بلوچستان میں ایک ہی دن میں 6 افراد لاپتہ، ایک لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد

0
141

پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ اور ایران بارڈر کے قریب پاکستانی فو ج اور خفیہ ایجنسیوں نے 6افراد کو حراست میں لیکر جبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

جبکہ بلوچستان کے علاقے مستونگ سے ایک لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد ہوگئی ہے۔

ضلع کیچ میں پاکستانی فورسز نے تین بھائیوں سمیت چار افراد کو حراست میں لینے کے بعدجبری طور پر لاپتہ کردیا ہے۔

مذکورہ افراد کو ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا ہے۔

لاپتہ ہونے والوں کی شناخت داد شاہ ولد دین محمد ھُدّین ولدعبدالرحمان، امیر بخش ولد عبدالرحمان اور عبید ولد عبدالرحمان کے ناموں سے ہوئی ہے۔

مذکورہ افراد کو بلیدہ کے علاقے زیردان سے فورسز نے گھر پر چھاپہ مارکر حراست میں لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق چھاپے کے دوران فورسز نے گھروں میں موجود خواتین و بچوں کو شدید تشدد کا بھی نشانہ بنایا۔

اسی طرح ضلع کیچ میں ایران سرحد کے قریب 2 افراد کی تشدد اور زنجیروں میں جھکڑنے کے بعد جبری گمشدگیوں کی اطلاعات ہیں۔

جن کی شناخت طاہر اور افتخار کے ناموں سے ہوئی ہے اور ان کا تعلق کراچی سے بتایا جارہا ہے۔

لاپتہ ہونے والے افراد کے اہلخانہ کی جانب سے کراچی کے علاقے لیاری کے بغدادی تھانے میں گمشدگی کی رپورٹ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طاہر اور افتخار یورپ جانا چاہتے تھے، دونوں افراد کو زنجیروں میں باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب لاپتہ ہونے والے افراد کے اہل خانہ کا بتاناہے کہ دونوں افراد سے آخری رابطہ کوئٹہ میں ہوا تھا۔

دریں اثنامستونگ سے لاپتہ نوجوان کی لاش برآمد ہوگئی ہے۔

مذکورہ نوجوان کورواں ماہ پاکستانی فورسزنے مستونگ کے قریب گھڈ کوچہ سے جبری لاپتہ کیا تھا۔

مستونگ لیویز انتظامیہ کے مطابق انہیں کھڈکوچہ کے پہاڑی علاقے میں لاش کی موجودگی کی اطلاع ملی جسے انتظامیہ نے برآمد کرکے ڈی ایچ کیو اسپتال مستونگ منتقل کردیا ہے۔

ڈاکٹروں کی مطابق نوجوان کی لاش دو روز پرانی ہے جسے گولی مار کر قتل کردیا گیا ہے جبکہ لاش مستونگ کے رہائشی نوجوان کی ہے۔جس کی شناخت نعمت اللہ ولد عرض محمد کے نام سے ہوئی ہے۔

نعمت اللہ کے لواحقین کے مطابق رواں سال 17 جنوری کو نعمت اللہ ولد عرض محمد کو سیکورٹی فورسز نے لک پاس مستونگ سے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا تھا جس کے بعد سے نعمت اللہ لاپتہ تھے۔ لواحقین نے لاپتہ افراد کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کو نعمت اللہ کی جبری گمشدگی کے تفصیلات جمع کرائے تھی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں