آخر کب تک؟ …. الیاس کشمیری

0
149

کسی بھی انسان کی ناگہانی موت کا کوئی نہ کوئی ضرور ذمہ دار ہوتا ہے اور کسی انسان کے قتل کا ذمہ دار قاتل ہوتا ہے۔ ایسی موت کے ذمہ دار کا تعین کرنا ریاست کا کام ہوتا ہے اور جو قتل چھپ کر کیا جائے اس کے قاتل تک پہنچنا اسے گرفتار کرنا اور سزا دینا بھی ریاست کا فرض ہوتا ہے۔ چونکہ ریاست شہریوں سے ٹیکس اس لئے لیتی ہے کہ ان کی جان و مال کی حفاظت کرے گی، اگر کسی نا گہانی موت کے ذمہ دار کا تعین نہیں ہوتا یا قتل کا سراغ نہیں ملتا تو پھر ایسی موت کی ذمہ دار اور قاتل ریاست ہوتی ہے۔

نوید کے قتل کیس کو لیکر کیسے اور کس طرح کی پیش رفت ہوتی ہے لوگوں کی تمام تر توجہ ریاست کے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مرکوز ہے۔

میت کی تدفین کے بعد نوید مرحوم کے والدِ محترم مجید صاحب نے پورے یقین کے ساتھ کہا ہے کہ میرا بیٹا نوید خود کشی نہیں کر سکتا۔

خاندانی زندگی میں نوید کی اپنی بیوی کے ساتھ بہت اچھی انڈر سٹینڈنگ تھی ان کے درمیان کبھی کسی بات پر نا چاکی یا اختلاف نہیں ہوا۔ میرے اور نوید کے درمیان کوئی ٹینشن کوئی اختلاف نہیں تھا اور نہ ہی اپنی ماں کے ساتھ ایسی کوئی ٹینشن یا اختلاف تھا ہم چار لوگوں کے علاوہ نوید کے دو چھوٹے معصوم بچے ہیں۔ میں واپڈاسے ریٹائرڈ ہوں اور نوید واپڈا کا حاضر سروس ملازم تھا، ہمارا مختصر سا خاندان ہے جس میں ہم بالکل پر سکون اور خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ علاوہ ازیں نوید نے کسی کا نہ کوئی قرض دینا تھا اور نہ کوئی مالی لین دین تھا جس کی اسے ٹینشن ہوتی، نوید کی کوئی معاشی و مالی مشکلات نہیں تھیں۔

میرے بیٹے کی زندگی میں کوئی ایسی بات تھی ہی نہیں جس کی بنیاد پر وہ خود کشی کرتا۔

نوید نے خود کشی نہیں کی ہے،نوید کو قتل کیا گیا ہے یہ قتل کس نے کیا؟؟ اور کیوں کیا؟؟ اس کا مجھے علم نہیں اور نہ ہی کسی پر شک کر سکتا ہوں، اس اندھے اور بیمانہ قتل کا سراغ لگانا انتظامیہ اور پولیس کا کام ہے ان کے اس کام میں میں ان کے ساتھ مکمل تعاون کروں گا۔

نوید محروم کے والد محترم کی اس گفتگو کے علاوہ پورا گاﺅں اور نوید محروم کے ساتھ کھیل کے میدان سے لیکر سماجی نوعیت کے تعلقات رکھنے والا ہر فرد پورے یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ نوید نے خود کشی نہیں کی ہے بلکہ اس کا سو فیصد قتل ہوا ہے۔

اب اس قتل کا کوئی تو ذمہ دار ہے اس کا کوئی تو قاتل ہے اور اس قاتل کا تعین کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ نوید اس ریاست کا شہری ہی نہیں بلکہ ریاستی ادارے میں ملازم بھی تھا۔ تمام لوگ یہ توقع رکھتے ہیں کہ ریاست جلد از جلد نوید کے قاتل کو گرفتار کرے گی۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر نوید کی قاتل یہ ریاست ہو گی، چونکہ ایسی دردناک موت کا کوئی تو ذمہ دار ہوتا ہے اور جب ایسی موت کے ذمہ دار کا تعین نہ ہو تو پھر ریاست ہی ایسی موت کی ذمہ دار ہوتی ہے۔

یہاں اکثر ایسی اموات کے ذمہ دار کا تعین نہیں ہوتا۔ ہم پے در پے نوجوانوں کی لاشیں کندھوں پر اٹھاتے ہیں وقتی طور پر جذبات کا اظہار کرتے ہیں، میت کو دفناتے ہیں دعا خیر کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں کچھ عرصہ گزرنے کے بعد پھر جب لاشہ ملتا ہے تو نئے جذبات کے ساتھ کندھا آگے بڑھا دیتے ہیں۔

ڈیڑھ سال پہلے اسی گریڈ اسٹیشن میں ذبح ہونے والے نوجوان کے قتل کو ہم بھول چکے تھے، گزشتہ سال قتل ہونے والے حمزہ امتیاز کے قتل کو ہم بھول رہے تھے کہ نوید کا قتل ہو گیا ہے اور سچ یہی ہے ہم مانیں یا نہ مانیں آج سے چھ ماہ بعد نوید کا قتل بھی قصہ پارینہ بننا شروع ہو جائے گا چونکہ ہمارا اجتماعی مزاج ایسی موت کے ذمہ دار کے تعین کی شدید مانگ کرنا نہیں ہے بلکہ ہمارا اجتماعی مزاج تدفین کرنا، سب اللہ کی مرضی، جنت میں اعلیٰ مقام اور دعائے مغفرت کر کے بھول جانے کا ہے اور ہمارا اجتماعی مزاج اگلے لاشے کے انتظار کا ہے، اس اجتماعی مزاج کو لیے ہم کب تک یہ جوان لاشے اٹھاتے اور دفناتے رہیں گے؟

کب تک ایسے درد ناک اور بیمانہ قتل کو خود کشی سمجھتے اور مانتے رہیں گے؟
کب تک نوجوانوں کی لاشیں موت کے ذمہ دار کے تعین کے بغیر دفناتے رہیں گے؟
آخر کب تلک؟
٭٭٭

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں