بلوچ فریڈم فائٹرز کے شدید حملے،6 پاکستانی ایجنٹ ہلاک،فورسز پر دو حملے،دو موبائل ٹاور تباہ

0
30

مقبوضہ بلوچستان میں جہاں پاکستانی فورسز کا بیشتر علاقوں میں زمینی و فضائی جارحیت جاری ہے،اسی تیزی سے ان پر حملوں کاسلسلہ بھی جاری ہے۔ گزشتہ دنوں سے پاکستانی فورسز انکے ڈیتھ اسکواڈ و موبائل ٹاورز پر 7 حملے کیے گئے جنکی ذمہ داریاں بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کیے۔

دو روز قبل ضلع پنجگور کے علاقے پروم، بسد میں پاکستانی ایجنٹ اور ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ فقیروک پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا جو چار گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ تھا،۔اس حملے میں فقیروک اپنے تین کارندوں کے ساتھ ہلاک ہوا جبکہ کچھ کارندے زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔
بلوچ سرمچاروں نے ریاستی ایجنٹوں سے ایک ایل ایم جی، ایک آر پی جی7، دو کلاشنکوف قبضے میں لے لیا اور ان کی لینڈ کروزر گاڑی کو جلایا۔

بی ایل ایف کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ فقیروک ایک عرصے سے ریاستی ایجنٹ اور ڈیتھ اسکواڈ کا کردار ادا کر رہا تھا۔ وہ پروم، پنجگور، بلیدہ اور بالگتر و گرد و نواح میں سرگرم تھا۔ وہ کئی سرمچاروں کی مخبری اور شہادت میں پاکستانی فوج کے ساتھ شریک جرم تھا۔ وہ لوٹ مار اور منشیات کی سمگلنگ سمیت کئی سماجی برائیوں میں بھی ملوث تھا اور اسے دشمن فوج نے مکمل چھوٹ دی رکھی تھی۔

نومارچ کی شام پانچ بجے تربت کے علاقے سری کہن میں کرکٹ گراؤنڈ میں فائرنگ کر کے پاکستانی ایجنٹ اور ڈیتھ اسکواڈ کے سربراہ پیر جان المعروف پیرو ولد میاہ داد کو ہلاک کیا گیا۔10 مارچ، شام کے7 بجے خاران میں بیلچر لاج میں واقع آئی ایس آئی کے دفتر پر دستی بم سے حملہ کیا گیا، بم دفتر کے اندر جا گرا،حملے کے وقت دفتر میں کئی اہلکار موجود تھے،۔
گزشتہ  رات کیچ کے علاقے ناصر آباد میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی یوفون کے موبائل ٹاور کو خودکار ہتھیاروں سے نشانہ بنایا اور مشینری کو جلا دیا۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ دشمن پاکستانی فوج چین کی مواصلاتی کمپنی کے ساتھ مل کر مقبوضہ بلوچستان بھر خاص کر پہاڑی علاقوں میں موبائل ٹاور کی جال بچھا رہی ہے تاکہ وہ سرمچاروں کو ٹریس کرنے اور اپنے مقامی ایجنٹوں کے ذریعے سرمچاروں کی نقل و حرکت کی سہولیات حاصل کر سکے۔

بہرام ولد گل محمد سکنہ آبسر تربت کو موت کی سزا دی گئی،حراست کے بعد اس نے اعتراف کیا کہ وہ گذشتہ طویل عرصے سے قابض پاکستانی فوج کیلئے بطور مخبر و سہولت کار کام کررہا تھا، دشمن فوج کے کہنے پر وہ بلوچ آزادی پسند تنظیموں میں داخل ہوکر مخبری کرنے کی کوششوں میں تھا۔
قلات کے علاقے نیمرغ کنڈ پر نصب یوفون کمپنی کے ٹاور کو دھماکہ خیز مواد نصب کرکے تباہ کردیا۔ہرنائی میں ہزارہ ڈم کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے پوسٹ کو پانی فراہم کرنے والے ٹریکٹر ٹینکر کو آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا۔ دھماکے کے نتیجے میں ٹریکٹر تباہ ہوگئی جبکہ اس میں سوار ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔بلوچ لبریشن آرمی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں