پاکستانی زیر قبضہ کشمیر اورہندوستانی کشمیر میں خورد نوش کی قیمتوں میں نمایاں فرق۔ رپورٹ

0
150

ہندوستانی کی آزادی کے بعد انگریز اور دیگر قوتوں نے بر صغیر میں اپنے لیے ایک پروکسی ریاست کے لیے پاکستان کو اسلام کے نام پر وجود میں لا کر دنیا اور آج اس نہج پر پہنچایا کہ اس اسلامی شدت پسند ریاست نے پورے دنیا کے امن و شامنی کو تباہ کر دیا ہے۔

جموں کشمیر کی ریاست کو پاکستانی اسٹبلشمنٹ اور بیرونی قوتوں نے نہیں بخشا اور اسے مذہب کے نام پر خون ریزی کا قبرستان بنا دیا اور یوں مہراجہ کو اپنی رعایا کی حفاظت کے لیے ہندوستان سے مدد لینا پڑا دوسری جانب پاکستانی فوج نے اپنی مذہبی شدت پسندی جو انکی کمائی کا اہم ذریعہ تھا جموں کشمیر کے عوام کو خون سے نہالا دیا۔

یوں جموں کشمیر کو تھوڑ کر اسکی وسائل سے آج پاکستان سیراب ہو رہا ہے مگر وہاں کے لوگ آج بھی بنیادی ضروریات زندگی کی چیزوں سے محروم ہیں،پانی کا اہم ذریعہ ہوتے ہوئے بھی کشمیری آج بجلی،پانی کو ترس رہے ہیں۔

اس رپورٹ میں ہم نے صرف کوشش کی ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر جسے نام نہاد آزاد کشمیر کہا جا تا ہے اور ہندوستان کے کشمیر میں روز مرہ کی ضروریات زندگی کے اشیاء کے نرخوں میں کتنا فرق ہے۔
پاکستانی زیر قبضہ کشمیر۔ ہندوستانی کشمیر
۔آلو لال۔پچاسی روپے۔۔۔ سولہ روپے
۔آلو سفید۔ پچپن روپے ۔۔ چودہ روپے
۔پیاز۔ دو سو دس روپے ۔۔ تیس روپے
۔ ٹماٹر۔ ایک سو نوے روپے۔۔ پپچیس روپے
۔ہری مرچ۔ تین سو پچاس ۔۔۔ تیس روپے
۔گاجر۔ پچاسی روپے ۔۔ بیس روپے

نیز تمام اشیا جو نام نہاد آزاد کشمیر کے سرکاری پرائز لسٹ میں ہیں انکی قیمتیں ہندوستان کے مقابلے میں اگر کرنسی ریٹ کو بھی مدے نظر رکھا جائے تو دو سو فیصد فرق ہے۔

زیر نظر تصاویر میں ایک ہی تاریخ کی قیمتوں کا موازنہ کیا جا سکتا ہے۔

پاکستانی رہٹ

اگر کرنسی ریٹ کو بھی مدنظر رکھا جائے تو آپ انڈین قیمتوں ڈبل سے تھوڑا زیادہ کر کے چیک کر لیں پھر بھی ایک واضع فرق موجود ہے۔یہاں سوال صرف جموں کشمیر کا نہیں یقینا” ایسے ہی ریٹ لاہور اور امرتسر میں بھی ہوں گے۔

ہندوستانی کشمہر ریٹ

پاکستانی کی مذہبی و شدت پسند پالیسی نے عوام کو فاقے و خود کشیوں پر مجبور کر دیا ہے جبکہ سیاست دان اور فوجی آفیسران امیر سے امییر تر ہوتے جا رہے ہیں۔
لوگ ہی حکمرانوں کو مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ خطے میں تجارت بحال کریں کیونکہ حکمران اور اشرافیہ کو مہنگائی سے کوئی اثر نہیں پڑتا لات صرف غریب کے پیٹ پہ پڑتی ہے۔سیاسی تنازعات وقت کے ساتھ حل ہو جائینگے لیکن انکے باعث معاشی سرگرمیوں پر پابندی ایک بہت بڑا ظلم ہے جو اس خطے کے غریب اور مظلوم لوگوں پر ہورہا ہے۔

آج جموں کشمیر کے عوام آٹے،شکر،بجلی و دیگر سامانوں کی مہنگائی سے دو وقت کی روٹی سے قاصر ہیں،عوام اپنے ہر مظاہرئے میں یہی التجاء کرتی دیکھائی دیتی ہے کہ انکے جینے کا حق دیا جائے ورنہ وہ جموں کشمیر کی حق خود اداریت کے لیے سوجھنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں