کراچی کا پہلا مگر ”غیر قانونی“ ریڈیو اسٹیشن ۔ انتخاب و تالیف، امجد محمود

0
139

جب ہم کراچی کی تاریخ میں ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے بارے میں پڑھتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ کراچی میں پہلا سرکاری ریڈیو اسٹیشن نامور براڈ کاسٹرزیڈ اے بخاری صاحب کی قیادت میں 14 ، اگست 1948 کو انٹیلی جنس اسکول کوئینز روڈ (مولوی تمیز الدین روڈ) قائم ہوا تھا ۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ کراچی میں ایک ریڈیو اسٹیشن 10 ، اگست 1947 کو بھی قائم ہوا تھا ، جو صرف دس دن بعد ’’ غیر قانونی ‘‘ قرار دے کر بند کر دیا گیا۔ آج ہم آپ کو اس دس روزہ ریڈیو اسٹیشن کے قیام اور نشریات کے دلچسپ قصے سے آگاہی فراہم کریں گے۔
پاکستان کی آزادی کی تحریک جب اپنے اختتام پر پہنچی تو بالاآخر وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے 03 ، جون 1947 کو ہندوستان تقسیم کے منصوبے کا اعلان کر دیا۔ اس منصوبے کی باقاعدہ منظور برطانوی پالیمنٹ نے 18،جون 1947 کو دے دی ۔ اس طرح 14 ، اگست کو پاکستان کی آزادی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے اعلان کیا کہ پاکستان کا دارالحکومت کراچی ہو گا اور پہلے گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح ہوں گے جو اپنے عہدے کا حلف 14 ، اگست کو کراچی میں اٹھائیں گے۔ اس وقت موجودہ پاکستان میں صرف دو ریڈیو اسٹیشن کام کر رہے تھے جو لاہور اور پشاور میں تھے۔ کراچی کے عوام کی خواہش تھی کہ وہ حلف برداری کی اس تاریخی تقریب کا احوال براہِ راست رواں تبصرے کی صورت میں سُن سکیں۔ اسی خواہش کے پیشِ نظر کچھ لوگ فوری طور پر ایک ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔ تکنیکی ماہرین و آلات کی کمی اور صرف دو ماہ کا قلیل وقت اس کام کی تکمیل کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ تھے لیکن جب لگن سچی ہو تو کچھ بھی
” ناممکن” نہیں رہتا۔
ایک مختصر سی ٹیم جناب ایس ۔ کے ۔ حیدر کی سربراہی میں تشکیل پائی ۔ حیدر صاحب بنیادی طور پر ریڈیو کے انجینئر تھے اور فرئیر روڈ(شاہراہِ لیاقت) پر ریڈیو کی ایک دکان کے مالک تھے۔انہوں نے ہی دوسری جنگِ عظیم کے دوران اتحادی افواج کو ریڈیو ٹرانسمیٹرز برآمد کر کے مہیا کئے تھے ۔ ان ٹرانسمیٹرز میں سے ایک کراچی میں واقع متروک فوجی گودام میں موجود تھا۔ ٹیم نے جب اس ٹرانسمیٹر کا جائزہ لیا تو انکشاف ہوا کہ جاتے وقت امریکی فوجی اس کے اہم پرزے نکال کر اپنے ہمراہ لے گئے ہیں اور اب اس کی حیثییت کاٹھ کباڑ سے زیادہ نہیں ہے۔ اس صورتِ حال میں حیدر صاحب نے خود ایک ٹرانسمیٹر بنانے کا فیصلہ کیا ۔ کچھ پرزے اپنی دکان سے مہیا کئے اور بقیہ کے لیے کباڑ بازار سے کچھ کام کی چیزیں حاصل کیں۔ اس طرح یہ ٹیم دو ماہ کی انتھک محنت سے ایک ٹرانسمیٹر بنانے میں کامیاب ہو گئی۔
ٹرانسمیٹر کی تیاری کے بعد اگلا مرحلہ گورنمنٹ سےریڈیواسٹیشن کی باقاعدہ منظوری اور جگہ کے حصول کا تھا۔ حیدر صاحب نے اس سلسلے میں اپنے دوست علی محمد چھاگلہ کے ہمراہ حکومتِ سندھ کے مشیر مسٹر ٹی۔این ۔ اڈنانی سے ملاقات کی جنہوں نے اس وفد کو گورنر سندھ سر غلام ہدایت اللہ اور وزیرِ اعلیٰ سندھ ایوب کھوڑو صاحب سے ملوایا۔ گورنر اور وزیر اعلیٰ دونوں نے اس تجویز کی بخوشی منظوری دے دی۔ یوں کراچی کے پہلے ریڈیواسٹیشن کا قیام اَک اَک اسکول کی ایک بیرک کے تین کمروں میں عمل میں آ گیا۔
اس ریڈیو اسٹیشن کو ’’ سندھ گورنمنٹ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن‘‘ کا سرکاری نام دیا گیا۔ اس اسٹیشن نے 5 ، اگست 1947 سے اپنی تجرباتی نشریات کا آغاز کر دیاجو شہر بھر میں صاف سنائی دیں۔ اب عوام کو اس کی باقاعدہ نشریات کا بے چینی سے انتظار تھا۔ یہ لمحہ بھی جلد ہی آ گیا اور 10 ، اگست 1947 کو اس کی باقاعدہ نشریات شروع کر دی گئیں۔
14 ، اگست 1947 کو قیام پاکستان اور قائد اعظم محمدعلی جناح کے گورنر جنرل کے عہدے کے حلف اٹھانے کی تقریب کا آنکھو دیکھا حال ریڈیو سے نشر کیا گیا۔ حیدر صاحب اور ان کی 10 رکنی ٹیم کی محنت بارآور ثابت ہوئی، انہوں نے کراچی کے عوام کو مایوس نہیں کیا اور اس تاریخی تقریب کا حال نشر کر کے پاکستان کی براڈ کاسٹنگ کی تاریخ میں ایک اہم باب رقم کر دیا۔
1947 میں کراچی ایک محدود علاقے پر مشتمل تھا ۔ کراچی کی آبادی تین لاکھ ستاسی ہزار افراد پر مشتمل تھی۔ جن میں ایک بڑی تعداد غیر مسلموں اور غیر ملکیوں کی بھی تھی۔ شہر میں ریڈیو سیٹیں کی تعداد بھی زیادہ نہ تھی۔ نئے ریڈیو اسٹیشن کے قیام کے ساتھ ہی ریڈیو سیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ ہو گیا۔ 10 ، اگست سے باقاعدہ نشریات کو عوام نے بے حد پزیرائی بخشی۔ ریڈیو سے مختلف پروگرامات نشر کئے جانے لگے۔ خبریں نشر کرنے جیسا بنیادی کام ماہرین اور وسائل کی کمی کا شکار تھا۔ جند ہی روز میں بچوں اور خواتین کے لیے بھی پروگرامات کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ پروگرامات کی بہتری کی تجاویز کے لیے سامعین کے خطوط بھی آنا شروع ہو گئے۔عوام کی تفریح کے لیے فلمی گیت بھی نشر کئے جانے لگے، یہاں تک کہ ایک گیتوں بھری کہانی بھی نشر کی گئی۔ قائد اعظم کی حلف برداری کی تقریب کی کوریج

کے لیے ریڈیو بی بی لندن کی جو ٹیم کراچی آئی تھی اس میں ایک خاتون صحافی مسز بیرٹ بھی شامل تھیں۔ مسز بیرٹ تقریب کی مصروفیت کے بعد فارغ تھیں ۔ ریڈیو کی انتظامیہ نے ان سے بھی رابطہ کیا اور وہ بلا معاوضہ ریڈیو پر کام کرنے کے لیے تیار ہو گئیں۔ اس طرح نشریات کا کچھ وقت انگریزی موسیقی اور دیگر انگریزی پروگرامات کے لیے مختص کر دیا گیا۔ کراچی میں مقیم غیرملکیوں میں مسز بیرٹ کا یہ پروگرام بے حد مقبول ہوا۔ ریڈیو سے روزآنہ چھ گھنٹے کی نشریات پیش کی جاتی تھیں۔
دنیا بھر میں ریڈیو نشریات سے متعلق دلچسپ واقعات بھی جنم لیتے رہتے ہیں۔ کراچی ریڈیو اسٹیشن میں بھی اس مختصر سے عرصہ ءِ قیام کے دوران ایسے کئی واقعات پیش آئے جن میں ایک کا ذکر آپ کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گا۔ ریڈیو کی نشریات کا آغاز صبح سات بجے ہوتا تھا ۔ ایک روز چھاگلہ صاحب ریڈیو اسٹیشن پہنچے تو پتہ چلا کہ وہ چابیاں تو گھر بھول آئے ہیں۔ گھر واپس جا کر چابیاں لانے میں آدھ گھنٹہ لگ گیا۔ لیکن ریڈیو کے اناؤنسر قطب صاحب نے حسب معمول اعلان کیا کے اس وقت صبح کے ساتھ بجے ہیں اور ہماری نشریات کا آغاز ہوتا ہے۔ بعض سامعین نے اپنی گھڑیوں کو غلط تصور کرتے ہوئے نصف گھنٹہ پیچھے کر لیا۔
بہر کیف کراچی ریڈیو اسٹیشن کا یہ سارا ہنگامہ صرف دس دن چلا سکا اور یہ اسٹیشن 20 ، اگست 1947 کو ’’ غیر قانونی‘‘ قرار دے کر بند کر دیا گیا کیوں کہ ملکی قانون کے تحت ریڈیو اسٹیشن کا قیام مرکزی حکومت کی اجازت سے ہی عمل میں لایا جا سکتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ کراچی میں پہلا ریڈیو اسٹیشن قائم کرنے ، قائد اعظم کی حلف برداری کی تاریخی تقریب کا احوال براہِ راست نشر کرنے اور دس دن تک عوام تک نشریات پہنچانے والی ٹیم کی خدمات کو نہ تو کبھی سرکاری سطح پر تسلیم کیا گیا اور نہ ہی ان کی شاندار مہارت و کاوش کے بارے میں ریڈیو سے کوئی پروگرام نشر کیا گیا۔….. یاد رہے کہ جو قومیں اپنی تاریخ اور محسنوں کو بھول جاتی ہیں ، ان کا جغرافیہ انہیں فراموش کر دیتا ہے۔


بحوالہ کتاب ….. ریڈیو پاکستان کراچی کی پچاس سالہ علمی و ادبی خدمات
مرتب……… ڈاکٹر محمد اقبال خان اسدی( ڈاکٹر صاحب کے تفصیلی تعارف کے لیے ان کے کتاب کے عقبی صفحے کا عکس منسلک ہے)

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں