خواتین بے خوف و نڈر ہوکرسڑکو ں پر نکل آئیں اور ایک عظیم الشان ریلی نکالی جو تاریخ کا حصہ بن گئی ہے۔ یہ کریمہ بلوچ کی جدوجہد اور سوچ وعمل کا نتیجہ ہے۔

پاکستان نے کریمہ بلوچ کو اسی لئے شہید کیا کہ اسے یہ خوف تھا کہ وہ اپنی شعور اور جدوجہد سے اپنے قوم کے دلوں میں پاکستان کا خوف مٹائے گا۔اور اس نے بالکل پاکستان کا خوف بلوچوں کے دلوں میں مٹایا۔کیونکہ کریمہ ایک نڈر، بہادراور بے خوف عورت تھیں۔آج دیکھیں پوری بلوچ قوم بے خوف ہے اور بلوچستان کے ہر علاقے میں ہزاروں کی تعداد میں عورتیں سڑکوں پر نکل رہی ہیں اور اپنے حقوق کی حصول کیلئے پاکستان کے سامنے کھڑی ہیں۔ اوران عورتوں میں یہ شعورکریمہ بلوچ کی بدولت آئی ہے۔

پاکستان ایک ایسی ڈری ہوئی ریاست ہے جو بلوچ شہداء کے لاشوں اور قبروں سے بھی ڈرتی ہے۔ شہیدوں کی لاشوں کو مسخ کرتی ہے اوران کی قبروں کو توڑ کر انکی بے حرمتی کرتی ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کیسی کم ظرف اورغیر فطری ریاست ہے جو بالکل بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔لاشوں سے ڈرٹی ہے، قبروں سے ڈرتی ہے، عورتوں اور بچوں سے ڈرتی ہے لیکن پھر بھی خود کو نیوکلیرپاور سمجھتی ہے۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ
آرگنائزر
بلوچ نیشنل موومنٹ ڈائسپورہ کمیٹی

شہید بانک کریمہ بلوچ نے اپنی پوری زندگی بلوچ جہدوجہد میں گزاری اورا سی جہدوجہد میں شہادت پائی۔بلوچستان پرپاکستانی قبضے کے بعد بلوچوں کی جہدو جہدپر نظر ڈالیں توعورتوں کاایک کردار رہا ہے۔مزاحمت بلوچوں کی فطرت میں شامل ہے۔

بلوچوں کی مزاحمتی جدوجہد1948 سے چلی آرہی ہے۔ پاکستان سے اختلافات، نفرت اورا س کی مظالم کاآتش فشاں مزاحمت کی صورت مختلف ادوار میں پھٹتا رہا لیکن انہیں ختم کیا گیا۔یہ بلوچوں کی مزاحمت کاپانچواں دور ہے پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکمرانی سے شروع ہوا اور ہنوز جاری ہے۔

جب جب اس جدوجہد اورمزاحمت میں ہمارے سرکردہ لوگ شہید ہوتے تھے تو ہم سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا سب سے بڑا نقصان ہے۔جب نواب اکبرخان بگٹی شہید ہوئے تو ہم نے کہا کہ یہ بلوچوں کاسب سے بڑانقصان ہے۔اس کے بعد بالاچ خان مری شہید ہوئے ہم نے کہا کہ یہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت سے بڑا نقصان ہے۔پھر ڈاکٹر خالد بلوچ شہید ہوئے جو بانک کریمہ بلوچ کے چچا تھے۔مطلب ہر ایک پاکستان کے ہاتھوں شہید ہوتا گیاتوہم سمجھتے تھے کہ یہ اس سے بھی بڑا نقصان ہے۔پھر 2009میں بی این ایم کے بانی چیئرمین واجہ غلام محمدبلوچ شہید ہوئے توہم نے کہا کہ یہ سب نقصانات سے بڑا نقصان ہے۔اسی طرح سلسلہ چلتا آرہا ہے۔ڈاکٹر منان بلوچ شہید ہوئے تو یہ نقصان واجہ غلام محمد بلوچ کی برابر ایک نقصان تھا بلوچ تحریک کیلئے۔پھر آکے پچھلے سال بانک کریمہ بلوچ کی شہادت ہوئی۔یہ شہادت بھی انہی نقصانات کے برابرایک نقصان تھا بلوچ قوم کیلئے۔لیکن جنس کے حوالے سے دیکھا جائے تو بانک کریمہ کی شہادت سب سے بڑا نقصان ہے۔وہ بروقت سب میں،نوجوان ہوں یا بڑھے بوڑھے اور عورتوں سب پر یکساں اثر انداز تھیں۔بانک کریمہ بلوچ سب کو موبلائز کرنے میں اور سب کو سیاست میں آنے، اپنے حقوق کیلئے آوازا اٹھانے اورسڑکوں پر لانے میں اس کا کردار ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اورکریمہ بلوچ کی شہادت سے جو نقصان بلوچ قوم کو ہوا وہ کھبی بھی پر نہیں ہوگا۔

دشمن کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ وہ بلوچ تحریک میں ایک خلا پیدا کرے۔بلوچ پروفیسرزاور کئی ٹیچرز مار ے گئے۔وہ چن چن کر مارتا ہے۔کوئی بھی بلوچ ہو وہ دشمن ریاست کے ٹارگٹ پر ہے لیکن کوئی ایسی شخصیت جو اثر انداز ہورہی ہو تو وہ مین ٹارگٹ ہوتا ہے۔ پروفیسر بننے کیلئے 30سال لگتے ہیں لیکن پاکستان ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے اسے ہمیشہ کیلئے چھین کرہمیں 30سال پیچھے لے جاتی ہے۔ایک کریمہ بلوچ کو بننے میں سو سال لگے۔پاکستان اس طرح کی ٹارگٹ کلنگ سے بلوچ تحریک میں خلا پیدا کرتی ہے جس طرح بلوچستان کی تحریک آزادی کیلئے پچھلے چارمزاحمت کے ادوار گزرے جنہیں اسی طرح کریش کیا گیاجس میں ہماری بھی غلطی تھیں، دنیا کی خاموشی بھی تھی اور میڈیا کا نہ ہونا بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتاجو اپنے مختصر مدت میں ختم ہوگئے لیکن موجودہ دور کا بلوچ مزاحمت سب سے طویل مزاحمت ہے جوبیس بائیس سالوں سے جاری ہے۔اور اسکی وجہ باشعوراور تعلیم یافتہ نوجوانوں کی قیادت، سوشل میڈیا اور کئی ایسے حقائق کہ موجودہ مزاحمت کو پچھلے مزاحمت سے الگ کرتی ہے۔اسی لئے اس میں جانی، مالی اور معاشی نقصانات زیادہ ہیں اور ہزاروں شہد اہیں جو گمنام ہیں اور ہزاروں لاپتہ افراد ہیں جو ٹارچر سیلوں میں قیدہیں۔مطلب بلوچستان کا ہر اسٹریکچر تباہ کردیا گیا ہے۔

روزانہ کی بنیادپر بلوچستان کے ہر علاقے میں فوجی آپریشن سے وہاں کی ذرائع معاش تباہ ہوگئی ہے۔ لوگوں کی مسنگ کیا جارہا ہے، خواتین و بچوں کو علاقہ بدر کیا جارہا ہے اور وہ روز روز کے فوجی آپریشنز سے تنگ آکر نقل مکانی کر رہے ہیں۔ گوادر میں بھی ترقی اور سی پیک کے نام پر لوگوں کے ذرائع معاش کو تباہ کیا جارہاتھا،سیکورٹی کا حصار بڑھایا جاریا تھا،ماہیگیروں کو ان کے سمندر سے دور کیا جارہا تھا، پانی و بجلی کا بحران پیدا کیا گیااور لوگوں کی عزت نفس کو مجروح کیاجا رہا تھاتب مولانا ہدایت الرحمان ان کے حقوق کے حصول کیلئے سامنے آئے اور مجبور ومظلوم عوام کی آواز بن گئے۔لیکن کے اس کے مقابلے میں ایک آزادی پسند سوچ رکھنے والا وہاں جاتا اور یہی کرتا تواس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا۔کیونکہ بلوچستان کی آزادی کے سوچ رکھنے والے بلوچ افرادبیرون ملک میں بھی تھریٹ میں ہیں، ان کی جانوں کو خطرہ ہے۔

بلوچستان میں مکمل میڈیا بلیک آؤٹ ہے۔ابھی گوادردھرنے کے منتظمین کے ساتھ جو حکومتی سطح پر مذاکرات ہوئے اورپھر دھرنا ختم ہواتواسے میڈیا میں جگہ دی گئی کیونکہ اسے سرکار کی کامیابی کے طور پر پیش کیا گیا۔لیکن یہی دھرنا 30دنوں تک جاری رہا کسی بھی پاکستانی میڈیا نے اسے رپورٹ نہیں کیا۔بس سوائے سوشل میڈیا اور غیر ملکی میڈیانے اس مسئلے کو کوریج کیا۔بلوچستا ن مسئلے کو اگر سوشل میڈیا، انڈیا یا غیر ملکی میڈیا کوریج کرتی ہے تو پاکستان کو ناگوار گزرتا ہے۔کیونکہ وہ پاکستانی میڈیا بلوچستان کو اسپیس نہیں دیتی اور جبکہ غیر ملکی میڈیا اسے کوریج دے تو پاکستان اسے کسی صورت بھی تسلیم نہیں کرتا۔اسی لئے بات کرنے کیلئے گراؤنڈ میں بھی تھریٹ ہے اور سوشل میڈیا بھی ایک خوف ہے بات کرنے کیلئے۔

کریمہ بلوچ کو بلوچ قوم کی غلامی، بلوچستان کے جبری قبضے اور پاکستان کے مظالم نے موٹیویٹ کیااوریہی اس کی انسپائریشن بنی بلوچستان کی جدوجہد کیلئے۔ آج جتنے بھی بلوچ بلوچستان کی آزادی کی مووومنٹ کاحصہ ہے تو انہیں انہی چیزوں نے موٹیویٹ کیا۔کریمہ بلوچ کے شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔وہ نارمل زندگی میں ایک اچھے، نفیس اور مہربان دوست تھے۔اگرسیاست اور تنظیم کی بات ہوتی تھی تووہ اپنے پرنسپلزکو فالو کرتے تھے۔ یعنی ایک اچھے انسان کی سب خوبیاں ان میں تھیں جو اسے عام خواتین میں بالکل منفرد بنادیتی تھیں۔اس کی شخصیات کے اثرات اتنے گہرے ہیں کہ کئی سالوں تک بلوچ معاشرے پر رہیں گے۔

حمل حیدر بلوچ
شوہرشہید بانک کریمہ بلوچ اور رہنمابی این ایم ڈائسپورہ کمیٹی

کریمہ بلوچ ایک مخصوص نظریے یا سیاسی بیانیے کے پابند نہیں تھے بلکہ اس سے بڑھ کر ایک شخصیت تھے۔ہماری پیٹریاٹ معاشرے میں جس میں مردو ں کی اجارہ داری ہے سیاست کے علاوہ بھی۔اوراس پرہماری ایک سیاسی بیانیہ ہے جس پر ہم اکثر بات کرنے میں جھجک محسوس کرتے ہیں کہ ہماری عورتیں آزاد ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ بلوچ معاشرے میں عورتوں کو اس طرح کی آزادی نہیں ہے جس طرح ہم بات کرتے ہیں۔سب سے پہلے توہمارے سیاسی تنظیموں کواس بات پر نظر ثانی کرنی چاہیے کہ ہمارے جو فرسودہ روایات ہیں انہیں قبول نہ کیا جائے اور مردو عورت کے حوالے سے ایک برابری کی تاثر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

غالباً سال 2005،2004کی بات ہے جب کریمہ بلوچ سب سے پہلے جب سیاست میں آئی تھی تواس زمانے میں، میں بھی بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں شامل تھا۔ اس زمانے میں ہمارے تصور میں نہیں تھا کہ ایک عورت بی ایس او میں شامل ہوکر مردوں کے شانہ بشانہ اپنی سیاست جاری رکھے گی۔اس سے پہلے کچھ عورتیں سیاست میں ہوتی تھیں لیکن براہ راست نہیں۔انہیں معاشرے کے اندر جانے کی جرأت نہیں تھی کہ وہ باہر آکر براہ راست کریمہ بلوچ کی طرح بہادری سے عملی سیاست کرتے۔ایسی کوئی روایت نہیں تھی۔لیکن کریمہ بلوچ نے بڑی بہادری،دیدہ دلیری اور بڑی ہمت سے اس مردوں کی اجاراہ داری والی روایتی اور فرسودہ معاشرے کا مقابلہ کیا۔لیکن کریمہ بلوچ کی ہمت و بہادری کے ساتھ بی ایس او نے بھی اس میں بڑا کردار ادا کیا۔یہ بی ایس او کی کامیابی ہے جس نے ایک عورت کی صلاحیتوں کو بھانپ کرانہیں آگے بڑھنے میں مدد کی۔ اور یہ فیصلہ بی ایس او اور بی این ایم کے دوستوں کا تھا،انہوں نے عورتوں کی حوصلہ افزائی کی۔کریمہ بلوچ جب بی ایس اوکی چیئرپرسن بنی تو انہوں نے سب بلوچوں کو متاثر کیا۔ انہیں بلوچستان بھرکے ہر گھر میں پہچانا جاتا ہے اور ان کی جدوجہد اور قربانی کے لوگ معترف ہیں۔

بی ایس او اور بی این ایم کی مدد سے جب کریمہ بلوچ، بلوچستان سے باہر نکلے تو ان سیاسی پارٹیوں نے معاشرے کی فرسودہ روایات اور نظام کے برعکس بلوچ عورتوں کی حوصلہ افزائی شروع کی اور انہیں باور کرایا کہ وہ آئیں اور سیاست کاباقاعدہ حصہ بنیں۔لیکن اس میں سب سے بڑا کردار کریمہ بلوچ نے اداکیاہے جس پر ہم سب فخر کرتے ہیں۔

جب سال 2009، 2010، 2011،2012میں پاکستانی انٹیلی جنس کے ہاتھوں بلوچ سیاسی کارکنوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ آزاد بلوچستان کے پیرکار ہیں اور بلوچستان کو توڑنا چاہتے ہیں،یہ ہمارے دشمن ہیں تو ہم ان کو درندگی کے ساتھ مارکر ان کی لاشیں روڈوں کے کنارے پھینکیں گے۔یا انہیں مسخ حالت میں ملیں،جن کی جسموں سے ماس کو جنگلی جانوروں کی طرح نوچ کر نکال دیں۔انہیں کوئی قدر نہیں تھی اس چیز کی کہ یہ ناصرف سیاسی کارکن ہیں بلکہ انسان ہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک نہ کیا جائے۔اکیس ویں صدی میں پاکستانی فوج کا ہمارے ساتھ یہی رویہ تھا۔ان سب بربریت اور مظالم کے باوجود کریمہ بلوچ نے اپنے دوستوں کو لیکر جدو جہد کو آگے بڑھانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ حالات اس طرح گھمبیر ہوگئے کہ کریمہ بلوچ اوران کے پارٹی کے مرکزی دوستوں کے سامنے پارٹی کے چیئر مین زاہد بلوچ کو یونیورسٹی کے احاطے سے پاکستانی فورسز نے اغوا کیا۔

اس کے بعد کریمہ بلوچ نے کوشش کی کہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پروٹسٹ کو مزیدآگے بڑھا یا جائے لیکن اس وقت ایسا کوئی ماحول نہیں تھا کہ کوئی سیاسی پارٹی آکر بات کرے۔ اس وقت بی ایس او آزاد پر پابندی لگی ہوئی تھی۔بی این ایم کے زیادہ ترمرکزی جو دوست تھے،انہیں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھایاان کی لاشیں پھینک دی گئی تھیں۔ باقی جو بی ایس اوسادھڑے تھے ان کے لئے باہر آنا پروٹسٹ کرنا بہت مشکل تھا کیونکہ خوف کا ماحول تھا۔جبکہ دوسری طرف قوم پرست پارلیمانی پارٹیاں تھیں جن کے مفادات ریاست اور ان کے کرپٹ نظام سے وابستہ ہیں، وہ اپنے مفادات کو چھوڑ کر ایک حقیقی سیاسی جدوجہد نہیں کرسکتے۔ بلوچستان کی حقوق کی حصول کیلئے جب حقیقی سیاسی جدوجہد شروع ہوئی، مزاحمت شروع ہوئی توحالات بہت خراب ہوگئے اور یہ پارلیمانی پارٹیاں مزید خاموش ہوگئیں۔

سال 2014-15کے زمانے میں بانک کریمہ بلوچ نے کراچی میں پریس کلب کے سامنے تادم مرگ بھور ہڑتالی کیمپ لگایا۔جہاں انہیں امید تھا کہ شاید بی ایس او کے جبری لاپتہ کئے گئے دوست چھوڑ دیئے جائیں۔لیکن اس کے باوجود اس احتجاج کو پاکستانی میڈیا میں کوئی کوریج نہیں ملا۔میڈیا مکمل خاموش تھی اورپاکستان کی سول سائٹی کو بھی مذکورہ احتجاج سے کوئی دلچسپی نہیں تھا۔اسی لئے وہ ایک پر اثر احتجاج ثابت نہیں ہوسکی اوربی ایس او کے چیئرمین سمیت لاپتہ بھی باہر نہیں آئے۔تو یہی سے کینیڈا کی حکومت کی جانب سے بانک کریمہ بلوچ کوآفرملا کہ اگر آپ یہاں آئیں گے تو ہم آپ کو سیاسی پناہ دینگے۔اس سلسلے میں اس زمانے کینیڈا کی کنزرویٹو پارٹی کے منسٹر کرسٹوفراے الیگزینڈر کی ذاتی کوششوں سے کریمہ بلوچ کی ویز ا پروسس کیا گیا۔اس پر بی ایس او کے ساتھیوں کو لگا کہ ہم باہر جائیں گے تووہاں ہمیں زیادہ سیاسی اسپیس ملے گااور اپنے سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھائیں گے۔اسی لئے بانک کریمہ بلوچ نے فیصلہ کیا کہ وہ بیرون ملک جائیں اور اپنی جدو جہد اور آواز کو دنیا تک پہنچائیں۔

جب کریمہ بلوچ کینیڈا آئیں توبدقسمتی سے یہاں کی حکومت تبدیل ہوگئی۔ اورکینیڈا کی لبرل پارٹی جو بہت زیادہ ہی لبرل ہے۔جس کی ہمدردیاں پاکستان و بھارت کے سکھ برادری کے ساتھ بہت زیادہ ہیں تو انہوں نے کریمہ بلوچ کو بہت تنگ کیا۔اس کے کیسز کو نظر انداز کیا،بجائے اس کے کہ اس کے کیسز سنتے، اس کے راستے میں روڑے اٹکائے۔انہیں سیاست کرنے نہیں دیا گیا، انہیں پریشان کیا گیا۔سیاسی پنا ہ کی کیس جسے تین مہینے میں ایک حل تک پہنچنا تھا اسے تین سال لگے۔

2018میں کریمہ بلوچ کی مونٹریال میں پیش ہورہی تھی۔اس کی وکیل نے تجویز دی کی کینیڈا سٹی میں جو رفیوجی ایجنسی ہے اور گورنمنٹ ہے وہ آپ کیلئے مشکلات پیدا کر رہی ہے، بہتر یہی ہے کہ ہم مونٹریال جائیں۔اور وہاں آ پ کاکیس پروسز ہوجائے۔مجھے یاد ہے جب میں 2018میں لندن سے مونٹریال گیاتاکہ میں پیشی میں اس کے ساتھ رہوں۔تو اسی دن جب میں ایئر پورٹ پر اترا تو کریمہ میرے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی۔وہ پریشان تو نہیں تھیں لیکن پھر بھی میں نے ا س کے چہرے پر افسردگی دیکھ کر پوچھا کہ کیا ہوا؟تو انہوں نے کہا کہ آج ہی ان کے ماموں کی لاش پھینکی گئی ہے۔میں پریشان ہوا کیونکہ میں اس کے ماموں کو جانتا تھا۔کریمہ بلوچ کے ماموں کو صرف اسی لئے اٹھا کر غائب کیا گیا تاکہ کریمہ بلوچ کے اوپر اور اس کے فیملی کے اوپردباؤ ڈالا جاسکے۔یعنی اس دن اس کے ماموں کی لاش پھینکی گئی جبب اس کی پیشی ہورہی تھی۔

اس واقعے کے دو تین مہینے پہلے بی ایس او کے دو تین دوست کراچی سے جبری طور پر لاپتہ کئے گئے تھے۔اور ان کے سیل فون سے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے لوگوں نے واٹس ایپ کے ذریعے کریمہ بلوچ سے رابطہ کرنا شروع کیا۔ انہوں نے ڈپلومیٹک لینگویج بھی استعمال کی اور دھمکی دینے پر بھی اتر آئے کہ آ پ بلوچستان حوالے اپنی جدو جہد چھوڑ دیں۔ان دھمکیوں میں ان کے ماموں کے قتل اور رہائی کا بھی ذکر تھا۔اس پر کریمہ بلوچ بہت پریشان تھیں،وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے جو ساتھی تھے انہیں کسی قسم کی کوئی نقصان پہنچے۔کریمہ کو پتہ تھا کہ ان کے ساتھیوں کی فون پاکستانی ایجنسیز کے ہاتھوں میں لگ چکی ہیں۔کریمہ بلوچ پر مسلسل یہ دباؤ ڈالا جارہا تھا کہ وہ بلوچ تحریک آزادی کی موومنٹ سے دستبردار ہوجائیں اور اسے کو ختم کردیں اور اگر نہیں ہوئے تو اس کے برے نقصانات ہونگے۔

اور ان دھمکیوں کے بالکل برے نقصانات بھی ہوئے۔ان کے ماموں کا قتل کیا گیا۔اس کے بعد کریمہ بلوچ کی زندگی بہت تنگ کردی گئی۔ اسے کینیڈا میں کئی دفعہ سیکورٹی ایجنسیز کے لوگ ملتے رہے اور اس سے باز پرس کرتے رہے لیکن وہ انہیں برداشت کرتے رہے۔ وہی الزامات جو پاکستانی انٹیلی جنس ہم پر لگاتے ہیں کہ ہم فارن فنڈڈ ہیں بالکل وہی الزامات کینیڈا کی حکومت کریمہ بلوچ پر بھی لگارہی تھی۔میں اس بات پربالکل متفق ہوں کہ کینیڈاکے جو پاکستانی نژاد لوگ ہیں اورپاکستان کی سفارتخانہ ہے اس کا اس میں بڑا کردار تھا۔ان کا کینیڈا کی لیبر پارٹی میں جو سیاسی اثرو رسوخ تھا اسے استعمال کرکے کریمہ بلوچ اور اس کے ساتھیوں کو تنگ کرتے رہے۔انہوں نے کریمہ بلوچ پر بہت پریشر ڈالا کہ وہ کینیڈا میں نہ رہ سکیں اور اپنا کیس لیکر واپس چلے جائیں حالانکہ وہ ایک ہائی پروفائل کیس تھی۔

کریمہ بلوچ کے ماموں سمیت فیملی کے کئی لوگ بے دردی سے قتل کئے گئے تھے۔وہ پہلی بار بی ایس اوجیسے ایک طلبا تنظیم کے چیئرپرسن تھے۔ اسے بی بی سی نے اپنے 100خواتین فہرست میں بھی منتخب کیا تھا۔لیکن اس کے باوجود ہر دفعہ جب اس کے کیس کی پیشی ہوتی تھی تو کینیڈا کی حکومت اور دیگر ادارے کوئی بہانہ لیکر آتے تھے اور کیس کو طول دیتے تھے کہ ہم اس کیس پر کام کررہے ہیں،ابھی تفتیش جاری ہے، اسکے مسلح مزاحمتی گروپس کے ساتھ تعلقات ہیں وغیرہ وغیرہ۔جس طرح کے الزامات ہمیشہ پاکستانی آرمی بلوچوں پر لگاتی رہی بالکل یہی الزامات کینیڈا کے ادارے لگا رہے تھے۔

کریمہ بلوچ اپنی جو جدوجہد جاری رکھنا چاہتے تھے۔لیکن کینیڈاکی جوصورتحال تھی اور پاکستانی اداروں کی اثرو رسوخ کی وجہ سے وہ اسے اچھی طریقے سے جاری نہیں رکھ سکے۔جب انہیں شہید کیا گیا تھااور اس کی وصیت کے مطابق بانک کریمہ کی جسد خاکی کوجب ہم بلوچستان بھیجنا چاہ رہے تھے تب کینیڈا کی جو میتوں کی سروسز ہیں ان کا ایک طریقہ کار ہے کہ آپ پہلے پاکستان کے سفارتخانے سے اجازت نامہ لیکر آجائیں کہ ہمیں ایک لاش بھیجنا ہے۔اس طریقہ کار کیلئے ایک فارم ہوتا ہے جس میں سب انفارمیشن کی تفصیلات درج ہوتے ہیں۔جب کینیڈا کی میتوں کی سروس ادارے نے یہ اجازت نامہ پاکستانی سفارتخانہ بھیجا تواگلے دن سوشل میڈیا”ٹوئٹر“پرانہوں نے ہمارے سب انفارمیشن،گھروں کے ایڈریس، فون نمبر اور دیگر تفصیلات اور فیملی سے جڑے دیگر افراد کے تفصیلات جاری کردیئے تاکہ ہم پریشر میں آجائیں اور کوئی بات نہ کرسکیں۔

ایک ملک اور اس کا ایک سفارت خانہ ”بلوچ“کے معاملے میں اس قدر حساس ہو تو اندازہ لگالیں کہ وہ کس قدر پریشان تھے کریمہ بلوچ کی کینیڈا میں موجودگی میں اورکس طرح وہ چاہ رہے تھے کہ اسے اور اس کے فیملی کو روکا جاسکے۔تاکہ وہ بلوچستان کے حوالے سے اپنی جدوجہد کو جاری نہ رکھ سکے۔

ویوک سنہا
ناظم ٹوئٹراسپیس
ایڈیٹر انچیف اور بنیادکار نیوز انٹرونشن

شکریہ حمل حیدر بلوچ، آپ نے کریمہ بلوچ پر تفصیل سے بات کی اور ایسے پہلوؤں کو ٹچ کیا جوہم میں سے بہت لوگ نہیں جانتے تھے۔کریمہ بلوچ کی شہادت آپ کیلئے ایک ذاتی نقصان بھی ہے۔دعا ہے کہ آپ ان کی یادوں کوپلے کرکے بلوچستان کی آزادی کی جہدوجہد کوآگے بڑھائیں۔بانک کریمہ نے جوراہ دکھایااس پر بلوچ لوگ عمل کریں۔

میری جانکاری کے مطابق بلوچ کلچر میں برقعے کا کوئی تصور نہیں ہے۔وہاں دوپٹہ، چادر یا شال کو خواتین استعمال کرتی ہیں۔اس چیز کو بھی بانک کریمہ بلوچ نے ہٹایاتھا۔یہ جب شروعاتی دور میں پاکستان زبردستی بلوچستان میں مذہبی شدت پسندی اوردہشت گردی یا اسلامی فنڈامنٹلزم کو لانے کی کوشش کر رہے تھے تو بانک کریمہ بلوچ بلوچستان کی پہلی خاتون تھیں جس نے سب سے زیادہ اس کی مذمت کی تھی۔ یہ بھی اس کی دیر پا میراث ہے۔

کمال بلوچ
رہنما بلوچ نیشنل موومنٹ

کریمہ بلوچ نے اپنی پوری زندگی بلوچ قومی تحریک آزادی کیلئے قربان کی تھی۔کریمہ بلوچ ایک ایسی شخصیت ہیں جس پرجتنی بھی بات کی جائے وہ کم پڑتی ہے۔میں نے بی ایس او آزاد کے پلیٹ فارم پربطور وائس چیئرمین کریمہ بلوچ کے ساتھ کام کیا تھا۔بہت سے مشکلات کا ہم نے سامنا کیا۔ ہمارے سامنے ہمارے دوست پاکستانی فوج نے اٹھائے اورجبری طور پر لاپتہ کئے جو آج تک بھی لاپتہ ہیں۔بہت سے لوگ شہیدہوئے جن میں تنظیم کے سیکر ٹری جنرل رضا جہانگیر، کمبر چاکر اور دیگر بہت سے ساتھی شامل ہیں۔

کریمہ بلوچ وہ شخصیت ہیں جس کو صرف ایک چیز آتی ہے وہ ہے جدوجہد، ثابت قدمی۔وہ ہر وقت ہر مسئلے کاانتہائی دلیرانہ انداز میں سامنا کرکے ان کو حل کرتی تھی۔اس پر ثابت قدم رہتی تھی۔لوگ شاید ایسے کردار کے بارے میں افسانوں میں پڑھے ہونگے لیکن کریمہ ایک ایسی شخصیت ہیں جس کی سوچ اورفلسفہ ہم میں موجود ہے۔ہمیں جب کوئی مشکلات ہونگے تو ضرور ان کی باتیں اور سوچ ہمیں اپنے جدوجہد کو آگے بڑھانے کیلئے انرجی دیں گی۔

جب تنظیم کے چیئرمین زاہد بلوچ کو پاکستانی فوج نے جبری طور پر لاپتہ کیاتو بی ایس اوآزاد کی قیادت نے بیٹھ یہ سوچا کہ کس طرح ریاست کو مجبور کیا جائے کہ وہ بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کا سلسلہ بند کرے۔ اس پر تادم مرگ بھوک ہڑتال کا فیصلہ ہو ا جس میں کریمہ بلوچ نے کہا کہ وہ تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گی۔میں نے کہا کہ آپ نہیں میں بیٹھوں گا۔ہماری یہ بحث چل رہی تھی کہ فیصلہ کیا گیا کہ تنظیم کی مرکزی کمیٹی کال کرینگے وہ جو بھی فیصلہ کرے اور بھوک ہڑتال کیلئے جس کا بھی نام تجویز کرے گی وہی تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھے گی۔مرکزی کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس پرکافی بحث ہوا۔وہاں دو آپشن تھے کہ تادم مرگ بھوک ہڑتال ہوگی یا خود سوزی۔آخر میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کا فیصلہ فائنل ہوا جس کیلئے بہت سارے نام تھے لیکن لطیف جوہر کا نام فائنل ہوگیا۔اوریہ طے ہوگیا کہ جب لطیف جوہر اپنی جان کی بازی ہاریں گے تو دوسرا دوست بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گے۔

ہمارے تادم مرگ بھوک ہڑتال کے فیصلے کی نواب خیر بخش مری،استاد محمد علی ٹالپراور دیگر دانشور دوستوں نے درست قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست اس طرح تم لوگوں کے سامنے نہیں جھکے گی۔وہ تو بلوچوں کی موت چاہتی ہے اور تم لوگ وہی کر رہے ہو۔ان کا کہنا تھا بھوک ہڑتال کو ختم کرو اور تم لوگوں کا زندہ رہنا زیادہ اہم ہے۔ پھر بھوک ہڑتال کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کریمہ بلوچ جب کراچی میں اس بھوک ہڑتالی کیمپ میں موجودہوتی تھیں اور اس کی نگرانی کرتی تھیں تو وہاں اس کیلئے بہت مشکلات تھے۔جس گھر میں وہ اپنی فیملی کے ساتھ رہ رہی تھیں وہاں دو تین دفعہ پاکستان انٹیلی جنس کے لوگ دھمکانے کیلئے گئے تھے۔بعد میں تنظیم نے فیصلہ کیا کہ کریمہ بلوچ کو بیرون ملک بھیج دیا جائے۔تاکہ ہمارا موقف دنیا تک پہنچ سکے۔اور اس پر عمل کرکے کریمہ بلوچ کو بیرون ملک بھیج دیا گیا۔

عندلیب گچکی
بلوچی قلمکار، افسانہ نگار

میں کریمہ بلوچ کو ذاتی طور ر جانتی ہوں کیونکہ میں اس کے ساتھ رہی ہوں۔میں کریمہ بلوچ کی ذاتی زندگی پر کچھ کہنا چاہونگی کی وہ کون تھی اور کیا تھی؟بحیثیت ایک دوست اور بحیثیت ایک بہن میں نے کریمہ کو کیسا اور کس طرح دیکھا؟پہلی بات یہ ہے کہ کریمہ ایک بہت ہی نیک اور خوش مزاج انسان تھیں۔اس کا اگرکوئی کتنا بڑا دشمن کیوں نہ ہوتاوہ اگر اس کے ساتھ کچھ وقت گزارتاتو وہ بھی اس سے متاثر ہوجاتا۔کیونکہ اس کی ایک اتنی اچھی پرسنالٹی تھی جو ہر کسی کے ساتھ دوستانہ طریقے سے پیش آتی تھی۔ہم نے دیکھا ہے انہیں جب ہم ان کے ساتھ ہوتے تھے وہ لوگوں کے بہت خیال رکھتے تھے۔وہ میری بھی بہت خیال رکھتی تھی۔

کریمہ بلوچ نہ اسلام کے خلاف تھی اور نہ ہی پردے کے خلاف تھی۔اس کی ایسی کوئی بی سوچ نہیں تھی۔البتہ اس نے ایک سو چ لوگوں میں پیدا کیاکہ عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیں، اگر انسان ہمت کرے اور ا سکی سوچ صحیح ہو تووہ کہیں سے بھی کہیں پر بھی پہنچ سکتی ہے۔کریمہ بلوچ کی وجہ سے ہر عورت کے اندر ایک ہمت پیدا ہوگئی کہ وہ اپنے نام کے ساتھ آگے آجائے۔کیونکہ پہلے عورتیں اگر لٹریچر میں بھی کچھ لکھتی تھیں تو وہ اپنی اصل شناخت چھپاتی تھیں۔

ہمارے اکثر وزرا یہ کہتے ہیں کہ ہماری وجہ سے ترقی ہوئی، پسماندگی دور ہوگئی لیکن یہ سب باتیں درست نہیں۔اس وجہ سے کوئی پسماندگی دور نہیں ہوئی البتہ کریمہ بلوچ سے بہت سے لوگ متاثر ہوئے۔ وہ چاہے سیاست ہو یا لٹریچر عورتیں اپنے اصل شناخت کے ساتھ آگے بڑھنے لگے۔ہر کوئی یہ کہتا تھا کہ اگر کریمہ یہ کرسکتا ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے۔

کریمہ بلوچ نہ صرف ایک سیاسی شخصیت تھیں بلکہ لٹریچر کے میدان میں بھی وہ آگے تھے۔ ہمیشہ شعرو شاعری کرتے تھے، مضامین وغیرہ لکھتے تھے۔ کریمہ بلوچ کی وجہ سے بلوچ خواتین میں کسی بھی میدان میں آگے بڑھنے کا ایک ہمت اور حوصلہ پیدا ہوا۔لوگوں میں شعور آگیا کہ عورتیں بھی لیڈ کر سکتی ہیں اور کسی بھی شعبے میں مردوں سے کمتر نہیں ہیں۔

دوستین بلوچ
چیف ایڈیٹر سنگر میڈیا گروپ

کریمہ بلوچ ایک ایسی خاتون تھیں جس کا آپ تصور نہیں کرسکتے بس کتابوں میں اس کے کردارکوپڑھ سکتے ہیں۔ایک جلسے میں تقریر کرنے پر کریمہ بلوچ پر جب پہلی مقدمہ درج ہوا تھاتو میں نے کہا کہ حالات بہت خراب ہیں آپ یہ علاقہ چھوڑ دیں،کہیں اور منتقل ہوجائیں تو اس کا کہنا تھا کہ میں مروں گی یہیں، میں لڑوں گی یہیں، یہی میری زمین اور میری زندگی ہے۔

کریمہ بلوچ کی ایک اور خوبی یہ تھی کہ وہ ایک انقلابی بیک گراؤنڈاستاد واحد کمبراور ڈاکٹر خالد بلوچ کی فیملی سے تعلق رکھتی تھیں۔ایک ایسی فیملی سے آیا ہوا بچہ کھبی پیچھے نہیں جاتا۔اور یہ بلوچ سماج کیلئے ایک بہت بڑا فخر ہے۔کریمہ بلوچ،بلوچ سماج میں ایک انقلاب لے کر آگئیں۔

٭٭٭

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں