پاکستان: کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف مظاہرہ،نامعلوم افراد کا جلاؤ

0
95

پاکستان کے صوبہ سندھ کے راجدانی کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے خلاف ہزاروں افراد کا مجمع، پولیس تشدد سے حالات بے قابو، دھرنے پر پولیس تشدد کے خلاف 9 جون کو سندھ بھر میں احتجاج اور دھرنوں کی کال دی گئی ہے۔

کراچی میں ملیر اور گڈاپ کی زمینوں پر بحریہ کے قبضہ کے خلاف بحریہ ٹاؤن کے گیٹ کے سامنے سندھ ایکشن کمیٹی کی طرف سے دھرنا دیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی پولیس کی طرف سے پر امن مظاہرین کو روکنے کی کوشش میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں اور نامعلوم افراد نے بحریہ کے گیٹ کو اور بحریہ کے اندر کئی عمارتوں کو آگ لگا دیا اور توڑ پھوڑ کی، سندھ ایکشن کمیٹی نے اس توڑ پھوڑ سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اسی شرپسندی سے تعبیر کیا۔

سندھ ایکشن کمیٹی، بی وائی سی، سندھ انڈیجینئس الائنس اور دیگر رہنماؤں نے بحریہ کے گیٹ کو نذر آتش کرنے واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ سندھ ایکشن کمیٹی نے اسے ملک ریاض اور پیپلزپارٹی کی مشترکہ سازش قرار دی ہے۔

احتجاج کے دوران ایم نائن سپر ہائے وے پر پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے، پولیس نے لاٹھی چارج بھی کی اور کچھ مظاہرین کو گرفتار بھی کیا گیا۔دھرنے پر پولیس تشدد کے خلاف 9 جون کو سندھ بھر میں احتجاج اور دھرنوں کی کال دی گئی ہے۔

سندھ ایکشن کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی کی ملیر اور گڈاپ کے تاریخی دیہاتوں کی زمینوں پر بحریہ ٹاؤن انتظامیہ، نیو ڈی ایچ اے، کمانڈر سٹی اور فضائیہ ٹاؤن سمیت سندھ کی ساری ساحلی پٹی پر بنائے جانے والے میگا پراجیکٹس کے خلاف آج سندھ کے تمام سیاسی، سماجی اور قومپرست جماعتوں کے مشترکہ اتحاد ’سندھ ایکشن کمیٹی‘ کی جانب سے بحریہ ٹاؤن گیٹ پر دھرنا دیا گیا، جس میں سندھ کے ہزاروں لاگوں نے شرکت کی۔

احتجاج کی رہنمائی سندھ انڈیجینیئس الائنس کے رہنما یوسف مستی خان، گل حسن کلمتی، حفیظ بلوچ، سندھ ایکشن کمیٹی اور سندھ یونائیٹیڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ، سندھ ترقی پسند پارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر قادر مگسی، جیئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین صنعان خان قریشی، جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو، عوامی تحریک کے چیرمین ڈاکٹر رسول بخش خاصخیلی، جسقم (آریسر) کے چیئرمین اسلم خیرپوری، ورکرز مزاحمت کے رہنماء مسرور شاہ و دیگر نے کی۔جبکہ سندھ سجاگی فورم کے رہنما محب آزاد، سارنگ جویو، سندھ ستھ کے رہنما مہر ڈبائی اور دیگر کئی سیاسی سماجی فورمز اور تنظیموں کے رہنماء بھی شریک ہوئے۔

احتجاج میں رکاوٹینں ڈالنے کے لیے صبح سے سارے سندھ کے روڈ اور رستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی، جنہوں نے قافلوں کو جامشورو،سجاول، بٹھورو، نوری آباد اور کاٹھوڑ سمیت کئی جگہ پر روکے رکھا، جن سے کارکنان کی وقفے قفے سے جھڑپیں جاری رہیں۔ احتجاج کے دوران نامعلوم افراد نے بحریہ ٹاؤن کے گیٹ کو آگ لگادی اور بحریہ ٹاؤن کے اندر کئی بلڈنگوں کو نظر آتش کردیا۔

دوسری جانب ایم نائین سپر ہائے وے پرجاری پرامن احتجاج پر پولیس نے شیلنگ او ر فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں درجنوں کارکنان، عورتیں اور بچے زخمی ہوئے، جس پر کارکنان نے بھرپور مزاحمت کی۔ پولیس نے پرامن کارکنان پر لاٹھی چارج، شیلنگ اور فائرنگ کرکے درجنوں کارکنان کو گرفتار کردیا ہے۔

سندھ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے احتجاج ختم ہونے کے بعد جامشورو میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کارکنان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے اور پرامن دھرنے پر ریاستی حملے کے خلاف 9 جون کو سندھ بھر میں دھرنوں اور مظاہروں کا اعلان کیا ہے جبکہ اس دن پر مرکز ی احتجاج کے طور پر سندھ اسمبلی کے گھیراؤ کا علان بھی کیا گیا ہے۔

دوسری جانب سندھ ایکشن کمیٹی نے بحریہ ٹاؤن کے گیٹ اور بلڈنگس پر ہونے والے پرتشدد واقعات کو ملک ریاض اور پیپلز پارٹی کی جانب سے پرامن دھرنے کو خراب کرنے کی سازش کرتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن انتظامیہ نے سازش رچی ہوگی، آگ لگانے والوں کا دھرنا جماعتوں سے تعلق نہیں تھا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں