میں ہوں کریمہ، بلوچستان کی بیٹی – نیوز انٹرونشن کی خصوصی ویڈیو رپورٹ

0
417

نیوز انٹر ونشن کی خصوصی ویڈیو رپورٹ

تم مجھے مار سکتے ہو،اور تم نے مجھے مار بھی دیا ہے،مگرمیں تو زندہ ہوں،دیکھ لو ہر گلی ہرکوچے میں میرے فکر کے وارث سڑکوں پر میرے قصیدے پڑھ رہے ہیں اور سن لو میری خاموش لاش کی گھونج جودنیا بھر میں سنائی دی رہی ہے۔تم نے کریمہ کو مارکر یہ سوچا ہو گاکہ قصہ ختم ہوگیا مگر تم غلط ہوکیونکہ لہو بہانے سے قصے ختم نہیں ہونگے بلکہ اس قصے کا جو کردار ہے وہ سوچ و فکر ہے جسے تمہاری ایٹمی طاقت بھی ختم کرنے سے قاصر ہے۔اوراب انقلاب تمام مظلوم اقوام کی شناخت ہو گی۔

تاریخ میں وہ لوگ ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں جو اپنی زندگی کسی مقصد کے لیے وقف کر دیتے ہیں،آج ہندوستان کے ہمسایہ مقبوضہ بلوچستان میں بھی ایک تاریخ ساز کردار نے اپنی وطن سے محبت کو تاریخ کا حصہ بنا دیاہے۔

نوجوان بلوچ بیٹی کریمہ بلوچ جسے انکے سابق آرگنائزیشن،بی ایس او آزاد، اور بلوچ قوم نے لمحہ ءِ وطن کا لقب دیا،جسکا مطلب ہے ”وطن کی ماں“ اور وطن کون؟”بلوچستان“

کریمہ بلوچ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن یعنی بی ایس او آزادکے پہلے خاتون چیئرپرسن رہے ہیں۔کریمہ بلوچ نے بی ایس اوآزاد کی قیادت اس وقت سنبھالی جب تنظیم کے چیئرمین زاہد بلوچ کو ان کے سامنے بلوچستان کے راجدانی کوئٹہ سے پاکستانی فورسز وخفیہ ادارے اٹھا کر جبری طور پر لاپتہ کردیتے ہیں۔

یہ وہ سماں تھا جب بلوچستان میں ہر طرف ظلم و بربریت کا بازار گرم تھا، سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کر کے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جا رہی تھیں، تنظیم پر پابندی اور ریاستی عتاب عروج پر تھا۔لیکن کریمہ نے ریاستی بربریت کے باوجود اپنا سفر جاری رکھا اور اپنی جان دیکریہ ثابت کیا کہ تم کسی کو مار ضرور سکتے ہو لیکن انہیں شکست نہیں دی جاسکتی۔

بلوچستان میں ریاستی جبر میں اضافہ اور بی ایس او آزاد کو کالعدم قرار دینے کے بعد تنظیمی فیصلے کے مطابق کریمہ بلوچ کو بیرون ملک بھیجاجاتا ہے اورپھر کریمہ چھپکے سے کینیڈا منتقل ہوجاتی ہیں۔

کریمہ بلوچ نے کینیڈین حکومت کوکینیڈا میں مقیم پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ آفیسروں کے متعلق اپنے ایک تقریر میں کہا ہے تھا کہ یہ لوگ بلوچستان میں بلوچ عوام کے قتل انسانی حقوق کے سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔ کینیڈین حکومت کو چاہیے کہ انہیں سیاسی اسالم نہ دیں۔

واضع رہے کہ کریمہ بلوچ کے کینیڈا میں پاکستان فوج کے ریٹائرڈآفیسروں کے سیاسی پناہ کے بیان ے بعد آئی ایس آئی کی جانب سے انہیں دھمکیاں ملنے لگیں اور انھیں واپس بلوچستان لوٹنے پر مجبور کیا جاتا رہا لیکن اس کے انکار پر ان کا ایک چچا جو فورسز کے ہاتھوں لاپتہ تھا کا قتل کرکے ان کی لاش پھینک دی گئی۔لیکن کریمہ بلوچ سرزمین کی آزادی کیلئے سب کچھ قربان کرلئے تیار بیٹھی تھی۔

کریمہ بلوچ کو کینڈا کے شہر ٹورنٹو میں 21 دسمبر2020 کو قتل کیا گیا،بلوچستان کی آوازاس باہمت خاتون کریمہ بلوچ کے قتل کے بعد برائے راست نہ صرف بلوچ بلکہ تمام مکاتب فکر کے لوگوں نے پاکستان کے بدنام زمانہ سرکاری دہشتگر دادارہ آئی آیس آئی کے خلاف آواز بلند کیا، اور سب کا ماننا تھا کہ اسی اسلامی شدت پسند خفیہ ادارے نے بانک کریمہ کو قتل کیا ہے۔

یہ سب باتیں اس وقت سچ ثابت ہوئیں جب کریمہ بلوچ کی میت کوکراچی پہنچنے کے بعد ایمبولنس اور ان کے خاندان کے ایک اور گاڑی کوپاکستانی فوج نے اغوا کرلیا۔

پاکستانی فوج کوخوف اس لیے تھا کہ کراچی جو پاکستان کا سب سے بڑا مرکزی شہر ہے اور بلوچوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور لیاری جسے بلوچوں کا گڑھ کہا جاتا ہے، ہزاروں کو تعداد میں لوگ اپنے ہر دلعزیز رہنما کی آخری دیدار کے لیے جمع ہو رہے تھے اور نماز جنازے کا بھی پروگرام تھا۔مگر پاکستانی فوج نے عوام کو منتشر کرنے کے ساتھ تمام راستوں کو بند کر دیا اور کریمہ بلوچ کی میت کو اغوا کر کے بلوچستان کی جانب روانہ ہوئے۔

کریمہ بلوچ کے بہن ماہ گنج کے مطابق پاکستانی فورسز نے انہیں کہا کہ ہمارے ساتھ چلواور کراچی میں نماز جنازہ کا خیال ترک کردو۔ لیکن ہمارے انکار کرنے پر فورسز نے ہمیں دھمکی دی کہ اگر تم ہمارے ساتھ نہیں آؤگے تو ہم کریمہ بلوچ کی ڈیتھ باڈی کو واپس کینیڈا بھیج دینگے۔

حب،گڈانی،کلمت،اورماڑہ،پسنی سمیت تمام علاقوں میں بلوچ قوم اپنے محبوب رہنما کی دیدار کے لیے سٹرکوں کے کنارے جمع ہونا شروع ہوئے تو اسلام کے گن گانے والے فورسز اسلامی روایات کو روندھتے ہوئے لوگوں کوانکے قومی رہنما کی دیدار سے روکا گیا۔

مگر سڑک کنارے لوگوں نے بانک کریمہ بلوچ کی جسد خاکی کو فرط ِ جذبات میں سلام پیش کیا۔

ضلع کیچ کے علاقے ڈی بلوچ کے قریب پہنچنے والے سینکڑوں افراد کو آگے جانے نہیں دیا گیا۔اور پورے سڑک کو فورسز نے بلاک کردیا تھا تاکہ لوگ کریمہ بلوچ کی نماز جنازہ اور تدفین سے محروم رہیں۔

ایک ننی بچی کی ویڈیو سوشل میڈیا میں وائرل ہوئی جس میں پاکستانی فوج کو للکار رہی ہے۔اور فورسز کو جنازے میں شرکت کیلئے کہہ رہے ہیں۔ اس تمام سفر میں جہاں جہاں کریمہ بلوچ کی میت کو لے جانے والا ایمبولنس روکھتا سخت سیکورٹی میں بھی لوگ ایمبولنس کو چھومتے اور سلام پیش کرتے۔

معروف بلوچ سماجی کارکن،رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ساتھیوں کو اپنی عظیم رہنما کے آخری دیدار سے بھی روک کر پاکستانی فوج نے انکو اپنی دھرتی ماتا بلوچستان کے ضلع کیچ سے بدر کر دیا۔

سخت فوجی محاصرے کے باوجود خاندان اور اہل محلہ کی موجودگی میں نماز جنازہ تمپ میں ادا کیا گیا اور کریمہ بلوچ اپنی مادریں سرزمین کی آغوش میں ابدی نیند سو گئیں۔

یقینا مادریں وطن کی دھرتی میں ابدی نیند سونے کے بعد شہید بانک کریمہ بلوچ کا خیال کچھ یوں ہو گا۔

مجھ سے تم میری محبت،میری سرزمین،میری آخری خواہش نہیں چھین سکتے،میں پیدا مقبوضہ بلوچستان میں ہوئی،اور اپنی مٹی کی آخوش میں سو گئی، جیت کس کی ہوئی؟سوچنا ضرور،قبضہ گیر، اب ہماری نسلیں مقبوضہ نہیں رہیں گی، یہ میری لاش کا وعدہ ہے۔

اسلام کے دعوائے دار پاکستان کا ایک میت سے خوف اور اسلامی و بلوچ قومی روایات کے مطابق رسومات ادا کرنے سے روکنا اسلام کے دعوئیداروں کے لیے سوالیہ نشان ہونا چائیے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تم قتل کرتے ہو اور لاش کی بے حرمتی کرتے ہو اور اسے دفن و دیدار کرنے بھی نہیں دیتے اور نام اسلام کا استعمال کرتے ہو،یہ کون سا اسلام ہے؟
مگر افسوس اسلام کی بات کرنے والے اس شرمناک عمل پر خاموش ہیں۔بلوچ کے ساتھ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے، لاشوں کو فوجی گاڑیوں میں گھسیٹنا،لاشوں کو قبروں سے نکالنا یہ تو مقبوضہ بلوچستان میں پاکستان کے اسلامی فوج کا معمول ہے،اور تو اور پاک،مقدس قران شریف کو
بلوچستان اور پشتونستان میں کئی بار جلایاگیا، مگر مذہب کے نام پر کاروبار کرنے والے مذہبی جماعتیں اور آئی ایس آئی کے ہم نواح ملا ہمیشہ خاموش رہے ہیں۔

بانک کریمہ بلوچ کی غائبانہ نماز جنازہ،کراچی، کوئٹہ،تربت، خضدار،گوادر،سوئی،کوہلو سمیت مقبوضہ بلوچستان کے بیشتر شہروں میں پڑھی گئی، اور عوام نے انھیں عیقدت کے ساتھ سلام پیش کیا۔

ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نے بالکل صحیح کہا کہ جس قوم کا نظریہ مزاحمت اور فلسفہ قربانی ہو،اْس قوم کو مٹھانا نا ممکن ہے۔

آج کریمہ بلوچ نے مقبوضہ بلوچستان میں جاری انقلاب،آزادی کی جنگ کو ایک نئی روح دے دی ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں