مقبوضہ بلوچستان میں 4000 سے زائد اسکولز بند ہیں ، سیکرٹری تعلیم

0
80

بلوچستان میں 29سو98 سکولز بند ہونے،بچوں کے 31فیصد اور بچیوں کے 33فیصد سکولوں میں بیٹھنے کیلئے میز،کرسیاں وغیرہ کی سہولت میسر نہ ہونے کاانکشاف ہواہے۔

دوسری جانب صوبائی وزیر تعلیم سرداریارمحمد رند نے کہاہے کہ تعلیم کی بہتری کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اس سلسلے میں وزیراعلی بلوچستان سے درخواست کی ہے وہ محکمہ تعلیم کا بجٹ بڑھائیں تاکہ تعلیمی نظام میں بہتری آسکے۔

وزارت برائے ثانوی تعلیم ہر سال رئیل ٹائم سکول مانیٹرنگ سسٹم(آر ٹی ایس ایم)کے تحت بک لیٹ کی شکل میں اعداد شمار جاری کرتی ہے۔

جاری کردہ 19-2018 کی بک لیٹ کے مطابق صوبے میں کل سکولوں کی تعداد 14855 ہے، جس میں سے 73.4 فیصد یعنی 10971 سکولوں کی مانیٹرنگ کی گئی۔ ان سکولوں میں سے 2998 سکول بند پائے گئے۔ 73.4 فیصد سکولوں میں سے بچوں کے 31.1 فیصد جبکہ بچیوں کے 33.4 فیصد سکولوں میں بیٹھنے کے لیے میز، کرسیاں یا پھر چٹائی جیسی بنیادی سہولیات تک میسر نہیں۔

سیکریٹری ثانوی تعلیم شیر خان بازئی نے بند سکولوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بند سکولوں کی تعداد اس وقت چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، سکول بند ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اکثر سکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے۔ جب کوئی استاد چھٹی لیتا ہے، ریٹائر ہوتا ہے یا پھر انتقال کر جاتا ہے تو سکول بند ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ صوبے بھر میں 12 لاکھ سے زائد بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ کرونا وبا کے باعث رئیل ٹائم مانیٹرنگ کی رپورٹ برائے20-2019 جاری نہیں کی جا سکی جو کہ جلد جاری کی جائے گی جس میں تازہ اعداد شمار شامل ہوں گے۔

سیکریٹری ثانوی تعلیم شیر خان بازئی بتاتے ہیں: محکمہ تعلیم کو پانچ سالہ جامع منصوبہ بندی کے تحت 72 ارب روپے کی ضرورت ہے، جبکہ محکمہ مالی بحرانوں کا شکار ہے۔ اس سال چار ہزار اساتذہ کی تقرریاں کی گئی ہیں۔

تاہم مزید چھ سے سات ہزار تک اسامیاں خالی ہیں۔

وہ سکول جہاں ایک استاد پڑھایا کرتا تھا وہاں اب اساتذہ کی تعداد بڑھائی جا رہی ہے، تاکہ ایک استاد کے جانے سے پورا سکول بند نہ ہو۔

صوبائی وزیر تعلیم سردار یار محمد رند کے مطابق تعلیم کی بہتری ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

میں نے برملا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ محکمہ میں اساتذہ کی شدید قلت سمیت بجٹ کا بھی کم ہونا ہے۔ تاہم میں نے وزیراعلی بلوچستان سے درخواست کی ہے وہ محکمہ تعلیم کا بجٹ بڑھائیں تاکہ تعلیمی نظام میں بہتری آسکے۔ تعلیم کی بہتری کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ہم بلوچستان کے 33 اضلاع میں ریزیڈیشنل سکول قائم کرنے جا رہے ہیں اور اساتذہ کو تربیت کے لیے امریکہ بھی بھیجا جائے گا۔ لیکن ہمارے صوبے کی حالت ایسی ہے کہ والدین اپنے بچوں کو سکول تک نہیں بھیج سکتے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں