کشمیر کے باسیوں ہم کہاں کھڑئے ہیں ۔ تحریر۔الیاس

0
47

انقلابی پارٹی کی تعمیر کا بحران سمٹ کر انقلابی قیادت کے فقدان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔محنت کش طبقے کے مفادات کی محافظ منظم انقلابی تنظیم کی عدم موجودگی بالادست طبقات کے لیے محنت کش و محکوم عوام کے استحصال کی رائیں ہموار کرتی ہے۔ معصوم عوام جب غیر منظم ہوں اور انھیں کوئی ایسی قوت نظر نہ آ رہی ہو جو متبادل کے طور پر اپنا مضبوط وجود رکھتی ہو تو پھر عوام بار بار بالادست طبقے کی نمائندہ پارٹیوں کے استحصال کا شکار ہوتے رہتے ہیں۔چہرئے بدلنے سے عوام کے حالات نہیں بدل سکتے بلکہ حالات زندگی کو بدلنے کے لیے سماج کا بدلنا لازم ہے عوام کو ایسا سمجھانے والی قوت موجود نہ ہو تو پھر بالادست طبقات چہرئے بدل بدل کر حکمرانی کرتے ہیں اور اپنے حقِ حکمرانی کو قایم رکھنے کے لیے باریاں لگا کر وسائل کی لوٹ گھسوٹ کرتے ہیں۔عوام سے ہر طرح کی آزادی۔روزگار۔علاج اور تعلیم تک کی سہولتیں چھین لیتے ہیں۔

ایک ہی طبقے کی نمائندہ مختلف پارٹیاں بنا کر اپنے طبقاتی مفادات کے لیے عوام کو استعمال کرتے ہیں۔ریاست جموں کشمیر کے اندر ایسی ہی صورتحال کا تجزیہ کرنے کے بعد 10 اپریل 1985 کو جموں کشمیر پپپلز نیشنل پارٹی کا وجود عمل میں لایا گیا تھا۔تب ان تمام عظیم دوستوں کی ریاست جموں کشمیر کے عوام کی نجات کے لیے ایک بڑی کاوش تھی اس دور میں سائنسی نظریات کی حامل پارٹی کا وجود اتنے پسماندہ سماج میں درحقیقت بڑا کارنامہ تھا۔پارٹی اس لیے بنائی گئی تھی کہ محنت کش عوام دانشور۔معشیت دان۔انقلابی رہنما اور لاکھوں کارکن تیار کیے جائیں گے پارٹی کے قیام کے بعد کیا کچھ ہوا سب تاریخ کا حصہ ہے اس ساری تفصیل میں جائے بغیر آج ہمارے لیے سوال یہ ہے کہ ایک انقلابی تنظیم کے ممبر ہونے کے ناطے محنت کش عوام کی نمائندہ تنظیم کو تعمیر کرنے کے لیے ہم کیا رول ادا کر رہے ہیں؟۔اور ہمیں کیا رول ادا کرنا چاہیے؟آج پارٹی کے 37 ویں یوم تاسیس پر ہمارئے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ پورے ریاست جموں کشمیر کے اندر حقیقی معنوں میں کہاں پر ایک انقلابی پارٹی کی تعمیر کی سنجیدہ کوششیں ہو رہی ہیں؟

قومی و طبقاتی نجات کی تحریک منظم کرنے کا سوال ابھی ہم سے بہت دور ہے ہمارئے لیے سوال ایک انقلابی تنظیم کی تعمیری کاوشوں میں تسلسل کا ہے۔
اور یہ تسلسل موجودہ عہد میں انقلابی نظریات پر کاربند پارٹیوں میں موجود نہیں ہے بشمول جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کے۔ یہی وجہ ہے کہ انقلابی تنظیم کی تعمیر کا بحران سمٹ کر انقلابی قیادت کے فقدان میں بدل چکا ہے۔اگر کہیں پر عوام کی کوئی خود رو تحریک ابھرئے تو اسے انقلابی دھارئے میں بدلنا تو دور کی بات ہے اس تحریک کو مایوسیوں سے نہیں بچایا جا سکتا۔ہمیں تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہمارئے پاس عوام اور سیاسی کارکنوں کومایوسیوں سے بچانے کے لیے بھی متبادل کے طور پر نہ کوئی تنظیم ہے اور نہ کوئی قیادت ہے۔ 2022 میں بھی وہی سوال ہمارے سامنے اسی شدت کے ساتھ موجود ہے جس سوال کا سامنا جموں کشمیر پیپلز نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھنے والوں کو تھا۔ہمیں محض ماضی کو حرفِ تنقید بنا کر اپنے آپ کو جھوٹا سہارا دینے کے بجائے اجتماعی اور انفرادی طور پر موجودہ وقت میں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے اور یہاں سے آگے کی جانب پیش رفت کی حکمت عملی مرتب کرنی چاہیے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں