پاکستانی زیر قبضہ کشمیر اور بھارتی جموں کشمیر میں آٹے کی قیمتوں میں فرق کا توازن

0
132


بھارتی جموں کشمیر اور پاکستانی زیر مقبوضہ جموں کشمیر میں آٹے کی قیمت کے درمیان کتنا فرق ہے، نیچھے دئے گئے اعداد و شمار سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام کے نام پر کشمیریوں کو غلام بنانے والے پاکستان میں کشمیری عوام کی صورت حال کیا ہے اور عوام کس طرح ضروریات زندگی سے محروم اور آٹے و روٹی کے لیے ترس رہے ہیں۔
اعلی معیاری چکی کے آٹے کی بھارتی جموں و کشمیر میں ایس ایل کا آٹا 10 کلو گرام کا 325 میں ملتا ہے۔ جبکہ 50 کلو والا تھیلا 1500 کا مل رہا ہے، جبکہ اس سے معیار میں کم اقسام والوں کی قیمت بھی ان سے کم ہے۔
جبکہ ادھر جوپاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر والے ہیں یہاں نایاب اور فائن آٹا بیس کلو والی تھیلی،3200 سے 2700 اور 2800 میں مل رہی ہے،۔

اور یہاں،آج عوام، آٹا کے لیے ترس رہی ہے، نہ یہاں کی عوام کو آزادی دی گی، نہ قابل ذکر تعلیم ہے نہ صحت ہے اور نہ سڑکیں ہیں، نہ بنیادی انسانی حقوق ہیں اور انسانی حقوق کی پامالیاں بھی بڑی بے مثال ہیں اور پھر بھی اس کا نام آزاد جموں و کشمیر کا دیا گیا ہے، عوام کے مطابق ہمارے سارے وسائل لوٹ کر کھائے جا رہے ہیں ایک تنکا تک نہیں دیا گیا ہے۔

اور یاد رہے کہ پاکستان نے اور اسکے آلہ کار طبقہ نے اپنے مفادات کے لیے اس خطہ کو اسلام ازم کے نام پر ریاست جموں و کشمیر سے اس لئے الگ کرایا تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ ڈوگرہ ہے، ہندو ہے اور مسلمانوں پر ظلم کرتا ہے اور ٹیکس لیتا ہے، لیکن پچھتر سال گزرنے کے باوجود اب یہاں کی عوام یہ کہنے پر مجبور ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اس سے اچھا دور / وقت مہاراجہ کا تھا،

پاکستا ن کہتا ہے کہ اس پار والے کشمیر پر کافروں کا قبضہ ہے، لیکن یہاں جو نوبت ہے وہ وہاں نہیں ہے، کشمیر کے عوام پر پاکستانی ریاستی جبر و ستم اور انسانی حقوق کی پامالیوں سے میں روز اضافہ ہو رہا ہے کہ ، لیکن مقافات عمل ہے کہ اب عوام یہ کہہ رہے ہیں کہ ہندوستانی کشمیر میں کھانے سستا آٹا، پینے کو پانی، تعلیم کے لیے درس گاہیں، سفر کے سڑکیں، علاج کے لیے ہسپتال تو ہیں، کسی نا کسی شکل میں روزگار تو ہے، پاکستانی زیر قبضہ کشمیر سے وہاں کی صورت حال ہزار درجہ ہر حوالے سے بہتر ہے۔

ایک رہنما کے مطابق آج یہ کیا ہوا کہ یہاں کی عوام، وہاں کے حالات کو بہتر قرار دے رہی ہے؟ یہاں کے عوام اب استحصال کو سمجھنا شروع ہو چکے ہیں۔ اور اب عوام یہ تسلیم کر چکے ہیں اور کر رہے ہیں کہ 1947 میں مہاراجہ ہری سنگھ کی ریاست کا توڑنا بڑا ظلم اور ناقابل فراموش غلطی تھی۔ اب اس عوام کو صرف آزادی سے ہوئی غرض نہیں بلکہ یہ قومی سوال کے ساتھ طبقاتی سوال پر بھی غور و فکر کر رہے ہیں۔ اب یہ کہہ رہے ہیں کہ آزادی تو ہمارا حق ہے ہی لیکن نظام بدلو اور آٹا سمیت بنیادی حقوق، سہولیات دو، طبقات کا خاتمہ کرو۔

مقامی لوگوں کے مطابق آج کل انٹرنیٹ کا دور ہے آپ بھی گوگل پر سرچ کر کے روانہ کے ریٹ سرچ کر سکتے ہیں۔ جبکہ یہاں نام نہاد آزاد جموں و کشمیر کے حالات تو انٹرنیٹ، بجلی، پیکج نہ ہونے کے باوجود دن رات سرچا سرچ ہو رہے ہیں۔
عوام اب پاکستانی جبری قبضہ کے خلاف اندر سے آگ بھگولا ہو چکے ہیں اور جانے کب یہ لاوا پٹ جائے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں