پاکستانی مقبوضہ کشمیر:حکومت کی جانب سے مقبول بٹ کی برسی منانے پر طلباء کو انکوائری نوٹس

0
167

پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں یونیورسٹی آف کوٹلی انتظامیہ کا طالب علم رہنماؤں کے خلاف مقبول بٹ کی برسی منانے پر انکوائری، نوٹس جاری کر دیا گیا۔
آزادی پسند رہنماؤں کی سخت مزمت،انہوں نے کہا کہ یہ اوچھے ہتھکنڈے ہیں۔ آزادی پسند طلبائکو ہراساں کیا جانا شرمناک فعل ہے۔ ترقی پسندوں، آزادی پسندوں، انسانی حقوق کارکنوں اور وکلاء سراپا احتجاج۔

جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی، سماج بدلو تحریک اور پی ایس سی کی طالبات طلباء سے اظہار یکجہتی۔جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی چیف آرگنائزر کامریڈ شاہ نواز علی شیر ایڈووکیٹ،ہائی کورٹ، پی ایس سی کے صدر کامریڈ قیصر جاوید، سماج بدلو تحریک کے مرکزی راہنماء کامریڈ نوید انجم عاصی ایڈووکیٹ، سردار علی افضل ایڈووکیٹ، سردار جواد انور خان ایڈووکیٹ، سردار مظہر انور خان ایڈووکیٹ، عنایت علی شاہ، سردار منیم ایڈووکیٹ، جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری ابرار احمد آزاد ایڈووکیٹ و دیگر راہنماؤں نے کہا ہے کہ 11 فروری کو مقبول بٹ کی برسی منانے کی پاداش میں کوٹلی یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سے طلب کر کے یونیورسٹی آف کوٹلی نے سامراجیت کی واضح مثال قائم کر دی۔
ہم طالبِ علم رہنما آزادی پسند و ترقی پسند راہنما کامریڈ افراء شبیر چوہدری اور ان کے طالب علم ساتھیوں کی پشت پر کھڑے ہیں۔ مقبول بٹ جموں کشمیر کے قومی ہیرو اور سانجھے راہنماء ہیں۔ مقبول بٹ کی برسی منانے سے روکنے کی کوشش کرنا اور ان کے عقیدت مندوں کو ہراساں کرنا بدترین توہین ہے۔

قید و بند، مقدمات اور انکوائریاں ہمارے جنون کا حصہ اور جیل دوسرا گھر ہے۔ ایسے قابل مزمت اقدام، ہتھکنڈوں سے طلباء کو طلباء حقوق و قومی جدوجہد سے روکا نہیں جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی آف کوٹلی کا یہ شرمناک ترین اقدام قابل مزمت، غیر قانونی و غیر آئینی و غیر اخلاقی ہے۔ جموں کشمیر عوامی ورکرز پارٹی، سماج بدلو تحریک طلبات و طلباء کے ساتھ ہیں اور ان سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں۔ ہم یونیورسٹی آف کوٹلی کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ اگر بے بنیاد، خلاف حقائق و صورت موقع، غیر قانونی و فاشسٹ، توسیع پسندانہ عزائم کے حامل انکوائری ختم نہیں کی گی تو ہم یونیورسٹی آف کوٹلی انتظامیہ کے خلاف ریاست گیر و بین الاقوامی تحریک چلائیں گے۔ مقبول بٹ نے کہا تھا کہ ” کچھ جرم ایسے بھی ہیں جن کا ارتکاب اہل عزم و ایمان کے لیے باعث صد افتخار ہوتا ہے ان میں یقیناً جرم ضعیفی شامل نہیں جس کی سزا مرگ مفاجات ہوتی ہے البتہ بغاوت کا وہ جرم ضرور شامل ہے جو غلاموں میں سوز یقیں پیدا کرتا ہے اس جرم کے ارتکاب پر اظہار ندامت نہیں بلکہ اظہار مسرت کر نا چاہیے۔” کوٹلی یونیورسٹی کرپشن کا گڑھ بن چکی، ڈسپلن کے نام پر طالبات، طلباء کے حقوق سلب کیے جاتے ہیں، تعلمی کاکردگی صفر اور ناقابل تسلی بخش ہے۔ سہولیات کا فقدان ہے۔ کوٹلی انتظامیہ لینٹ افسران کی آلہ کار نہ بنے۔ 2021 کی آڈٹ رپورٹ میں کروڑوں کی کرپشن، طالبات کو ہراساں کرنے کے سیکنڈل، ریٹائر ملازمین کی پنشن کے تحفظات اس یونیورسٹی کے شرمناک اقدام ہیں اور بدنما داغ ہیں۔ انتظامیہ اپنی تعلیمی نظام و ذمہ داریوں پر توجہ دے۔ طالبات و طلبہ کی آزادی اظہار رائے سلب کرنے کی قابل مزمت حرکت ہے۔ انکوائری آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے۔ آزاد جموں کشمیر، پاکستان و دنیا بھر کی وکلاء برادری بھی افراء شبیر چوہدری و ان کے ساتھی طالبات و طلباء کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ اگر انکوائری ختم نہ کی گی اور انتظامیہ اوچھی حرکتوں سے باز نہ آئی تو انسانی حقوق سمیت دنیا بھر کے متعلقہ فورم پر اس مسلہ کو اٹھایا جائے گا۔ کامریڈ قیصر جاوید نے کہا ہے کہ پروگریسیو کلیکیٹو کونسل اور خدمت خلق موؤمنٹ افراء شبیر چوہدری اور ان کے ساتھیوں سے اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ ممبران بار ایسوسی ایشن نکیال، کوٹلی، راولپنڈی و میرپور نے بھی اس لاء سٹوڈنٹس کو ہراساں کرنے کی شدید مزمت کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی کا بھی عندیہ دیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں