جموں کشمیر کے حالیہ تحریک کے پاکستان پر اثرات

0
45

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے شہر راولاکوٹ سے 9مئی کو شروع ہونے والی تحریک تمام 10اضلاع میں پھیلنے کے ساتھ ساتھ اب پاکستان کے مختلف شہروں میں بھی پھیلتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں احتجاجی مظاہروں کے آغاز اور جموں کشمیرکی تحریک کے پاکستانی میڈیا میں تذکرے کے بعد ایک بحث شروع ہو چکی ہے کہ شاید پاکستان میں تحریک پھیلنے سے جموں کشمیر کے لوگوں کے مطالبات پس پشت چلے جائیں گے۔ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مطالبات میں فرق ہونے کی وجہ سے جموں کشمیر کی تحریک پر شاید منفی اثرات مرتب ہونگے۔

یہ اعتراضات اور خدشات حسب سابق عام عوام یا محنت کشوں کے نہیں ہیں، بلکہ اس دانشور حلقے کی جانب سے اٹھائے جا رہے ہیں، جو ماضی میں ترقی پسند سیاست کا دعویدار رہا ہے۔ نظریاتی زوال پذیری کی وجہ سے تعصبات اور عدم تحفظ کے آئینے سے ہر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش میں تحریکوں کے پھیلاؤ سے خوف کا عنصر جنم لیتا ہے۔یہی خوف ان خدشات اور اعتراضات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

یہ درست ہے کہ جموں کشمیر اور پاکستان کے دیگر صوبوں میں اس تحریک کے مطالبات کی نوعیت میں فرق ہے۔ تاہم دونوں اطراف احتجاج کی کامیابی ایک دوسرے کی حمایت اور یکجہتی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ جموں کشمیر کے شہری خطے میں پیدا ہونے والی 3190.22میگاواٹ بجلی سے مقامی ضرورت کی 354میگاواٹ بجلی کی مفت فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ متنازعہ خطہ ہونے کی وجہ سے سرینگر اور گلگت بلتستان کی طرز پر گندم پر سبسڈی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے اور آئی ایم ایف کی سامراجی پالیسیوں کے خلاف عوامی سراپا احتجاج ہیں۔ یہاں مسئلہ نجی پاور کمپنیوں کے ساتھ ریاست کے معاہدوں اور زائد پیداواری صلاحیت کی وجہ سے اس بجلی کی قیمتوں کی ادائیگی کا ہے، جو نہ پیدا ہو رہی ہے اور نہ استعمال۔ اسی طرح بے جا ٹیکسوں کے خاتمے کے علاوہ آئی ایم ایف کی شرائط، سامراجی اور گردشی قرضوں کی منسوخی کا مطالبہ ہے۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ دونوں اطراف مطالبات ریاست پاکستان سے ہی کئے جا رہے ہیں۔ پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک نوآبادیاتی حکمران اشرافیہ ہے، جبکہ پاکستان میں ہر حکومت کٹھ پتلی کا کردار ہی ادا کرتی آئی ہے۔ سامراجی پالیسیوں کے نفاذ میں کوئی حکومت بھی رکاوٹ بننے کی اہل ہی نہیں رہی ہے۔ یوں جب ایک ہی ریاست سے مطالبات منظور کروانے ہیں تو اس کیلئے احتجاج کے حجم کوجتنا وسیع کیا جائے گا، اتنا ہی موثر بھی ہو سکے گا۔

جموں کشمیر میں جاری تحریک کو پاکستان میں شروع ہونے والے احتجاجوں کے ایک تحریک میں تبدیل ہونے کی صورت ایک غیرمعمولی توانائی اور طاقت میسر آئے گی۔ اسی طرح پاکستان میں جاری احتجاجوں کے سلسلے کو جموں کشمیر میں جاری تحریک کے مختلف مراحل سے سبق حاصل کرتے ہوئے تحریک میں منظم ہونے کیلئے مدد میسر آسکتی ہے۔

تحریکوں کو طبقاتی بنیادوں پر آپس میں جوڑنے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ کسی ایک یا دوسری تحریک کے مطالبات کو ختم کر دیا جائے۔ تحریکوں کے باہم تعلق کی استواری ہر دو اطراف کے مطالبات کی حمایت اور ہر دو اطراف کیلئے یکجہتی کی صورت ہی ممکن ہوتی ہے۔ یوں پاکستان میں اگر تحریک منظم ہوتی ہے تو نہ صرف اس کی قیادت کو جموں کشمیر میں جاری تحریک کے مطالبات کی حمایت کرنی ہوگی، بلکہ اگلے مرحلوں میں تحریک کو تمام مظلوم و محکوم قومیتوں کے وسائل پر ان کے اختیار سمیت ان کے حق خودارادیت بشمول حق علیحدگی کی حمایت کرنے اوراس حق کو تسلیم کرنے جیسے اقدامات کرنے ہونگے۔ یہی وہ طریقہ کار ہوگا کہ ان تحریکوں کو کسی بڑی تبدیلی کیلئے موثر بنایا جا سکے گا۔

دوسری طرف اگر جموں کشمیر کی تحریک کو اسی خطے تک محدود کر کے جاری رکھنے پر زور دیا جائے گا، تو اس کی پاکستان میں حمایت ختم ہوجائے گی۔ یوں ایک لمبے عرصہ تمام تر کاروبار زندگی کو معطل رکھنے کے بعد بھی تحریک کو کسی مہم جوئی پر مجبور ہونا ہوگا،جس کا نتیجہ تحریک کی پسپائی کی صورت برآمد ہوگا۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کے محنت کشوں کی حمایت اور جدوجہد کے بغیر پاکستانی ریاست کسی صورت جموں کشمیر کے شہریوں کو وسائل پر اختیار دینے پر آمادہ نہیں ہوسکتی۔ اگر جموں کشمیرمیں بجلی مفت فراہم کی جائے گی، تب بھی پاکستان بھرمیں احتجاج اور بغاوتوں کا خدشہ لاحق ہوگا۔ یہ خدشہ لاحق نہ بھی ہو، آئی ایم ایف جیسے سامراجی ادارے کے ساتھ جو معاہدہ جات کئے گئے ہیں، ان سے انحراف ملک کے دیوالیہ ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ یوں یہ ریاست کسی صورت بھی اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گی، بلکہ تحریکوں کو بزور طاقت کچلنے کیلئے ہر حربہ اپنایا جائے گا۔

تحریک کو ریاستی جبر کے ذریعے کچلنے کے امکانات بھی تب ہی محدود ہو سکتے ہیں، جب یہ تحریک جموں کشمیر سمیت پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے گی اور محنت کشوں کی وسیع تر پرتیں اس میں شامل ہوجائیں گی۔ ایسی صورت میں ریاست کے پاس کوئی امکان باقی نہیں رہتا کہ وہ کسی قسم کے جبر کا راستہ اختیار کرے، کیونکہ جبر کیلئے استعمال ہونے والے اوزار بھی اسی محنت کش طبقے کے مرہون منت ہوتے ہیں۔

لہٰذا تحریکوں کے پھیلاؤ کے ہر امکان کو استعمال کرنے اور پھیلاؤ کیلئے شعوری کاوش سمیت قیادتوں کی جانب سے محنت کشوں کی وسیع تر پرتوں سے تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کرنا ہوگی ہے۔ خواتین کی تحریک میں شمولیت کو ناگزیر بنانا ہوگا اور ہمہ گیر بغاوت اور ہڑتال ہی ریاست کو نہ صرف مطالبات تسلیم کرے پر مجبور کر سکتی ہے بلکہ اس خطے میں حقیقی تبدیلی اور انقلاب کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں