پانچ فروری 2024 پہلا یوم سیاہ

0
96

تحریز ساجد پونچھی
پاکستان بشمول پاکستان کے زیر اہتمام جموں کشمیر و گلگت بلتستان میں عرصہ تیس سال سے ہر سال پانچ فروری کو سرکاری سطع پر یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا رہا ہے۔ اس روز سرکاری چُھٹی ہوتی ہے۔ پاکستان, نام نہاد آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں سرکاری و غیر سرکاری تقریبات منائی جاتی تھی۔ ڈائسپورا اور پاکستانی شہری بیرون ممالک ہندوستانی سفارتخانوں کے باہر بھی ہندوستان کے خلاف احتجاج کرتے تھے اور پاکستان کی میڈیا پر حُریت کانفرنس کے لیڈروں کو ہیروز اور ہندوستانی حکومت و فوج کو ظالم ولن بنا کے پیش کیا جاتا تھا۔ نوے کی دہائی پر جب سری نگر میں جہاد کے نام پر پراکسی جاری تھی تب پاکستانی سرکار کی جہادی پارٹنر جماعت اسلامی کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد کے مطالبے پر پانچ فروری کے دن کو سرکاری سطع پر یوم سیاہ قرار دیا گیا۔ نوے کی دہائی میں سوشل میڈیا کا وجود نہیں تھا اس لئے پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستانی زیر کنٹرول جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عام لوگ سرکاری ٹی وی پر کشمیر فائل دیکھ کے کنٹرولڈ اخبارات پڑھ کے اسلام آبار , مظفر آباد اور گلگت کو جنت جبکہ سری نگر کو دوزخ سمجھتے تھے۔ وقت کے ساتھ حالات بدل گئے سوشل میڈیا نے حقیقت دیکھایا تو یہاں کے عام آدمی کو سمجھ آنے لگا کہ مظفر آبار سے زیادہ ترقی سری نگر کر رہا ہے, اسلام آباد سے بہتر جگہ دلی ہے۔ آہستہ آہستہ پانچ فروری کمزور ہونے لگا۔ 2023 کے پورے سال میں نام نہاد آزاد جموں کشمیر بھر میں بجلی کے بلات, آٹا, ٹیکسیز اور سبسڈی پر احتجاج جاری رہا۔ تاریخی احتجاج ایک سال سے جاری ہے۔ جنوری کے مہینے میں ہونے والے اجلاس میں جائنٹ ایکشن کمیٹی نے پانچ فروری کے روز نیلم سے بھمبھر تک پورے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں شٹر ڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا تو پاکستان اسٹبلشمنٹ کو شدید دھچکا لگا۔ پاکستان نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ اس کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے گا۔ پچھلے سال تک جن کشمیریوں کو لے کے پاکستان پانچ فروری کو ہندوستان کے خلاف یوم سیاہ مناتے تھے اس بار وہی کشمیری دلی کے بجائے اسلام آباد کے خلاف یوم سیاہ منائنگے۔ وقت کے بدلتے سب بدل رہا ہے۔

پانچ فروری کا متوقع احتجاج عالمی سطع پر پاکستان کے خلاف جائے گا۔ تیس سال تک لوگوں سے جھوٹ بولنے والے پاکستان کے چہرے سے ہمدرد کا نقاب اُتر جائے گا اور پاکستان دنیا کے سامنے بینقاب ہوگا۔
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں جاری احتجاج شدت پکڑ رہی ہے۔ لوگ چھے ماہ سے بجلی کے بلز جمع نہیں کروارہے ہیں۔ شہر شہر دھرنے جاری ہیں۔ پاکستان سے نفرت بڑھ رہا ہے۔آج نام نہاد آزار جموں کشمیر کے لوگ سری نگر والی سہولیات مانگ رہے ہیں۔ کوئی سمجھے نا سمجھے یہ پاکستان کی بدترین شکست ہے۔

اب کشمیری پاکستان کی حقیقت جان چکے ہیں۔اب پاکستان کا کشمیریوں کے ساتھ تعلق کمزور پڑ رہا ہے۔ کل تک جو لوگ مظفر آباد کو جنت اور سری نگر کو دوزخ سمجھ رہیں تھے آھ وہی لوگ مظفر آباد کے لئے سری نگر والی سہولیات کی مانگ کر رہے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں