راشد حسین بلوچ کی جبری گمشدگی کو 3 سال مکمل، کراچی اور جنوبی کوریا میں احتجاجی مظاہرے

0
97
فوٹو : سنگر آن لائن

پاکستان کے مرکزی شہر کراچی میں اتوار کے روز جبری گمشدگی کے شکار ہونے والے نوجوان راشد حسین بلوچ کی عدم بازیابی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

26 دسمبر 2018 کو خلیجی ملک متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ سے خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگی کے شکار راشد حسین بلوچ کو جون 2018 کو غیر قانونی طور پر پر پاکستان کے حوالہ کیا گیا تھا۔

لواحقین کی جانب سے کراچی پریس کلب کے سامنے لوگوں کی بڑی تعداد نے مظاہرے میں شرکت کی۔

ہاتھوں میں پلے کارڈز، بینرز اور لاپتہ راشد حسین کی تصویریں اٹھائے بچوں، خواتین اور نوجوانوں نے راشد حسین کی بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے انہیں عدالت میں پیش کرنے کی اپیل کی۔

احتجاجی مظاہرے میں سندھی، پشتون رہنماؤں نے بھی شرکت کر کے حکومت پاکستان سے راشد حسین کے بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت بلوچ، پشتون اور سندھی سیاسی کارکنوں کی بڑی تعداد پاکستان کے خفیہ اداروں کے تحویل میں ہیں۔

مظاہرے میں 30 اگست 2018 میں نوشکی سے جبری گمشدگی کے شکار ہونے وانے رشید اور آصف بلوچ کی لواحقین کے علاوہ چند مہینے پہلے کراچی جبری گمشدگی کا شکار ہونے والے عبدالحمید زہری کی بیٹی بھی شریک تھی جنہوں نے اپنے پیاروں کی تصاویر اٹھاکر پاکستانی اداروں سے انصاف کا مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرے سے جبری گمشدگی کے شکار راشد حسین کی والدہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راشد کے ساتھ ہمارے پورے گھر کی خوشیاں لاپتہ ہیں۔

والدہ نے کہا کہ میرے بیٹے پر جو سنگین الزامات لگائے گئے ہیں انہیں عدالتوں میں ثابت کیا جائے – اس طرح چوروں کی طرح میرے بیٹے کو لاپتہ کیا گیا ہے۔

والدہ نے ایک بار پھر تمام انسانی حقوق کے اداروں سے راشد کی بازیابی کے لئے کردار ادا کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ راشد حسین کی جرم اپنے لوگوں پر مظالم کے خلاف آواز اٹھانا تھا اور کچھ نہیں۔

راشد حسین کی بھتیجی ماہ زیب بلوچ نے کہا کہ میں پچھلے تین سالوں سے ان سڑکوں پر سراپا احتجاج ہوں اور میری یہ جدوجہد اپنے چچا کی بازیابی کے لئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی بوڑھی دادی کے ساتھ تین سالوں سے ہر چوک اور سڑکوں پر احتجاج کے علاوہ عدالتوں اور کمیشن میں پیش ہوئی ہوں لیکن ہمیں جھوٹے تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں ملی۔

انہوں نے کہا کہ میرے گھر میں خوشیاں نہیں ہم سب غم زدہ ہیں میرے چچا کو بغیر کسی جرم کے جھوٹے الزامات پر تین سالوں سے لاپتہ کیا گیا ہے۔

مظاہرہ سے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ، لاپتہ بلوچ رہنماء ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی بیٹی سمی بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راشد حسین کو عدالت میں پیش کرکے اس پر لگائے گئے الزامات کو ثابت کیا جائے اس طرح بغیر کسی جرم کے اسے لاپتہ کرنا خود ایک جرم ہے۔

سمی دین محمد بلوچ نے کہا کہ راشد کو جن الزامات پر جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا ہے اسی طرح دیگر پانچ اور نوجوانوں کو اسی الزامات کے تحت لاپتہ کرنے کے بعد عدالتوں میں پیش کیا گیا تھا اور ہم یہی کہتے ہیں کہ راشد حسین کو بھی عدالت میں پیش کیا جائے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے کارکن عبداللہ بلوچ نے کہا کہ راشد حسین انسانی حقوق کے ایک فعال کارکن اور اکثر ہمارے پروگراموں میں شریک تھا اسے لاپتہ کیا گیا ہے۔

عبداللہ بلوچ نے راشد حسین کی فوری بازیابی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے پاکستان اپنے عدالتوں میں پیش کرے۔ عبداللہ بلوچ نے کہا کہ پچھلے دنوں گوادر سے تین نوجوانوں کو لاپتہ کیا گیا بعد ازاں انہیں سی ٹی ڈی کراچی کے حوالے کیا گیا۔

عبداللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ میرا ایک فیملی سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہمیں کہا گیا تھا خاموش رہیں۔

عبداللہ بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے شکار ہونے والے لواحقین کو ڈرایا جاتا ہے اور بہت کم لوگ سامنے آتے ہیں۔

لواحقین راشد حسین بلوچ نے مظاہرہ کے بعد میڈیا کو جاری پریس ریلیز میں کہا کہ تین سال قبل آج ہی کے دن 26 دسمبر 2018 کو متحدہ عرب امارات سے 23 سالہ بلوچ نوجوان انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین کو گرفتاری کے بعد مسلسل چھ ماہ تک وہاں لاپتہ رکھا گیا اور بعد ازاں اسے غیر قانونی طور پر پر پاکستان کے حوالے کیا گیا۔

لواحقین کے مطابق اس عرصے میں نہ ہی ان پر کوئی کیس چارج کی گئی نہ ہی انہیں کسی عدالتی فور م پر پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کے حوالے سے کوئی آگاہی اور معلومات فراہم کی گئی- اور نہ ہی قانونی وکیل کوان تک رسائی دی گئی۔

لواحقین کے مطابق 3 جولائی 2019 کو پاکستان کے تمام میڈیا جن میں جیو، اے آر وائی اور دیگر چینلز شامل ہیں کہ یہ خبر بریک کی گئی تھی کہکراچی میں چینی ایمبسی حملے میں ملوث ملزم راشد حسین کو دبئی سے انٹرپول کے ذریعے پاکستان کے حوالے کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ راشد حسین پر جتنے الزامات لگائے گئے انکو ثابت کرنے میں ناکامی کی صورت میں ریاست پاکستان راشد حسین کی جبری گمشدگی سے انکاری ہے۔

دریں اثناء سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بلوچ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس (بی ایس ایم اے) کی جانب سے راشد حسین کی جبری گمشدگی کے تین سال مکمل ہونے پر ایک کمیپن منعقد کی گئی۔

مختلف بلوچ، سندھی، پشتون اور دیگر سوشل اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے راشد حسین کی عدم بازیابی کے خلاف ٹوئیٹ کرتے ہوئے ایک بار پھر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے راشد کی بازیابی کیلئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔

بلوچ سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ راشد حسین بلوچ کو 26 دسمبر 2018 کو متحدہ عرب امارات شارجہ سے پاکستان کی حکم پر جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔

ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے متحدہ عرب امارات کی خفیہ ایجنسی نے چھ مہینے تک راشد حسین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں پاکستان کے حوالے کیا۔

مزید انہوں نے کہا کہ راشد حسین کی متحدہ عرب امارات سے جبری گمشدگی اور پاکستان حوالگی کے ناقابل تردید شواہد ہیں۔ آج تین سال گزر گئے لیکن متحدہ عرب امارات اور پاکستان دونوں خاموش ہیں اگر راشد کو کچھ ہوا تو یہ دنوں ریاست زمہ دار ہیں۔

راشد حسین بلوچ کی جبری گمشدگی کو پانچ سال مکمل ہونے پر بی این ایم کے زیر اہتمام جنوبی کوریا میں احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔ (فوٹو : بشکریہ بی این ایم)

اسی طرح بی این ایم جنوبی کوریا زون نے انسانی حقوق اوربلوچ سوشل میڈیا کارکن راشد حسین کی گمشدگی کے تین سال مکمل ہونے پر ایک احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا۔ راشدحسین کو متحدہ عرب امارات میں زبردستی گرفتار کرکے غیر قانونی طور پر پاکستان ڈی پورٹ کیا گیا تھا۔

مظاہرین نے راشد حسین کی بحفاظت رہائی اور بلوچستان میں پاکستانی مظالم کے خلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین نے راشد حسین اور دیگر ہزاروں بلوچوں کی گمشدگی کے حوالے سے پمفلٹ بھی تقسیم کیے۔

مقررین نے بلوچستان میں جبری گمشدگی کے گھناؤنے جرم کو اجاگر کرنے کے لیے تقاریر بھی کیں۔

بی این ایم جنوبی کوریا زون کے نائب صدر سیم بلوچ نے بلوچستان میں پاکستانی فورسز کے ہاتھوں راشد حسین کی جبری گمشدگی کوتین سال مکمل ہونے اور دیگر ہزاروں بلوچوں کی جبری گمشدگی کے بارے میں خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سب بلوچ قوم کے ساتھ پاکستانی فوج کے ناروا اور پرتشدد رویے سے واقف ہیں۔ ہم بلوچ کارکنوں کو ہماری سیاسی سرگرمیوں اور پاکستان کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھانے پر گرفتار اور جبری لاپتہ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نہ صرف بلوچستان بلکہ بیرون ملک بھی بلوچ کارکنوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ کریمہ بلوچ کو پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں قتل کر دیا تھا۔ یہ بیرونی ممالک میں پاکستان کی طرف سے بلوچ نسل کشی کا نیا طریقہ ہے۔

سیم بلوچ نے عالمی برادری سے بلوچستان میں پاکستانی جنگی جرائم کا نوٹس لینے کی اپیل کرتے ہوئے اختتام کیا۔

بختاور بلوچ نے اپنی تقریر کورین زبان میں کی اور انہی خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ راشد حسین بلوچ انسانی حقوق کے کارکن تھے لیکن وہ گزشتہ تین سال سے پاکستانی ٹارچر سیل میں ہیں۔ اس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ بلوچستان میں پاکستانی مظالم اور پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسیوں کی طرف سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف بات کرتے تھے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں