پاکستان میں آزادی اظہارپر ریاستی قدغن – دوستین بلوچ

0
181

صحافیوں کے لیے پاکستان ایک خطرناک ترین ملک قرار دیا جاتا ہے، اس لیے کہ2000 سے اب تک140 سے زائد صحافی اپنے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک پروان نہیں چھڑتا،یا اس ملک میں جمہوریت نہیں آتی اور معاشی ترقی ممکن نہیں ہو سکتا جب تک وہاں کی چوتھی اہم ستون میڈیا آزاد نہ ہو اور اظہار آزادی کو آزادی نہ ہو۔

جس سماج میں اظہار آزادی پر قدفن لگا ہو وہ سماج جمود کا شکار ہوتا ہے اور ظلم وجبر کا راج سوچنے کی صلاحیت کو قید کر دیتی ہے اور ایک خاص طبقہ یا طاقت حکمرانی کر کے انسان کی حقوق سے کھیلتا ہے،ایسی ایک مثال ہمارے سامنے پاکستان کی ہے۔

اظہار رائے کی آزادی ایک انسانی حق ہے اور عالمی حقوق انسانی کے اعلامیہ کے آرٹیکل19،اظہار رائے کی آزادی،آزادی صحافت کا احاطہ کرتی ہے، اور افراد، برادریوں کو انتقام،سنسر شپ یا سزا کے خوف کے بغیر اپنی رائے بیان کرنے کا حق دیتی ہے۔ ایک موثر میڈیا بھی اس قانونی بنیاد پر منعصر ہے کہ آزادی اظہار رائے اور آزادنہ طور پر رپورٹ کرئے۔تنقیدی،دھمکی یا سزا کے خوف کے بغیر اظہار رائے کی آزادی آپ کے گھر میں طنز سے لے کر سیاسی مہموں تک ہر بات کا احاطہ کرتی ہے،یہ ایک بنیادی انسانی حق ہے جو شہریوں کو آزادنہ اور مداخلت کے بغیر بولنے کی اجازت دیتا ہے۔

مگر یہ آزادی پاکستان جیسے ملٹری بیسڈ شدت پسند ملک میں عوام اور میڈیا کو حاصل نہیں ہے۔

مقامی اور قومی رپورٹرز،بلاگرز اور خبر رساں افراد اپنے آس پاس کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرسکتے ہیں،اظہار رائے کی آزادی قانونی بات ہے،جس سے لوگوں کو موجودہ واقعات اور عوامی مفادات کے امور کے بارے میں معلومات تک رسائی حاصل ہوتی ہے،چائے وہ بڑی کمپنیوں،مقامی اخبارات یا شہری صحافت اور سوشل میڈیا کے ذریعہ ایک دوسرے سے ہو۔

جب آزادی اظہار رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور اس کو تسلیم کیا جاتا ہے تو میڈیا سیاست،معاشیات اور معاشرتی واقعات کی آزادی کے ساتھ آزادانہ طور پر رپورٹنگ ہو سکتی ہے۔

معیاری صحافت کے لیے یہ ضروری ہے کہ مشکل سوالات پوچھ سکے،دلچسپ کہانیوں پر عمل پھیرا ہوں،عدم تجادات کا پتہ لگائیں اور معاملات پر درست رپورٹنگ کریں،ہمارے ارد گرد کی دنیا میں کیا ہو رہا ہے یہ جاننے کے لیے وقت،توانائی اور مہارت کو وقف کر کے ایک آزاد پریس اہم معلومات کو عوامی میدان میں لایا جائے۔مگر یہ سب پاکستان میں ممکن نہیں،جہاں میڈیا،صحافت اسٹیبلشمنٹ کی رکھیل بن چکی ہے،ایسے میں توانا سماج اور جمہوریت ممکن نہیں ہے۔

عوامی مباحثے کے لیے درست معلومات بہت اہمیت کی حامل ہے،آزادانہ طور پر تحقیق اور رپورٹنگ ہی سے معاشرے پروان چھڑتے ہیں،اور علم وآگاہی سے ہی سماج میں مضبوط کیڈر پیدا ہوتے ہیں،مگر پاکستان جیسے ریاست میں جہاں تحقیق،معلومات،آزادی اظہار پر قدغن ہے،ایسے میں عوامی مباحثے اور تحقیقی رپورٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے معاشرہ جمود کا شکار ہے، اورمذہبی شدت پسندی کا نظریہ عوام پر غالب ہے، جو ریاستی خفیہ ادارے و فوج کی سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔

سورج کی روشنی بہترین جراثیم کش دوا ہے،آزادانہ رپورٹنگ بعض اوقات پوشیدہ موضوعات پر روشنی ڈالتی ہے اور طاقتور افراد اور اداروں پر اہم چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ توازن فراہم کرتی ہے۔ اسی ڈر کی وجہ سے ریاستی فوج کسی صورت بھی خود مختار پریس کے حق میں نہیں رہی ہے اس لیے کہ پھر طاقت عوام کے ہاتھ میں چلی جائے گی اور انکی حالت عوامی ملازم کے سوا کچھ نہیں رہے گی۔

عوام کی توجہ سے جانچ پڑتال پیدا ہوتی ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے کہ اظہار رائے کی آزادی ہو،مگر موجودہ حالات میں اگر ہم پاکستان کو دیکھیں تو میڈیا صرف ریاستی فوج کی ترجمان ہے اور انہوں نے میڈیا،صحافت کو اپنی شکنجوں میں جھکڑا ہوا ہے، ایسے میں اگر کچھ بہادر صحافی سنسر شپ سے قطح نظر،موضوعات پر اپنے خیالات کا آزادانہ اظہاریارپورٹنگ کرتے ہیں تو وہ مارے جاتے ہیں،یا اکثرقانونی،مقدمات،جرمانے،جیل کی سزا یا تشدد کا نشانہ بنائے جاتے ہیں۔

اظہار رائے کی آزادی براہ راست اور بالواسطہ دونوں طرح انسانی حقوق کی وسیع اقسام کی حمایت کرتی ہے،انسانی حقوق کی پامالی جیسے اذیتوں،ظلم و ستم اور مقامی لوگوں کی زمینی حقوق میں مداخلت پر روشنی ڈال سکتا ہے۔۔درست اطلاع دینے کے بغیر انسانی حقوق کی بہت سی خلاف ورزیوں کے بارے میں معلومات نہیں ہو سکتا ہے اور جبر اًستثنیٰ کے ساتھ جاری رہتا ہے۔

اظہار رائے کی آزادی لوگوں کو اپنی کہانیاں سنانے،وکالت کرنے میں مدد کرنے اورحکومتوں کو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیاروں کے مطابق رکھنے کا پریشنز ڈالتی ہے۔

مگر پاکستان میں صورت حال مختلف ہے،کنٹرول میڈیا کی وجہ سے وہاں مظلوم عوام کی آواز دبائی جا چکی ہے،آزادی اظہار پر پابندی کی وجہ سے بلوچ،سندھی،پشتون اقوام آج سخت تکالیف کا شکار ہیں،مگر کنٹرول میڈیا جو پاکستانی فوج اور بدنام آئی ایس آئی کے کنٹرول میں ہے،وہاں ان مظلوم اقوام پر جاری جبر رپورٹ نہیں ہوتے۔ جس سے پاکستانی فوج اور دیگر ریاستی دہشت گرد گرہوں کو شے ملتی ہے اور وہ اپنے جبر کو مزید قوت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں ملک کی اسٹریم میڈیا پر جب اظہار آزادی یا آزادی صحافت پرعسکری اسٹیبلشمنٹ نے قدغن لگادی اور پورا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا تواس بیچ اظہار آزادی پر یقین رکھنے والے صحافی، انسانی حقوق کارکنان و دانشوروں سمیت سیاسی ورکرز نے اپنا رخ سوشل میڈیا کے سمت کردیا جہاں وہ اپنا اظہارآزادانہ طور پر کر رہے ہیں لیکن وہاں بھی اب ریاستی اداروں نے ان پرطرح طرح کی بندشیں لگانا شروع کردی ہیں۔

جیسے کہ سائبر کرائم کے نام سے بنائی گئی قانون کے تحت ان افراد پر شکنجا کسا جارہا ہے جو ریاست اور حکومت کی انسانی حقوق پامالیوں کی پالیسیوں پر لب کشائی یا تنقید کرتے ہیں۔اس کے پاداش میں کئی صحافیوں کو ریاستی اداروں کی جانب سے جبری طور پر لاپتہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

آزادی اظہار پر جب ریاستی اداروں کی جانب سے جبری گمشدگیوں یا ڈرانے دھمکانے پرسوشل میڈیا میں عوامی ردعمل سنگین ہوتا ہے ریاستی ادارے مجبوراً جبری طور پر لاپتہ کئے گئے افراد کوریلیز کردیتے ہیں۔

میڈیا کے عالمی اداروں کو ایسے ریاست کے خلاف آواز بلند کر کے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر اُٹھانا چائیے،تاکہ آزادی صحافت کو بچایا جا سکے اور پاکستان میں بسے مظلوم اقوام پر جاری جبر اور غیر قانونی قبضے کو عالمی اداروں میں بحث و مباحثے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دوستین بلوچ ،(سنگر میڈیا) کے چیف ایڈیٹر ہیں

@DostenBaloch1

Editor-in-chief , Sangar Media , Journalist & Political Analyst

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں