پاکستانی زیر قبضہ کشمیر:سندھ ہاوس کے لیے زمین اور پشتونوں کو نوکری دینے پر عوام برہم

0
21

پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعظم نے سندھ ہاؤس کے لیے زمین دینے کا اعلان کرنے کے ساتھ خیبرپختونخواہ سے 25 لوگوں کو آزاد جموں و کشمیر پولیس میں تعینات کیا جائے گا۔

لوگوں کے مطابق نام نہاد وزیر اعظم الیاس کا یہ عمل جموں و کشمیر کے ریاست سے تشخص، متنازعہ حیثیت بارے کم علمی یا بدنیتی کا اظہار ہے۔
مقبوضہ کشمیر جسے آزاد جموں و کشمیر کہا جاتا ہے ریاست کی اکائی ہے جو متنازعہ حیثیت کے حامل ہے، اقوام متحدہ میں تنازعہ جموں و کشمیر سے منسلک ہے، اس وقت اس وقت اس خطہ میں سٹیٹ سبجیکٹ بحال ہے اور جس کی وجہ سے اس ریاست میں کسی غیر ریاستی کو تعینات نہیں کیا جا سکتا ہے، اگر ایسا کیا جاتا ہے تو قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

لوگوں کے مطابق پاکستان انکے لیے دوسری ریاست ہے انکو زمین دینا اور انکے کسی صوبے کے افراد کو یہاں نوکریا ں فراہم کرنا عالمی قوانین اور ریاست کی آئین کے خلاف ہے۔عوام اس اقدام کی سخت مزمت کرتے ہیں۔
کشمیری رہنماؤں کے ماطبق نام نہاد وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے سندھ ہاؤس کے لیے زمین دینے کا مضحکہ خیز اعلان مسترد کرتے ہیں۔ اس طرح کے سہولت کارانہ اور ریاست دشمن اقدامات ریاست جموں کشمیر کے مسئلے کو مزید گھمبیر بنانے اور ریاست پر بیرونی قبضے کو مزید مستحکم کرنے کے مترادف ہیں۔ یہ تقسیم ریاست جموں کشمیر کے ناپاک منصوبے اور ریاست کی ڈیمو گرافی تبدیل کرنے کی سازشوں کی کڑیاں ہیں۔ سردار تنویر الیاس اپنی موروثی زمین میں سندھ ہاؤس بنائیں یا بنی گالہ ہاؤس، لیکن باشندہ ریاست قانون اور ریاست کی املاک کو اپنی موروثی جاگیر سمجھ کر تحفے میں دینے کے اعلانات نہ داغیں۔
سندھ ہاؤس ہو یا پاکستانی سرمایہ داروں، جرنیلوں اور اشرافیہ کو ریاست کے وسائل کی لوٹ مار کا حق دینے کے پرمٹ ہوں، محب وطن باشندگان ریاست ہر ایسی سازش اور سہولت کاری کی مذمت اور ایسے منصوبوں کے خلاف مزاحمت کرینگے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں