یتیم کشمیر کی بیٹی،قابض پاکستانی سامراج کی جبر کا شکار۔رپورٹ

0
15

پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی ایک یتیم لڑکی کو آفسرشاہی و پاکستان تحریک انصاف کے کرتا درتوں کے وارثوں نے بے دردی سے لہولہان کر دیا،مگر ایف آئی آر درج ہونے سے پہلے ہی پولیس نے یہ کہہ کر کیس بند کر دیا کہ اسے حادثہ سمجھیں ورنہ صاحب لوگ ناراض ہونگے۔

گزشتہ روز میں باغ کے گاوں کوٹیٹرہ مست خان گاوں سے تعلق رکھنے والی ایک یتیم لڑکی کو اسکے بھائی کے سامنے چند لڑکوں نے موٹر سائیکل سے پیچھا کر کے چھڑنے کی کوشش کی اور اسکے ساتھ ہی اسے شدید زخمی کر دیا۔
زخمی یتیم لڑکی اور اور اس کے چھوٹے بھائی کی بے بسی پر بے شمار لوگوں نے ہمدردی کا اظہار کیا لیکن وہاں ان لڑکوں کے بارے میں لڑکوں کے ورثاء کی طرف سے یہ کہا گیا کہ جی وہ بہت معصوم اور اس کو اتفاقیہ حادثہ قرار دیا کہ وہ لڑکا موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتا تھا، دراصل کیس کا رخ موڑنے کے لیے اس کو لڑکوں کے والدین نے پولیس کی مدد سے ایک اور رنگ میں تبدیل کر دیا کہ موٹر سائیکل کی ٹکر سے لڑکی زخمی ہوئی ہے اور لڑکے کو موٹر سائیکل چلانا نہیں آتا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق غلام کشمیری قوم کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوتی اگر وہ موٹر سائیکل چلانا نہیں جانتا تھا وہ ڈبل سواری لے کر مین روڑ پر کیسے موٹر سائیکل چلا رہا تھا، پھر تھانہ پولیس نے ایف آ ئی آر نہیں بنائی اور اچانک ایک فون آنے کے بعد تھانہ باغ نے یتیم لڑکی کے ورثاء پر دباؤ ڈالا کہ راضی نامہ کرو ورنہ یہ کیس لمبا چلے گا اور اس میں یتیم زخمی لڑکی کے لیے مشکالات بڑھ جائیں گی،حیرانگی کی بات یہ کہ پھر لڑکوں کی ضمانتیں قبل از گرفتاری فورا ہو جاتی ہیں، ۔
مقامی لوگ اب باغ کی پولیس سے پوچھ رہے ہیں کہ اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ کالج جاتی اس بہن کا پیچھا کون لڑکے کر رہے تھے جن کا تعلق بھی دو مختلف گاؤں سے بتایا جا رہا ہے،بنی پساری سے پیچھا کرتے کراس کرتے پھر آ ہستہ ہوتے پھر کراس کرتے ٹکر مار کر زخمی لڑکی اور اس کے چھوٹے بھائی کی بے بسی کا فاہدہ اٹھاتے ہوئے موقع سے بھاگ گے نہ وہ چھوٹا لڑکی کا بھائی ان کو پہنچان سکا لیکن بعد ازاں سی سی ٹی وی کیمریسے فوٹیج حاصل کرنے کے بعد شناخت ہوگئی پھر بڑی مشکل سے ایف آ ء آ ر بھی درج ہوگی لیکن باغ پولیس بھی حرکت میں نہ آ سکی اور، اس یتیم بیٹی کو باغ ڈسٹرکٹ ہسپتال سے راولپنڈی ریفر کردیا گیا یہ اس باپ کی بیٹی ہے جو ایک ٹریفک حادثے میں اللہ کو پیارا ہوگیا یہ اس باپ کی بیٹی ہے جس کو جو کام ضلع ہیڈ کوارٹر کسی بھی محکمہ میں ہو کروا کے لاتا تھا عوام دوست سرکاری ملازم تھا کیا ورثاء نے ان لڑکوں سے پوچھا ہے کہ سکول ٹائم پر کیوں اس طرف گے تھے پھر آ پ کا روٹ بھی نہیں ہے،لوگوں کے مطابق کیا باغ پولیس وزیر اعظم کے حلقہ انتخاب میں کسی تحریک انصاف کے کارکن کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرے گی،۔آج وہ لڑکے پھر کسی لڑکی کا شکار کرنے کھلے عام گھوم رہے ہیں مگر انصاف پاکستان میں کشمیریوں کو ملنا ممکن نہیں۔

باغ پریس کلب کے سیکرٹری مالیات اعجاز مغل کو یتیم مظلوم بچی کا واقعہ میڈیا پر رپورٹ کرنے پر ملزمان کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں