مقبوضہ بلوچستان:2021میں پاکستانی فورسز کے598فوجی آپریشنز, 633 افرادلاپتہ،290افرادقتل،3000سے زائد گھروں میں لوٹ ماراور نذر آتش

0
86

مقبوضہ بلوچستان میں سال2021 کا سورج سرزمین کو ریاستی جبر سے لہولہان کرتے غروب ہوتے ہوئے ایک خونی سال ثابت ہوا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی فورسز نے سال 2021 میں 598 فوجی آپریشنز کیے،جن میں 633 بلوچ فرزندوں کو جبری گمشدگی کا شکار بنا یا گیا۔290 نعشیں ملیں،جن میں 141 افرادقابض ریاستی فورسز و انکے تشکیل دیے گئے ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں شہید ہوئے جبکہ99 لاشوں کے محرکات سامنے نہیں آئے، اور33 لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔البتہ 100جبری گمشدگی کے شکار بلوچ فرزندوں کو بازیاب بھی کیا گیا جنہیں مختلف اوقات میں اس جبر کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
2021ء میں ریاستی عسکری اداروں کی کارروائیوں میں 1900 گھروں میں قابض نے لوٹ مار کی اورایک ہزار سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا۔گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے700 سے زائد مال مویشی مارے گئے اور فورسز و انکے ڈیتھ اسکواڈز نے دوران آُپریشنز1700 مویشیاں اپنے ساتھ لے گئے۔
حصار بندی کا سلسلہ بھی بدستور جاری رہا جہاں گزشتہ سال قابض نے 35 نئی فوجی چیک پوسٹیں قائم کیں۔ قابض کی بربریت نے گزشتہ ادوار کی تاریخ دہرائی اور درجن سے زائد گاؤں کے باسیوں کو جبری نقل مکانی پہ مجبور کیا گیا۔ اس کے علاوہ جنگلات و کھڑی فصلوں کو نظرآتش کرنے کے واقعات مسلسل پیش آنے کے ساتھ ساتھ عورتوں اور بچوں کی جبری گمشدگی کے واقعات کے ساتھ ساتھ قابض کے عسکری اہلکاروں کے ہاتھوں ان کی عصمت دری کے واقعات بھی تواتر کے سے رونما ہوتے رہیں۔

سال 2021
سال 2021ء کے واقعات کی تفصیل درج ذیل ہیں۔

جنوری


ِ جنوری کے مہینے میں قابض ریاستی اداروں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 50سے زائد فوجی آپریشنز کیے۔جن میں 35افراد کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا، 21افراد کو شہید کیا گیا جن میں بولان میں مزدوری کرنے والے گیارہ(11)ہزارہ کانکن بھی شامل ہیں جنہیں ریاست کے مذہبی لے پالکوں نے تشدد کے بعد شہید کیا۔ فوجی بربریت کے دوران 50 سے زائد گھر نذر آتش کیے گئے جبکہ 23افراد جنہیں سال2013سے 2020ء کے دوران ریاستی اہلکاروں نے جبری گمشدگی کا شکاربنایا تھا انہیں زندانوں سے آزادی نصیب ہوئی۔

فروری


فروری2021 میں حسب معمول پاکستانی فوج نے بلوچستان بھر میں 70سے زائد زمینی و فضائی آپریشنز کئے۔ قابض ریاست کی بربریت کا شکار علاقوں میں سرِ فہرست آواران،ضلع کیچ، ضلع پنجگور،سمیت بولان،کوہلو،سبی ڈیرہ بگٹی،مستونگ،قلات کے علاقے رہے۔ جن میں دو سو سے زائد گھروں کو نذر آتش کرنے کے ساتھ دو سو گھروں میں لوٹ مار کی گئی،خواتین و بچوں پر تشدد کے ساتھ 60 افراد کو فورسز نے لاپتہ کیا۔دو اسکولوں پر فوج نے قبضہ کر کے کیمپ میں تبدیل کیا۔مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس دوران 150 سے زائد مویشیاں فوج اپنے ساتھ لے گئی جبکہ سو سے زائدمال مویشی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے مارے گئے۔
گزشتہ ادوار کی طرح مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ بھی جاری رہا، اس دوران 10افراد کی لاشیں بھی ملی۔20افراد ریاستی عقوبت خانوں سے بازیاب بھی ہوئے۔جنہیں 2013ء سے 2020ء کے دوران جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا تھا۔

مارچ


مارچ کے مہینے میں دستیاب اعداد و شمار کے مطابق مقبوضہ بلوچستان میں 50 سے زائد فوجی آپریشنز میں 71 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا گیا۔دوران آپریشنز فورسز نے دو سو سے زائد گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ جھاؤ،کوہلو میں سو سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا،جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے سو سے زائد مویشیاں بھی مارے گئے،تین سو سے زائد مویشیاں پاکستانی فوج اپنے ساتھ لے گئے۔اس کے علاوہ بلوچستان بعض دیگر اضلاع آوران، پنجگو، کیچ، اور گوادرکے مختلف علاقوں میں زمینی و فضائی کارروائیاں بھی کی گئی۔اسی مہینے دس لاشیں ملیں جس میں پانچ بلوچ فرزندوں کو زیر حراست شہید کیا گیا جبکہ ایک بلوچ کو پروم میں پاکستانی فورسز نے فائرنگ کر کے قتل کیا۔ چار لاشوں کے محرکات سامنے نہیں آ سکے۔اسی مہینے میں 7 افراد فورسز کے عقوبت خانوں سے بازیاب ہوئے،جنہیں 2014ء سے 2021ء کے دوران جبری طورپر لاپتہ کیا گیا تھا۔گزشتہ مہینوں کی طرح اس ماہ بھی قابض ریاست نے چند ایک فوجی چوکیاں بھی قائم کیں جن میں سکولوں میں قائم کی گئی چوکیاں بھی شامل ہیں۔

اپریل


اپریل کے مہینے میں جہاں مقبوضہ بلوچستان میں ریاستی فورسز نے39 آپریشنز میں 41 افراد کو لاپتہ کیا،وہیں دوران آپریشنز80 گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ فورسز نے105 گھروں کو نذ ر آتش کیا اور سو سے زائد مال مویشی ساتھ لے گئے۔اس دوران27 نعشیں رپورٹ ہوئیں،جس میں سے19 بلوچ پاکستانی فورسز،انکی خفیہ اداروں ڈیتھ اسکواڈ کے ہاتھوں شہید ہوئے۔چار لاشوں کے محرکات سامنے نہ آ سکے، جبکہ چار بلوچ بھوک اور پیاس سے ریاستی فورسز کی درندگی کا نشانہ ہو کر جابحق ہو گئے۔اسی مہینے فورسز کی جانب سے ایک اسکول کو آرمی کیمپ میں تبدیل کرنے کے ساتھ16 نئی چوکیاں بنائی گئیں۔ فورسز کی عقوبت خانوں سے7 افراد بازیاب ہوئے جنہیں سال 2017ء سے سال 2021ء کے دوران جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس مہینے ہوشاپ میں فوجی چوکی پر تعینات اہلکاروں نے 11 سالہ بچہ امیرمراد کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایابھی بنایا، جنسی تشدد کے یہ واقعات روز کا معمول بن چکا ہے۔ جس طرح قابض فورسز نے بنگال میں یہ غیر انسانی کھیل کھیلا اسی طرح بلوچستان میں بھی آئے روز یہ عمل دہرایا جارہا ہے۔
اپریل 2021ء میں ریاستی درندگی سے وہ بلوچ بھی متاثر ہوئے جو ہمسایہ ممالک میں مہاجرت کی زندگی گزاررہے ہیں۔ ان بلوچ مہاجرین میں 4افراد کو افغانستان جبکہ 3کو ایران میں پاکستانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں اور ان کی تشکیل دیا گیا ڈیتھ اکواڈ کے عملے نے شہید کیا۔جبکہ 4بلوچ فرزند بلوچستان کے مختلف علاقوں میں وطن کی دفاع میں شہید ہوئے۔

مئی


قابض ریاست کی ظلم و بربریت کا سلسلہ مئی کے مہینے میں بھی شدت کے ساتھ جاری رہا۔ اس دوران قابض ریاست کے فورسز نے60 سے زائد آپریشنز کیے۔دوران آپریشنز فورسز سینکڑوں مویشیاں اپنے ساتھ لے گئے اور جھاؤ،مشکے،گچک،سولیر میں جنگلات کو بھی جلایا گیا۔ضلع کیچ،بولان،آواران،پنجگور،قلات،کوہلو میں ریاستی فورسز کی زمینی و فضائی آپریشنز میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ قابض ریاستی فورسز کے ساتھ خلاف محاذ جنگ پر موجود بلوچ سرمچاروں نے بھی فورسز پر کئی کاری ضرب لگا کر انکے درجنوں اہلکاروں کو ہلاک کیا۔
ضلع آواران میں ایک دردناک واقع پیش آیا جب ریاستی فورسز کی جبر سے تنگ آ کر ایک باپ نے خود کشی کر لی۔ نور جان نے اپنی جان اس لیے دی کہ اسلام کی محافظ ریاستی فورسز نے انھیں انکی بیٹی کو آرمی کیمپ میں پیش ہونے کو کہا تھا،غیرت مند بلوچ نے بلوچ قومی وقار کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی جان دے دی اور دشمن فورسز کو اپنی لہو سے پیغام دیا کہ بلوچ اپنی غیرت،،عزت،وقار کے لیے جان دے سکتا ہے۔
قابض کی فوجی کارروائیوں کے دوران آبادیوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ریاستی جنگلات کو بھی جلا نے کا سلسلہ بدستورجاری رہا۔ یہ سلسلہ گزشتہ سال شروع کیا گیا اور اب اس میں تیزی لائی گئی ہے،جہاں جہاں فورسز آپریشنز کرتے ہیں،ان علاقوں میں جنگلات کو مکمل نذر آتش کیا جاتا ہے،مئی کے ماہ ضلع آواران،ضلع پنجگور اور بولان کے کئی علاقوں میں جنگلات کو آگ لگایا گیا،قدرتی چشموں کے پانیوں میں زہر ملاگیا تاکہ جاندار وہ پانی پینے سے مر جائیں۔
دوران آپریشن فورسز نے61 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا۔ وہیں فورسز کے عقوبت خانوں سے17 لاپتہ افراد بازیاب بھی ہوئے۔جنہیں 2016ء سے 2021ء کے دوران جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا تھا۔200 سے زائد گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ ڈیڑھ سو گھر وں سمیت جنگلات کو نذرآتش کرنے کے واقعات بھی رونما ہوئے۔31 نعشیں برآمد ہوئیں،جن میں 14 بلوچ شہید ہوئے جبکہ16 لاشوں کے محرکات سامنے نہیں آ سکے۔
ایک طرف قابض کی فوجی کارروائیوں میں شدت آگئی تھی تو دوسری جانب مختلف علاقوں کو محصور کرنے کے لیے اس نے کئی نئی چوکیاں قائم کیں جس کی زد میں دشت میں قائم ایک گرلز اسکول بھی آیا۔مئی کے مہینے میں ایک بزرگ بلوچ کو افغانستان میں ریاستی خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے نشانہ بنا کر شہید کیا اور ایک بچے کو ایرانی بلوچستان میں شہید کیا گیا۔


جون


جو ن کا مہینہ جہاں بلوچوں کے قہرمانیوں کا سامان لیے وارد ہوا وہیں پشتون قوم کو بھی ایک عظیم رہنما سے محروم ہونا پڑا۔
ماہ جون میں پاکستانی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 70 سے زائد فوجی آپریشنز کیے۔دوران آپریشنز فورسز نے چار سو گھروں میں لوٹ مار کی اور 200 سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا۔اس دوران بولان اور کوہلو کے علاقے زیادہ متاثر ہوئے۔دوران آپریشنز فورسز نے فصلوں کو نذر آتش کرنے کے ساتھ جنگلات کو بھی جلا ڈالا۔اسی طرح تین سو سے زائد مویشی دوران آپریشن ہلاک جبکہ700 سے زائد مال مویشی قابض ریاستی فورسزکے اہلکار اپنے ساتھ لے گئے۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق فورسز نے40 افراد کو حراست کے بعد لاپتہ کیا،جبکہ16 نعشیں ملیں، جس میں 12 افراد شہید ہوئے، جبکہ ایک لاش کی شناخت نہ ہو سکی اور تین لاشوں کے محرکات سامنے نہیں آ سکے۔اس دوران جبری گمشدگی کا شکار ایک شخص بازیاب بھی ہوا۔
ماہ جون میں کولواہ کے علاقے مادگءِ قلات میں پاکستانی فوجی اہلکار نے ایک 18 سالہ لڑکی کو جنسی ہراساں کیا۔ اس سے زبردستی عصمت دری کی کوشش کی گئی جس پر لڑکی نے شور مچا یا۔ لڑکی کی طرف سے مزاحمت اور شور مچانے پر اہل محلہ نے جمع ہوکر فوجی اہلکار کو دھر لیا اور بطور سزا ایک فوجی اہلکار کا سر منڈوادیا۔
بلوچستان میں فوجی اہلکاروں کی طرف سے خواتین اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ایسے کئی واقعات ہوتے ہیں جو رابطے کے ذرائع نہ ہونے اور لوگوں کی خوف کی وجہ سے رپورٹ نہیں ہوپاتے۔
بلوچوں کے ساتھ ساتھ پشتون قوم کو بھی ایک بڑے المیے کا شکار بنایا گیا جہاں پاکستان کے خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینئر رہنما لالہ عثمان خان کاکڑ پر ان کے گھر میں حملہ کیا۔ شدید زخمی حالات میں انہیں کراچی منتقل گیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوا۔واضع رہے کہ اگر عثمان کاکڑ کو پشتونوں کی آواز قرار دیا جاتا ہے لیکن حقیقتاً وہ مظلوموں کی آواز تھے۔
عثمان کاکڑ کی موت تمام مظلوم اقوام کیلئے ایک بڑا سانحہ ہے کیونکہ پشتون ہوں یا بلوچ یا، سندھی و دیگر مظلوم اقوام، انہوں نے سب کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کی۔

جولائی


جولائی کا مہینہ بھی مقبوضہ بلوچستان میں سنگینیوں کا مہینہ ثابت ہوا۔اس مہینے پاکستانی فورسز نے مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 30 سے زائد فوجی کارروائیاں ہوئیں جن میں سو سے زائد گھروں میں لوٹ مار کے ساتھ چالیس سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا،جبکہ گیشکور میں ایک پورے گاؤں کو جبری نقل مکانی پر مجبور کیا گیا۔ اس دوران دستیاب اعداد و شمار کے مطابق23 افراد کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا۔اسی مہینے 15 افراد ریاستی عقوبت خانوں سے بازیاب ہوئے، جنہیں سال 2017ء سال2021کے دوران جبری گمشدگی کا شکار بنایا گیا تھا۔
اسی مہینے 10 نعشیں برآمد ہوئیں جس میں ایک لاش کی شناخت نہ ہو سکی،جبکہ 5 لاشوں کے محرکات سامنے نہیں آئے اور چار بلوچ بشمول ایک بلوچ بیٹی شہید ہوئے۔

اگست


اگست کے مہینے میں پاکستانی فورسزنے مقبوضہ بلوچستان بھرمیں 50 سے زائد آپریشنز میں 53 افراد کو جبری طور پر لاپتہ کیا جبکہ اسی مہینے میں 57 نعشیں ملیں جس میں سے سی ٹی ڈی نے32 زیر حراست بلوچوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کیا۔اس دوران پانچ افراد ریاستی عقوبت خانوں سے بازیاب ہوئے۔اور سو سے زائد گھروں میں لوٹ مار کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔
مقبوضہ بلوچستان میں ماورائے عدالت پاکستانی فورسز کی انسانی حقوق کی پامالیاں حسب معمول عروج پر ہیں،مگر اگست کے مہینے میں کا ؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)نے نام پہ جعلی مقابلوں کے نام پر کئی بلوچوں کو قتل کیا جو پہلے سے پاکستانی فورسز کی زیر حراست تھے۔
گزشتہ سال سے پاکستانی فوج نے زیرحراست افراد کو کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)کے نام پہ جعلی مقابلوں کے نام پر قتل کرنا شروع کیا۔ اسی مہینے میں 32 جبری لاپتہ افراد کو زندانوں سے نکال کر انہیں سی ٹی ڈی کے ذریعے مقابلے کا نام دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام جبری لاپتہ افرادتھے جوپاکستانی فوج کے زندانوں میں قید تھے۔ پاکستان فورسز کے ہاتھوں ان کے اغوا ہونے کی تمام ثبوت موجود ہیں۔ زیرحراست افراد کو قتل کرنے کاسلسلہ نیانہیں ہے۔ پہلے مظلوم بلوچوں کو قتل کرکے پاکستانی فوج ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک دیتی تھی۔ بطور ریاست پاکستان میں یہ اخلاقی جرأت کبھی پیدا نہ ہوئی کہ وہ بلوچوں کے قتل اور اغوا کی ذمہ داری لے۔ اب بلوچ نسل کشی اور قتل عام کے لیے کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کا نام استعمال کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں اور بلوچ نسل کشی نہ صرف تیزی سے جاری ہے بلکہ اس میں شدت لائی جا رہی ہے۔ نیو کاہان میں پانچ افراد کو ایک جعلی انکاؤنٹر میں قتل کیا گیا جبکہ دو روز قبل دس افراد کو قتل کرکے نامعلوم اور لاوارث قرار دے کر ان کی لاشیں مستونگ میں ”نامعلوم افراد“ کی قبرستان میں دفنا دی گئیں۔ اس قبرستان میں اس سے پہلے یہاں دوسری فلاحی تنظیموں نے کئی لاشیں دفن کرکے ایک نیا قبرستان قائم کیا ہے جس میں اب تک ڈیڑھ سو زائد افراد کو لاوارث قرار دیکر دفنایا گیا ہے۔

ستمبر


اس مہینے پاکستانی فورسز نے بلوچستان میں 50 سے زائد فوجی آپریشنز کرتے ہوئے49 افراد کو جبری گمشدگی کا شکار بنایا،23 نعشیں ملی۔شہید ہونے واالوں میں ایک خاتون تاج بی بی کو پاکستانی فورسز نے گولیاں مار کر شہید کیا۔دوران آپریشنز ہرنائی میں 30سے زائد گھروں کو نذر آتش کیا گیا اور دوران آپریشنز بلوچستان بھر میں ستر سے زائد گھروں میں لوٹ مار کی گئی۔درجنوں مال مویشیاں گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے مارے گئے اور درجنوں مال مویشی فورسز اپنے ساتھ لے گئے۔
ستمبر کے مہینے میں ریاستی فورسز نے کوئٹہ میں طلباء کے پرامن احتجاج پر دھاوا بول کر درجنوں طلباء کو زخمی کیا،اور انکو گرفتار کیا،جبکہ فورسز کی تشدد سے حانی بلوچ جو پہلے سے بیمار تھی جانبر نہ ہو سکی اور شہید ہو گئی۔اسی طرح ضلع کیچ میں بے لگام ریاستی فورسز نے فائرنگ کر کے بلوچ بیٹی تاج بی بی کو شہید کیا،مگر بلوچیت کے دعو یدار پارلیمانی سیاست کرنے والے بلوچ نسل کشی پر اپنی کرسیوں کی خاطر گھونگے بہرے بنے ہیں،البتہ سول سوسائٹی نے ریاستی مظالم کے خلاف بھر پور احتجاج کیا۔
ماہ ستمبر میں بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر کے میرین ڈرائیو پر نصب محمد علی جناح کے مجسمے کو بم سے اڑا دیا گیا ہے۔
محمد علی جناح کو خان اف قلات احمد یار خان نے انگریز سامراج کے سامنے آزاد بلوچ ریاست کی جغرافیائی حیثیت کا مقدمہ لڑنے کیلئے اپنا وکیل مقرر کیا تھا لیکن اس مکار اور دھوکہ باز انسان نے انگریز سامراج کی جانب سے قائم کردہ نومولود ملک پاکستان فوج کے ذریعے بلوچ وطن پر فوج کشی کرکے اس کی آزاد حثیت کو ختم کردیا اور بزور طاقت ایسے غیر فطری نومولود پاکستان میں شامل کردیا۔
اسی مہینے جبری کی داستانوں میں مزید شدت دیکھنے کو ملی جہاں مشکے گجلی کے افراد کو مشکے جبری میں قائم فوجہ چھاؤنی منتقل کیا گیا جن کی تفصیل درج ذیل ہیں۔
خاندان نمبر 1۔عطامحمد ولد عبدالرحمان۔ عنایت اللہ ولد عطا محمد، چراگ ولد عنایت اللہ، کفایت خان ولد عنایت اللہ، بی بی آفیہ، بی بی شافیا بنت عنایت اللہ،خاندان نمبر 2۔ نیاز محمد ولد عبدالرحمان۔ عمرجان ولد نیاز محمد، مہران ولد نیاز محمد، یاسمین بنت نیاز محمد، ماہ نور بنت نیاز محمد، مہناز بنت نیاز محمد۔
خاندان نمبر 3۔ شیر محمد ولد عبدالرحمان، کلثوم بی بی، راشدہ بی بی بنت شیر محمد، صفت بی بی بنت شیر محمد،خاندان نمبر 4۔ یوسف ولد گل محمد،نوروز ولد یوسف،بینظیر بنت یوسف،گل خان ولد یوسف
خاندان نمبر 5۔ شریف ولد گل محمد، نجمہ بنت شریف،ظہیر ولد شریف،ضمیر ولد شریف،خاندان نمبر 6۔ یار محمد ولد بلوچ خان، بی بی حفیظہ، بی بی مناور،بی بی بختاور بنت یار محمد
خاندان نمبر 7۔محمد ولد بلوچ خان، غلام جان ولد محمد، گلاب ولد محمد، فریدہ بی بی بنت محمد،خاندان نمبر 8۔محمدنور ولد درمحمد، سرفراز ولد محمدنور، آرث ولد محمدنور، زیبی بنت محمدنور، گل صبا بنت محمد نور،خاندان نمبر 9۔ الہی بخش ولد در محمد، قدیر ولد الہی بخش، فاروق ولد الہی بخش، ممتاز ولد الہی بخش،فضیلہ بنت الہی بخش،خاندان نمبر 10۔ملا محمد علی، عبدالمالک ولد محمد علی، حسن علی ولد محمد علی، ملا دولت ولد محمد علی، طاہر ولد محمد علی، بی بی نسیمہ بنت محمد علی، سمل بی بی بنت محمد علی
خاندان نمبر 11۔غلام رسول ولد علی دوست، نواز ولد غلام رسول، عظیم ولد غلام رسول، ارزو بخش ولد غلام رسول،گوہر بی بی بنت غلام رسول حلیمہ بی بی بنت غلام رسول
خاندان نمبر 12۔عالم خان ولد علی دوست، وارث ولد عالم خان، علی احمد ولد عالم خان، یاسین ولد عالم خان
خاندان نمبر 13۔نبی داد ولد عیدمحمد، شاہ نظر ولد نبی داد، نصرت بی بی بنت نبی داد، ماہ جان بنت نبی داد، ماہ پری بنت نبی داد گل پری بنت نبی داد
خاندان نمبر 14۔غلام نبی ولد عید محمد، ندیم ولد غلام نبی، عبداللہ، مجید
خاندان نمبر 15۔عابد ولد شہید ثناء اللہ، ماجد ولد شہید ثناء اللہ، میرک ولد شہید ثناء اللہ، وسیم ولد شہید ثناء اللہ
خاندان نمبر16۔عبدالنبی ولد جان محمد، جلیل ولد عبدالنبی، ہونک ولد عبدالنبی، عبدالجبار ولد عبدالنبی حنیفہ بی بی بنت عبدالنبی
خاندان نمبر 17۔بابو محمد عالم ولد عبدالعزیز، امجد ولد محمد عالم، نواب ولد محمد عالم، جلال خان ولد محمد عالم، بلال ولد محمد عالم، جورک ولد محمد عالم، آمنہ بی بی بنت محمد عالم، صدف بی بی بنت محمد عالم
خاندان نمبر 18۔محمد علی ولد جان محمد، کوہی ولد محمد علی، بلوچ خان ولد محمد علی
خاندان نمبر 19۔خدا بخش ولد عبدالواحد،حمید جان ولد خدا بخش رحیم خان ولد خدا بخش
خاندان نمبر 20۔در خاتون بنت حاجی، رحمت ولد عبدالواحد، مراد ولد عبدالواحد
خاندان نمبر 21۔ خدا نظر ولد شہید علی بخش، حمل خان ولد شہید علی بخش، مرید جان ولد شہید علی بخش، ملک جان بنت شہید علی بخش
خاندان نمبر 22۔قادربخش ولد حکیم، ساہ جان ولد حکیم،لطیف ولد ساہ جان، رشید ولد ساہ جان، صورت ولد ساہ جان فہمید بی بی بنت شہید عرض محمد، سرباز ولد قادر بخش.

اکتوبر


اکتوبر کے مہینے میں بھی مقبوضہ بلوچستان میں قابض پاکستانی فوج کی بربریت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس مہینے فوج نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 40 سے زائد فوجی آپریشن کیے۔ پاکستانی فورسز نے دوران آپریشن پچاس سے زائد گھروں میں لوٹ مار بھی کی۔اس دوران فورسز کے ہاتھوں 37 بلوچ بھی جبری گمشدگی کا شکار بننے کے ساتھ27 افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملیں۔ 16 بلوچ فرزند شہید ہوئے جن میں فورسز کی بریریت سے مارے جانے والے دو بچے بھی شامل ہیں۔8 لاشوں کے محرکات سامنے نہیں آ سکے جبکہ تین لاشوں کی شناخت نہ ہو سکی،جبکہ11 افراد ریاستی عقوبت خانوں میں بازیاب ہوئے۔
اکتوبر 2021ء میں پاکستانی فورسز نے 15 سے زائد افراد کو مقابلوں میں مارنے کا دعوی کیاجبکہ بلوچ مسنگ پرسنز کی تنظیم سمیت دیگر آزادی پسندوں نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فورسز زیر حراست بلوچوں کو جعلی مقابلوں میں قتل کرنے کے بعد ایسے دعوے کرتی ہے۔
اس مہینے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ میں قابض ریاستی فورسز کے مارٹر گولوں کی زد میں آکر دو بچے شہید ہوئے جس کے بعد بلوچ عوام سڑکوں پہ نکل آیا اور کہیں دنوں تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔لیکن قابض کی ہٹ دھرمی اسی طرح جاری رہی اور یوں بچوں کو کوئٹہ کے شہداء قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

نومبر


ماہِ نومبربھی قابض فورسز کی جارحیت مقبوضہ بلوچستان میں عروج پر رہی۔پاکستانی فورسز نے مقبوضہ بلوچستان بھر میں 60 سے زائد فوجی کارروائیوں میں 104 افراد کو حراست بعد لاپتہ کیا جن میں گچک میں دو درجن سے زائد افراد جبکہ کراچی کے مختلف بلوچ علاقوں سے بھی پندرہ افراد بھی شامل ہیں۔اس کے علاوہ 19افراد ریاستی عقوبت خانوں سے بازیاب بھی ہوئے۔ پاکستانی فورسز نے دوران آپریشن پچاس سے زائد گھروں کو نذر آتش کرنے کے ساتھ سو سے زائد گھروں میں لوٹ مار کی۔دوران آپریشن درجنوں مویشیوں کو فورسز ساتھ لے گئے اور گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ سے درجنوں مویشی مارے گئے۔ اسی مہینے 30 نعشیں برآمد ہوئیں جبکہ نام نہاد سی ڈی اے نے دو زیر حراست افراد کو جعلی مقابلے میں شہید کیا۔اوردو سرمچار وطن کی دفاع میں شہید ہوئے۔جبکہ ایک باپ،بیٹے کو پاکستانی آرمی کی گاڑی نے حب میں کچل کر ہلاک کیا۔6 نعشوں کی شناخت نہ ہو سکی،اور دیگر مارے جانے والے افراد کے ہلاک ہونے کے محرکات سامنے نہ آ سکے۔
مقبوضہ بلوچستان گزشتہ 74سالوں سے مقتل گاہ بنایا گیا ہے۔ قابض ریاستی فورسز کی بربریت اپنے عروج پہ ہیں جہاں آئے روز کی فوجی کارروائیاں، لوگوں کی جبری گمشدگیاں، مسخ شدہ لاشیں، املات کو نظرآتش کرنے کے واقعات کے ساتھ ساتھ لوٹ مار کا سلسلہ شدت کے ساتھ جاری ہے۔ اس کے علاوہ اس سال جنسی اذیت کا سلسلہ بھی شدت کے دیکھنے میں آنے کے ساتھ لوگوں کے گھروں میں گھس کر بچوں اور عورتوں کو قتل کرنے کے واقعات بھی تواتر کے ساتھ رپورٹ ہوتے رہیں۔بلوچستان کی یہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہیں کہ بلوچ خطہ مکمل طور پر انسانی المیہ اور بحران کا شکار ہے۔ عالمی اداروں کی خاموشی کی وجہ سے یہ انسانی بحران روز بروز سنگین تر صورت اختیار کر رہا ہے۔ اجتماعی قبروں، مارو پھینکو اور جعلی مقابلوں کے بعد اب لاپتہ بلوچوں کو لاوارث قرار دیکر دفنایا جا رہا ہے۔ اگر عالمی ذمہ دار اداروں نے پاکستان کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا تو یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کرے گا۔ لہذا ایسے حالات میں عالمی اداروں اور خود کو مہذب کہنے والے اقوام کو اپنے فرائض کا ادراک کرتے ہوئے اس بدمست ہاتھی کو قابو کرنے کی کوشش کرنی چاہیے نہیں تو اس آگ کے شعلے بلوچوں کے ساتھ دیگر مظلوم و محکوم اور ہمسایہ اقوام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جیسے افغان خطہ جو پاکستانی بربریت کی وجہ سے آج بھی دنیا کے سامنے ایک مثال ہے۔

دسمبر

دسمبر سال کے آخری مہینے میں بھی ریاستی بربریت جاری رہی، فورسز نے29 آپریشنز میں 59 بلوچوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا27 لاشیں ملیں،جن میں 6 بلوچ شہید کیے گئے جبکہ17 لاشوں کے محرکات سامنے نہ آ سکے اورچار لاشوں کی شناخت نہ ہو سکی،دوران آپپریشنزپچاس گھروں میں لوٹ مار کی گئی اور12 گھر نذر آتش کیے گئے،چار افراد بازیاب ہوئے اوردوران آپریشنزسو سے زائد مویشیوں کو فورسز ساتھ لے گئے اور ہوائی شیلنگ سے بیس مویشی ہلاک ہوئے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں