طا رق جنجو عہ
جموں و کشمیر میں ریلوے نیٹ ورک کی آمد، خاص طور پر وادی کشمیر تک طویل انتظار کے بعد ٹرین کی پہنچ، خطے کی ترقی، استحکام اور قومی انضمام کی جانب ایک تاریخی سنگ میل ہے۔ کئی دہائیوں سے کشمیر کے عوام کے لیے ٹرین کا خواب صرف نقل و حمل کا ذریعہ نہیں بلکہ امید، اتحاد اور خوشحالی کی علامت رہا ہے۔ اب ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک (USBRL) منصوبے کی تکمیل نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دے دیا ہے، جو جدید انجینئرنگ کا ایک شاندار شاہکار ہے۔ اس ریل نیٹ ورک نے نہ صرف جموں و کشمیر کے دشوار گزار علاقوں کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑا بلکہ مقامی عوام کی زندگیوں میں خوشی، سہولت اور نئے امکانات کے دروازے کھول دیے ہیں۔ ہمالیہ کی دلکش وادیوں کے بیچ سے گزرتی ٹرین کی آواز اب ترقی، ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی علامت بن چکی ہے، جو دلوں کو قریب اور فاصلے کو ختم کر رہی ہے۔ ماضی میں کشمیر کے عوام کو ناقص سڑکوں، شدید برف باری اور دشوار گزار راستوں کی وجہ سے سال کے کئی مہینے باقی ملک سے کٹ جانا پڑتا تھا۔ سردیوں میں برفباری سے جب راستے بند ہو جاتے تو وادی گویا تنہائی میں ڈوب جاتی۔ ایسے میں جموں کو سری نگر سے جوڑنے والی ریلوے لائن ایک خواب سے کم نہ تھی۔ پیر پنجال کے پہاڑوں کو کاٹ کر سرنگیں بنانا، گہری وادیوں پر پل تعمیر کرنا، اور برفانی طوفانوں کے درمیان تعمیراتی کام جاری رکھنا ایک عظیم چیلنج تھا۔ مگر بھارتی ریلوے کے عزم، انجینئروں کی محنت اور ہزاروں کارکنوں کی قربانیوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ 1997 میں شروع ہونے والا USBRL منصوبہ آج دنیا کے سب سے مشکل اور کامیاب ریلوے منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
اس منصوبے کے تحت تعمیر ہونے والا چناب پل، جو دنیا کا سب سے اونچا ریلوے پل ہے اور دریا سے 359 میٹر بلند ہے، اور 11.2 کلومیٹر طویل پیر پنجال سرنگ، ہندوستانی انجینئرنگ کے عزم و مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کشمیر کے لوگوں کے لیے اس ٹرین نے زندگی کا نیا باب کھولا ہے۔ جو سفر پہلے کئی گھنٹوں میں سڑکوں پر خطرناک موڑوں سے گزر کر طے ہوتا تھا، اب چند گھنٹوں میں محفوظ، آرام دہ اور خوشگوار بن گیا ہے۔ اننت ناگ، شوپیاں اور پلوامہ کے کسان اپنی تازہ پیداوار جیسے سیب، زعفران اور اخروٹ کو اب آسانی سے دہلی، امرتسر اور ممبئی کی منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں، جس سے منافع بڑھا اور نقصان کم ہوا ہے۔ بارہمولہ اور بڈگام کے کاریگروں کے ہاتھوں کی بنائی قالین، شال اور پیپر مَشی کی مصنوعات اب ملک بھر میں نئی منڈیاں حاصل کر رہی ہیں، جس سے کشمیری ہنر کی چمک اور بڑھ گئی ہے۔ طلبہ کو تعلیمی اداروں تک آسان رسائی اور روزگار کے نئے مواقع دستیاب ہوئے ہیں۔ جو سفر پہلے ایک خواب تھا، یعنی سری نگر سے ٹرین میں بیٹھ کر پورے ہندوستان کا سفر کرنا، اب ایک حقیقت بن چکا ہے، جو کشمیریوں کے لیے فخر اور خوشی کا باعث ہے۔ کشمیر میں ٹرین کی آمد کا جذباتی پہلو بھی بے مثال ہے۔ بانہال، اننت ناگ اور بارہمولہ کے اسٹیشنوں پر ہر ٹرین کی روانگی اور آمد خوشیوں، مسکراہٹوں اور فخر کے مناظر پیش کرتی ہے۔ برف پوش چوٹیوں کے درمیان لہراتا ہوا ترنگا اتحاد، امن اور قومی فخر کا مظہر بن گیا ہے۔ ٹرین نے دور دراز دیہات کو ہسپتالوں، بازاروں اور تعلیمی مراکز سے جوڑا ہے، اور نوجوانوں میں ترقی و امن کی نئی امید جگا دی ہے۔ حکومت ہند کی بنیادی ڈھانچے پر مرکوز پالیسی، خاص طور پر USBRL جیسے منصوبے، وزیر اعظم نریندر مودی کے وڑن “سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس” کی عملی تعبیر ہیں۔ اس ریل رابطے نے نہ صرف سیاحت کے دروازے کھولے ہیں بلکہ کشمیر کو ہندوستان کی اقتصادی اور ثقافتی دھارے سے جوڑ دیا ہے۔
اب سیاح آسانی سے وادی کے حسین مناظر، دیودار کے جنگلات، سیب کے باغات اور برف پوش پہاڑوں کا لطف اٹھا سکتے ہیں، جس سے مقامی روزگار اور مہمان نوازی کی صنعت کو فروغ ملا ہے۔ چھوٹے کاروبار، گیسٹ ہاو¿سز اور دستکاری کی دکانیں اب ریلوے اسٹیشنوں کے گرد پروان چڑھ رہی ہیں۔ رابطے کے بہتر ہونے سے ضروری اشیائ کی ترسیل میں آسانی ہوئی ہے، لاجسٹکس نظام بہتر ہوا ہے اور رہائشی اخراجات میں کمی آئی ہے۔ کشمیر کے ریلوے اسٹیشنوں کے مناظر میں عوامی خوشی دیکھی جا سکتی ہے — بچے ٹرین کو گزرتا دیکھ کر ہاتھ ہلاتے ہیں، بزرگ مسافر جدید کوچز میں بیٹھ کر حیرت سے سفر کرتے ہیں، اور خاندان خوشی سے چائے پیتے ہوئے دھند سے ڈھکی پہاڑیوں کے درمیان ٹرینوں کو گزرتا دیکھتے ہیں۔ یہ منظر صرف ایک نقل و حمل کا نہیں بلکہ زندگی کی نئی لہر کا ہے۔ ریلوے رابطے نے جموں، کشمیر اور لداخ کے درمیان ثقافتی اور معاشی رشتوں کو مضبوط کیا ہے، اور لوگوں کے درمیان قربت و بھائی چارے کو فروغ دیا ہے۔ ہزاروں مقامی کارکنوں کی شمولیت نے اس منصوبے کو عوامی ملکیت کی شکل دے دی ہے، جبکہ ماحول دوست تعمیراتی طریقوں اور قدرتی آفات سے محفوظ ڈھانچے نے اسے پائیدار ترقی کی مثال بنا دیا ہے۔ کٹرا سے بانہال تک ریل کے آخری حصے کی تکمیل کے ساتھ ہی جموں-سری نگر ریل راہداری پوری طرح فعال ہو جائے گی، جو ہر کشمیری کے لیے فخر کا لمحہ ہوگا۔ آخرکار، “ٹرین ٹو کشمیر” صرف ایک انجینئرنگ کارنامہ نہیں بلکہ اتحاد، لچک اور امید کی علامت ہے۔ اس نے جموں و کشمیر کے عوام کو باقی ملک کے قریب لا کر جسمانی ہی نہیں بلکہ جذباتی فاصلے بھی ختم کیے ہیں۔ یہ ترقی، امن اور امکانات کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جہاں وادی کے لوگ اب خود کو تنہا نہیں بلکہ ہندوستان کی ترقی کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ محسوس کرتے ہیں۔ برف پوش پہاڑوں کے درمیان دوڑتی یہ ٹرین صرف فولاد اور مشین کا نہیں بلکہ کشمیری عوام کی خوشی، عزم اور نئے مستقبل کی کہانی سناتی ہے۔















