مقبوضہ بلوچستان:گوادرمیں جعلی مقابلے میں قتل کے خلاف 28 جولائی کو احتجاجی کیمپ لگا نے کا اعلان۔

0
34


مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی شہرگوادرلاپتہ افراد کی جعلی مقابلے میں قتل کے خلاف احتجاج، 28 جولائی کو احتجاجی کیمپ لگا نے کا اعلان۔
مقبوضہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں شہیدائے جیوانی چوک پر 9 لا پتہ بلوچ افراد کی جعلی مقابلے میں مارنے اور مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ یہ مظاہرہ بدھ کے روز بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے زیر اہتمام لاپتہ افراد کو زیارت کے مقام پر قتل کرنے پر کیا گیا۔ مقررین میں بی این پی عوامی کے مرکزی ہیومین سکریٹری سعید فیض، نیشنل پارٹی کے ماہی گیر سکریٹری آدم قادر بخش، تحریک انصاف کے رہنما مولا بخش مجاہد، بی ایس او کے مرکزی سیکرٹری جنرل ماما عظیم، خاتون رہنما عارفہ عبداللہ، بی ایس او پجار کے ظریف بلوچ، بی این پی کے نور گھنہ، سول سوسائٹی تربت کے کنوینر گلزار دوست، بی ایس او عوامی کے کامریڈ ظریف زدگ اور دیگر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو نوجوان حالیہ دنوں قتل کئے گئے تھے یہ 2020 کو حراستی کیمپوں میں بند سزا کاٹ رہے تھے۔ لیکن ان کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا اور کہا گیا کہ یہ مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ ظلم و بربریت کی اعلیٰ مثال قائم کی گئی ہے۔ مقررین نے کہا کہ اب پانی بجلی کے ایشوز سے زیادہ تعیم یافتہ نوجوانوں کی زندگی اور ان کی بقا کا مسئلہ ہے۔ جو نوجوان شہید کئے گئے تھے وہ تعلیم یافتہ اور زیادہ تر کمپوٹر ٹیکنیشن تھے جو بلوچستان کے مستقبل تھے ان کو شہید کیا گیا ہے جس کی ہم سخت ترین الفاظ سے مذمت کرتے ہیں۔ اس دوران انھوں نے کہاکہ اسی طرح گزشتہ دنوں دالبندین میں ایک 14 سالہ بچی کو بھی اغوا کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس او اور ہمارے ساتھی تعلیم یافتہ ہیں۔ اور ہم ان لیڈروں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلزار دوست قابل ستائش ہیں کہ انہوں نے تربت سے کوئٹہ پیدل مارچ کرکے لا پتہ نوجوانوں کی بازیابی کے لئے قربانی کی اعلیٰ مثال قائم کی ہے۔ جلسہ سے خطاب میں کہا کہ اب گوادر کے غیور عوام تیاری کریں ہم ان کے ساتھ انشا اللہ جلد موٹر سائیکل، رکشہ، ٹرکوں اور بسوں سے ایک ریلی کی صورت میں کوئٹہ لانگ مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی ہمارے بے گناہ 5ہزار نوجوان قلی کیمپ میں اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں ہم بین الاقوامی انسانی ہیومین کمیشن سے اپیل کرتے ہیں کہ جو نوجوان قلی کیمپ میں بند ہیں ان کو عدالتوں میں پیش کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بلوچستان کی سیاسی وسماجی جماعتیں، بلوچستان کے تمام صحافی قلمکار میدان میں آئیں اور اب بلوچ کی زندگی اور اس بقا کی جنگ میں شامل ہوں۔ انھوں نے اعلان کیاکہ 28 جولائی کو ایک تاریخی کیمپ لگا کر سخت احتجاج کریں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں