بلوچستان کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ جبری گمشدگیوں کا ہے، بی این ایم برلن کانفرنس

0
59

جرمنی کے شہر برلن میں بی این ایم کے ایک روزہ کانفرنس کے دوسریحصے میں بلوچستان میں بڑھتی ہوئی جبری گمشدگی اور بین الاقوامی برداری کے کردار پر مباحثہ کیا گیا۔ دوسرے سیشن میں نامور ادیب و دانشور ڈاکٹر عائشہ صدیقہ، تاریخ نویس ڈاکٹرن صیر دشتی اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے خطاب کیا۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا پاکستان کے زیر قبضہ بلوچستان میں بلوچوں کو درپیش مسائل میں سے جبری گمشدگی اور قتل کرکے لاشیں پھینکنے کی ریاستی پالیسی سب سے سے بڑا مسئلہ ہے۔

انھوں نے کہا حال ہی میں شال میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے احتجاجی دھرنے میں جبری لاپتہ افراد کے خاتون رشتہ دار، ان کی ماں، بہنیں اور بیٹیاں ایک ہاتھ میں اپنے بچوں اور دوسرے ہاتھ میں مائک پکڑ کر اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے فریاد کر رہی تھیں۔احتجاج میں بیٹھیں خواتین کے جبری لاپتہ عزیز دہائیوں سے جبری لاپتہ ہیں۔رواں سال جولائی میں پاکستانی فورسز نے جعلی مقابلے میں 11 زیرحراست جبری لاپتہ افراد کو قتل کرکے ان کی لاشیں پھینکیں۔

’جعلی مقابلوں میں شہریوں کا قتل کرنے کا سلسلہ بلوچستان میں نیا نہیں۔1970ء میں گاؤں کے گاؤں جلائے گئے اور ایک دن میں ہزاروں شہریوں کا قتل کیا گیا، یہ ایک تسلسل کے ساتھ جاری نسل کشی ہے۔بلوچوں کی نسل کشی کی جڑیں پاکستان کے قیام سے پیوست ہیں۔ ریاست پاکستان ہمیں ہماری ثقافت، زبان اور ہماری شناخت سے ہمیں محروم کرنا چاہتی ہے۔‘

انھوں نے کہا پاکستانی میڈیا اور دیگر ادارے بلوچستان میں بلوچ نسل کشی میں برابر کے شریک ہیں۔

بی این ایم کے چیئرمین نے کہا پاکستان پہلے بلوچستان، گلگت بلتستان، سندھ اور پشتونوں پر مظالم کے لیے تنہا تھا آج اسے چین کی شکل میں ایک شراکتدار ملا ہے جسے استحصال اور مظالم کا ایک وسیع تجربہ ہے۔چین نے بلوچستان میں بلوچ نسل کشی کے لیے پاکستان سے ہاتھ ملایا ہے کیونکہ اس کا مقصد گلگت بلتستان، سندھ اور بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار ہے۔

انھوں نے کہا تبت سے لے کر مشرقی ترکمنستان اور ہانگ کانگ سے لے کر تائیوان تک چین کو استحصال اور نسل کشی کا وسیع تجربہ ہے۔چین ایک ایسا ملک ہے جسے اپنے ملک میں بھی انسانیت اور انسانی حقوق کی قدر نہیں۔

’بیس لاکھ سے زیادہ اویغور مسلمان اس کے کنسٹریشن کمیپ میں تشدد سہہ رہے ہیں اور انھیں بلوچوں کی طرح نسل کشی کا سامنا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ہماری قومی جدوجہد پاکستانی قبضے سے آزادی کے لیے ہے۔ہمیں یقین ہے کہ ہماری جہدوجہد خطے کے محکوم اقوام کے لیے ایک متاثر کن تحریک ہے۔یہ اس لیے نہیں کہ ہم دنیا میں دہشت گردی کے مرکز پاکستان کے خلاف لڑ رہے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ہم تہذیبی تنوع، قومی اختیار اور اقلیتی اقوام کے نسلی حقوق کے لیے بھی لڑ رہے ہیں۔

چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا ہم بالواسطہ پاکستان کے اتحادی چائنا سے نبرد آزما ہیں اور اس کی گوادر میں موجودگی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ہماری کامیابی ان تمام محکوم اقوام کی کامیابی ہوگی جو کہ چین کے استحصالی منصوبوں کا شکار ہیں۔ہمارے وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ چین کی آبنائے ہرمز پر موجودگی خطے اور دنیا کے عسکری اور معاشی مفادات پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔

انھوں نے شرکاء کی طرف سے ایک سوال کے جواب میں کہا بی این ایم تمام بلوچ سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتی ہے۔ ہم نے اس پروگرام کے لیے ایف بی ایم اور بی آر پی کے مرکزی رہنماؤں کو بھی دعوت نامے دیے تھے اور ہم آئندہ بھی اشتراک عمل اور یکجہتی کی کوشش جاری رکھیں گے۔

انھوں نے کہا وہ دیگر بلوچ قوم دوست جماعتوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔

نامور مصنف ڈاکٹرعائشہ صدیقہ نے کہا ہمیں جبری گمشدگی کی تعریف کو وسیع کرتے ہوئے اس کے وجوہات اور مقاصد کو تلاش کرنا ہوگا اور اس کی مختلف شکلوں کی نشاندہی کرنی ہے۔پاکستانی ریاستی عناصر لوگوں کی آواز کو خاموش کرنے کے لیے جبری گمشدگیاں کر رہے ہیں۔ہمیں متحد ہوکر جبری گمشدگیوں کے تمام شکلوں کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔

’انھوں نے کہا عدالت سے ضمانت حاصل کرنے کے باوجو د علی وزیر جیل میں ہیں یہ طاقت کا مجرمانہ استعمال ہے۔لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زندگی اور اپنی سرزمین کے لیے منصوبے اور خواہش رکھیں ریاست کو انھیں روکنے کا حق نہیں۔‘

عائشہ صدیقہ نے کہا بلوچوں کو پاکستانی بندوبست کے دیگر اقوام سے جڑ کر انھیں اپنی تحریک اور اپنے مسائل سے آگاہ کرنا چاہیے۔بلوچ ایک کمرے میں بیٹھ کر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے انھیں دیگر لاکھوں لوگوں سے جڑ کر ان کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔میڈیا بلیک آؤٹ کی وجہ سے پاکستان میں لوگوں کو پتا نہیں کہ بلوچستان میں کیا مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔‘

انھوں نے کہا نوجوان نسل کے ایسے ہزاروں افراد ہیں جنھیں بلوچوں کے بارے میں معلوم ہونا چاہیے۔

تاریخ نویس ڈاکٹر نصیر دشتی نے کہا پاکستان آئندہ ایک دو سال میں دیوالیہ ہوجائے گا اور جیسے ہی پاکستان دیوالیہ ہوگا اس میں توڑ پھوڑ کے عمل میں تیزی آئے گی اور اب دنیا کے دیگر ممالک اس کی مزید مالی مدد نہیں کریں گے۔پاکستان کا ٹوٹنا ایک سچائی ہے جسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا لیکن ہمیں یہ جائزہ لینا ہوگا کہ کیا پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد ہم آزاد ہوں گے یا ماضی کی طرح تب بھی ہماری قسمت نہیں بدلے گی۔

انھوں نے کہا ان حالات میں بلوچ لیڈرشپ اور سیاسی کیڈر کا کردار انتہائی اہم ہے۔اگر یہاں بھی ہم نے اپنے بزرگوں کی طرح غلطی کی جو یہ سمجھتے تھے کہ برطانیہ انھیں پاکستان کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیار مہیا کرے گا جب کہ سچائی یہ تھی کہ پاکستان برطانیہ کے شہہ پر بلوچستان پر قبضے کی کوشش کر رہا تھا۔ اپنے اپنی غلطیاں دہرائی تو ہم ان حالات میں بھی اپنی آزادی سے محروم ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا مسلم لیگ انگریز سرکار کے افسران نے تشکیل دی تھی اور یہ تاریخ کا انوکھا ملک ہے کہ جس کے نام نہاد جنگ آزادی کے دوران کسی کی نکسیر تک نہیں پھوٹی۔جنگ عظیم دوم کے بعد دنیا کے حالات تبدیل ہوچکے تھے کالونیل طاقتیں اپنی کالونیاں چھوڑنے پر مجبور ہوئے یہاں سب سے بڑی کالونیل طاقت برطانیہ تھی جس نے اپنی کالونیوں کو اس طرح آزاد کیا کہ آج تک یہاں کے حالات میں سدھار پیدا نہیں ہوتا۔

ڈاکٹر نصیر نے کہا سویت یونین کا عالمی طاقت ہونا، خلیجی ممالک میں تیل کی دریافت اور چین میں کمیونسٹ قوتوں کی طاقتور ہونے کے خوف سے برطانیہ نے بلوچستان کے ساتھ کیے گئے معاہدہ جاریہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلوچستان کی آزادی چھین کر اسے پاکستان کے قبضے میں دیا۔

دوسرے سیشن میں ہیومین رائٹس کمیشن بلوچستان کی چیئرپرسن بی بی گل بھی آنلائن شریک ہوئیں لیکن تکنیکی وجوہات کی بناء پر اپنی تقریر مکمل نہ کرسکیں۔

انھوں نے بیرون ملک مقیم بلوچوں پر زور دیا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہوئے عالمی اداروں کو بلوچستان کے حالات کے بارے میں بروقت آگاہ کرتے رہیں۔

بی این ایم برلن کانفرنس 2022 دو حصوں پر مشتمل تھی پہلے حصے میں بلوچستان اور خطے کے محکوم اقوام کے موضوع پر سندھی دانشور اور ورلڈ سندھی کانگریس کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر لکھو لوہانہ، ورلڈ اویغور کانگریس کے صدر دولکون عیسی، کرد سیاسی رہنماء ماکو قوگیری اور بلوچ نیشنل موومنٹ کے جونیئرجوائنٹ سیکریٹری حسن دوست بلوچ نے خطاب کیا تھا۔

کانفرنس کی نظامت کے فرائض بی این ایم جرمنی چیپٹر کی نائب صدر سمل بلوچ نے انجام دیے۔ مذکورہ کانفرنس سوشل میڈیا پر لائیو دکھایا گیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں