درونت کو سنیں – مھلب ندیم

0
183

بقول  یووال نو ہراری کے تاریخ ہمیں ماضی سے آذاد کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے اور ہیگل کا کہنا ہے کہ کسی قوم کا مستقبل چھیننا ہو تو اس کی تاریخ کو مسخ کریں یا دور رکھیں-  تاریخ اسی صورت مسخ ہوگئی جب اس کے لوگوں کو تاریخ سے دور رکا جائے یا غلط پڑھایا جائے بدقسمتی سے بلوچ قوم کے ساتھ  ایک نیو کالونیل اسٹیٹ یہی کچھ کررہی ہے تاریخ کو مسخ کرنے میں اس نے کوئی کثر نہیں چھوڑی ہے جیسے کہ یوسف عزیز مگسی اور گل خان  سمیت کئی اکابرین کو پاکستانی درسی کتابوں میں جناح کا ہمنوا بتایا گاہے جوکہ سرا سر غلط اور پراپگنڈہ پر مبنی کے علاوہ کچھ بھی نہیں، گزشتہ دنوں میں  سوشل میڈیا کے معروف سائٹ یوٹیوب کو دیکھ رہی تھی خوش قسمتی سے مجھے درونت کے نام سے ایک چینل ملا جوکہ ابھی  شروع کی گئی ہے بلوچستان کی تاریخ کا ایک نایاب اور اہم کتاب بلوچستان کا مسلہ اس میں ڈیجیٹل فام یعنی آڈیو کی شکل میں ریویو کیاگیاتھا جوکہ مجھے بہت پسند آئی اور میری خواہش ہے کہ تمام وہ لوگ جو کہ بلوچ تاریخ کی اصلی شکل کو جاننا چاہتے ہیں لازمی اس چینل کو وزٹ کریں اور سنیں تاکہ تاریخ کی اصل اور صحیح سمت کا انہیں علم ہوسکے بے شک تاریخ کو نہ سمجھنا اپنی ذات کو بھلانے کا مترادف ہے۔
جب میں نے درونت دیکھی اور سنی پھر میرا خواہش یہ ہوا کہ میں  ان سے رابطہ کرکے ان کی اس بہترین کاوش پر ان  کو  مبارک باد دوں کیونکہ اس وقت ہر اقوام اور لوگون کی معلومات صحیح معنوں میں انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں لیکن ہماری بلوچ قوم کا خاص کر ڈیجیٹل شکل میں تاریخ نہ ہونے کا برابر ہے میں رابطے میں کامیاب ہوگئی اور مجھے درونت سے جڑا شخص نے بتایا کہ وہ عنایت اللہ بلوچ کا کتاب بلوچستان کا مسلہ بہت جلد آڈیو کی شکل میں اس پلیٹ فارم  پرپوسٹ کریگا اور اس کے ساتھ ہی وہ مذید بلوچ تاریخ کی کتابیں بھی آڈیو کی شکل میں لائے گا جیسا کہ گل خان نصیر کی کتاب کا آڈیو اور فاروق بلوچ کی  کتاب، حمید بلوچ اور سلیگ ہیریسن کی کتابوں کا بھی آڈیو بنایا جارہاہے مجھے دلی خوشی ہوئی اور میں نے انہیں مبارک باد بھی دی اور آپ لوگون سے سننے کا بھی استدعا کرتاہوں تاکہ ہم اپنی تاریخی ورثہ سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔
عنایت اللہ بلوچ کا کتاب اسلئے اہم ہے کہ شاید یہ بلوچ تاریخ کا سب سے اہم اور نایاب کتاب ہے اور گوکہ اس کی اردو ترجمہ میں کچھ لفظی اور ٹرانسلٹر کی طرف سے غلطی موجود ہے پھر بھی یہ اہم کتاب ہے کیونکہ یہ بہت بڑی ریسرچ اور کوشش کے بعد لکھی گئی ہے اس میں آپ کو یہ پڑھنے کو ملے گا کہ بلوچستان کی بندر بانٹ کیسے اور کیونکر ہوئی اور اس کے سیاسی محرکات کیاتھے,11 اگست 1947 کی قانونی حیثیت کیاہے اور آگے آپ یہ پڑھینگے کہ 1947کو خان نے اسمبلی سے   بلوچی تقریر کی  انہون نے نو آبادیاتی   طرز کے برعکس بلوچی میں خطاب کیا  جب کہ انگریزی راج میں یہ فارسی یا اردو میں کی جاتی تھی خان نے  واضح  طورپر کہا کہ میں آج آپ لوگوں سے بلوچی میں خطاب کرنے پر فخر محسوس کرہاہون۔
  پھر بلوچستان کی آئیں کی تشکیل کی گئی اور وزرا کونسل بھی بنایا گیا مجلس قانون ساز مرتب شدہ آئیں و قانون ساز اداروں پر مشتمل تھا ایوان زیریں کی کل ممبران کی تعداد 55  تھی۔
آگے پارلیمنٹ کا چناو ہوا یہ ان قوم پرستوں کی جیت تھی جوکہ 1920 سے ایک جمہوری اور خودمختار عظیم تر بلوچستان کیلئے کوشاں تھے۔
پاکستان کی طرف جب الحاق کا دباؤ بڑھا تو خان نے کیسے دار امرا اور العلوم کا اجلاس طلب کیا اس میں قلات نیشنل پارٹی کے سرکردہ لیڈر نے کیسے پاکستان کی الحاق والی دباؤ کو مسترد کردی اور یہ کہا کہ ہم اپنی مستقبل کو نہیں بھیج سکتے اور شورش نے کہا کہ ہم زخمی ضرور ہونگے لیکن دشمن کا چہرہ ضرور نوچ لینگے پھر آگے مزید یہ کہ پرنس کریم نے کن الفاظ میں خط لکھ کر جناب احمد یار خان کو کیسے طنز کی کہ کیسے آپ نے جناح کا بیٹھے ہونے کا واقعی حق ادا کیاہے بہترین طورپر اس کتاب کے ابواب میں حق خودارادیت کا تجزیہ کیاگیا ہے اور بلوچستان کے تناظر میں اس بات کو پر رکھاگیاہے ، کئی اکابرین کی تفصیلی انٹرویو بھی شامل ہیں” حکومت  برطانیہ کی پالیسی اور قلات کے ہتھیاروں کا بھی تفصیلی حوالے شامل ہے جیسے کہ برطانیہ کی ملی بھگت سے یہ سب کچھ پاکستان نے کیا اور برطانیہ نے اسے شئے دی کہ وہ بلوچستان کا انضمام کروائے پھر پاکستان نے فوجی کاروائی کرکے بلوچستان پر قبضہ کرلیا۔
پاکستان کی الحاق کے حوالے سے پالیسی پر بھی سیر بحث کی گئ ہے 14 فروری کو جناح کے ایک خصوصی سفیر ایس پی شاہ نے خان سے ملاقات کی اور الحاق نامہ پر دستخط کرنے پر زور دیا بال آخر آگے جاکر پاکستان کی پالیسیوں سے ریاست قلات کی تحلیل ہوئی اور پرنس کریم نے بغاوت کردی۔
ایک بلوچ لکھاری نے خان میر احمد یار خان کے حوالے لکھانے کہ نصیر خان اول نے بلوچوں کو  متحد کیا نصیر خان دوئم نے اس اتحاد کو برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد کی خدائے داد خان نے اپنی پوری زندگی حکومت کو منظم کرنے میں گذاری محمود خان دوئم نے ریاست کی خاطر کفن ہمیشہ تیار رکھا اور احمد یار خان موجودہ خان نے اپنی تمام زندگی کی ناز اور شان و شوکت کو دفن کردیا، بلوچ قومی مزاحمت پر تفصیلی نوٹ بھی شامل  ہے جوکہ قابل خوانگی ہے
اس کتاب میں بلوچستان کا نقشہ مع تفصلیوں کا بھی شامل کیا گیا ہے امید ہے کہ آپ درونت سے اس کتاب کو سنکر لطف اندوز ہونگے اور اپنی تاریخ کا مطالعہ کرینگے روسو نے انقلاب فرانس سے قبل کہاتھا کہ خداکرے کہ میری قوم تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ کرے آج یہ سب کچھ کی ضرورت ہماری قوم کو ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں