فیاض علی تاحال لاپتہ ہیں، پولیس ایف آئی آر درج نہیں کر رہی – نرگس

0
20

لاپتہ فیاض علی کی اہلیہ کا کہنا ہے ان کی شوہر تاحال لاپتہ ہیں جبکہ پولیس ایف آئی آر بھی درج نہیں کررہی ہے۔

انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے نرگس فیاض نے کہا کہ ‏فیاض علی تاحال لاپتہ ہے، ستم ظریفی یہ ہے کہ ابھی تک میرے شوہر کی جبری گمشدگی کا ایف آئی آر نہیں کاٹا گیا، مجھ سے میرے ٹویٹ ڈلیٹ کرائے گئے۔

واضح رہے کہ گذشتہ دنوں کوئٹہ سے فیاض علی کو پاکستانی فورسز نے دوسری دفعہ حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

فیاض علی کی اہلیہ نے اس کے جبری گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر پوسٹ کیا تھا تاہم بعدازاں انہوں نے اس پوسٹ کو حذف کیا۔ آج انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے پوسٹ کو حذف کرایا گیا، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کس نے پوسٹ حذف کروایا ہے۔

آج انہوں نے اپنے پوسٹ میں مزید کہا کہ فیاض کو ان کیساتھ جانے سے روکنے کیلئے میں نےمزاحمت کی تو مجھے چھپ رہنے کی دھمکی تک دی گئی، مجھے سمجھ نہیں آرہی انصاف مانگنے میں کس در پہ جاؤں؟

خیال رہے فیاض علی کو پہلی بار 30 اگست 2021 کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا، بعدازاں 9 مہینے تک جبری لاپتہ رکھنے کے بعد 21 مئی 2022 کو بازیاب کیا گیا۔

گذشتہ دنوں فیاض علی اہلیہ نرگس نے کوئٹہ میں وی بی ایم پی کے رہنماوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی وارنٹ گرفتاری کے سیاہ وردی میں ملبوس سرکاری اہلکار تقریباً رات تین بجے ہمارے گھر میں گھس کر میرے خاوند فیاض علی کو دوسری مرتبہ جبراً حراست میں لیکر ایک بار پھر ہماری زندگیوں کو ایک اندھیر نگر کی جانب دھکیل دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس غیر انسانی عمل کے خلاف جب میں نے پولیس تھانہ سے رجوع کیا تب بھی مثبت تعاون نہیں کی گٸی جبکہ یہ ہمارے قانون میں ہے کہ 24 گھنٹے کے اندر کسی بھی گمشدہ اور مغوی شخص کی ایف آٸی آر کرنا لازم ہے۔ سرکارٕی ادارے غیر سنجیدگی کا جو مظاہرہ کر رہی ہے اس سے اگر فیاض کو خدانخواستہ کوٸی بھی نقصان ہوا اسکی ذمہ دار ملکی ادارے ہونگے۔

نرگس فیاض نےکہا کہ جبر کا یہ سلسلہ یہاں بھی ختم نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل فروری 2023 میں ہمیں معلوم ہوا کہ مجھے نرگس فیاض اور میرے خاوند فیاض علی کو سی ٹی ڈی تھانہ کوئٹہ میں ایک ایف آئی آر کے بعد چالان کاٹ کر مفرور قرار دیا گیا۔

مذکورہ ایف آئی آر 8 نومبر 2022 کو درج کیا گیا جس میں دھماکہ خیز مواد، اسلحہ وغیرہ کے کیسز لگائے گئے تھے جبکہ 22 دسمبر 2022 کو پرچہ کاٹ کر ہمیں مفرور قرار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سے قبل بھی ایک غیر قانونی، غیر آئینی و غیر انسانی عمل کیخلاف جمہوری و قانونی راستہ اپنایا اور اب بھی ہم اسی راستوں کو اپنائینگے لیکن یہ بلا جواز کسی معصوم کو مفرور قرار دیکر اسکو لاپتہ کرنے کا عمل واضح طور پر ہمیں ہراساں کرنے کا عمل ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں