اسلام آباد: لانگ مارچ کے گرفتار 200 سے زائد مرد شرکاء تاحال بازیاب نہیں ہوئے

0
58

پولیس کے ہاتھوں اسلام آباد سے گرفتار کئی سو طلباء مختلف تھانوں میں موجود ہیں

گذشتہ روز اسلام آباد پولیس کی جانب سے بلوچ نسل کشی لانگ مارچ کو اسلام آباد میں داخلے سے روکنے تشدد و گرفتاریوں بعد رات گئے خواتین مظاہرین کو رہا کردیا گیا ہے تاہم مرد مظاہرین تاحال پولیس کے زیر حراست ہیں

بلوچ یکجہتی کمیٹی اسلام آباد کے مطابق پولیس کے زیر حراست 200 زائد بلوچ طلباء موجود ہیں جن میں پشتون سمیت دیگر شہروں کے طلباء بھی شامل ہیں

طلباء کے مطابق گرفتاری ساتھی اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں بند ہیں جبکہ کسی بھی تاحال مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا جبکہ چند طلباء کو پولیس نے حراست بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے

بلوچ یکجہتی کمیٹی اسلام آباد کے مطابق گذشتہ روز ہائی کورٹ کی جانب سے تمام گرفتاریوں کی رہائی کی حکم کے باوجود کسی کو رہا نہیں کیا جارہا اور ابتک درجنوں بلوچ طلباء پولیس کے حراست میں ہیں جنھیں شدید مشکل حالات میں حوالات میں بند رکھا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا

واضح رہے گذشتہ روز اسلام آباد داخلے کی کوشش میں پولیس نے لانگ شرکاء کو روکتے ہوئے تشدد کا استعمال کیا جس میں متعدد مظاہرین جن میں بچے شامل تھے زخمی ہوئے جبکہ بعد ازاں پولیس نے درجنوں کی تعداد میں لانگ مارچ کے شرکاء کو حراست میں لیکر تھانے منتقل کردیا تھا

رات گئے خواتین کی اسلام آباد بدری کوئٹہ منتقلی کی بھی کوشش کی گئی تاہم خواتین کی جانب سے شدید مزاحمت کے بعد پولیس زیر حراست خواتین بچوں کو رہا کردیا ہے

دوسری جانب اسلام آباد لانگ مارچ کے شرکاء پر تشدد اور گرفتاریوں کے خلاف بلوچستان بھر میں مظاہرے جاری ہیں جبکہ کراچی اور لاہور میں بھی لانگ مارچ کے شرکاء کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے ریلی اور مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں