مقبوضہ بلوچستان:بلوچ قوم مسلمان ہونے کے باوجود عید سے محروم ہیں، ماما قدیر

0
117

مقبوضہ بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں عید کے روز بھی بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے لواحقین کا بھوک ہڑتال کیمپ جاری رہا جسے اب تک 4663 دن مکمل ہوگئے۔آج عید کے دن اظہار یکجہتی کرنے والوں سے ماما قدیر بلوچ مخاطب ہوکر کہا کہ عید عالم اسلام کے لے خوشی کا ایک ایسا تہوار ہے جس میں لوگ اپنی زندگی بھر کی بھول بھلیوں نفرت، عداوت اور ایک دوسرے کے درمیان پیدا ہونے والا ناراضگی اور غلط فہمیوں کو ختم کر کے زندگی کو از سر نو شروع کرتے ہیں، بلکہ غم کو ہمیشہ کے لیے بھلا کر ایک دوسرے کے آنسوں پونچھ کر خوشی مسرت کا اظہار کیا جاتا ہے عید پر طرف رنگینیاں ہوتی ہیں ہنستے برے چمکتی آنکھیں مسکراتے ہونٹ اور زرق برق کپڑوں میں ملبوس بچوں کے چہروں پر خوشی کے رنگ دیدنی ہوتی ہے جو ایک زندگی کی دلیل ہوتی ہیں۔ عید منانے میں مصروف ہے لیکن افسوس بلوچ قوم مسلمان ہونے کے باوجود آج اسلامی ریاست پاکستان کے مسلمانوں کے ہاتھوں اپنے فرزندان کی شہادتوں اور گمشدگیوں پر عید منانے سے یکسر محروم ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستانی خفیہ اداروں اور فوج کی دہشتگردانہ اور ظالمانہ کارروائیوں کی وجہ سے بلوچ نے عید منانے کا رواج مکمل طور پر ختم کردیا۔ عید پر جہاں عالم اسلام عید مناتا ہے اور خوشیاں بانٹنا ہے عالیہ عیدالفطر پر ریاستی اداروں کے ہاتھوں بلوچ قوم اسی روز ماتم اور سوگ مناتا ہے۔ ریاستی مظالم اسی تواتر کیساتھ جاری ہی لوگوں نے عید سادگی سے منائی ریاستی اداروں نے عید سے ایک دو دن پہلے نواجوانوں کو لاپتہ کیا۔

ماما قدیر نے کہا کہ ریاستی اداروں کا عید پر لاشیں دینے کا سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے جاری ہے۔لاپتہ افراد اسیران شہدا کے لواحقین اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی شہدا کی غم میں مبتلا ہیں۔ماں باپ بہن بھائی اور بچے اپنے پیاروں کی کمی کا درد آئیں اور سسکیاں دل میں لیے اور آنسوں آنکھوں میں لئے کس طرح عید منائیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس ریاست کے کرتا دھرتاؤں نے ان سے چھین کر شہید کردیا آج پوری دنیا عید منانے میں مصروف ہے لیکن بلوچ کے لاپتہ شہدا کے لواحقین عید کے مسرت دن کے موقع پر بھی سوگ منانے میں مجبور ہیں آپنے پیاروں کی تصاویر ہاتھوں میں آٹھائے کوہٹہ کراچی میں ریلی نکال کر ریاست کے خلاف اپنی نفرت کا بھر پور کیا اور اپنے پیاروں کو یاد کر کے ان کی مشن کی تکمیل کا عزم کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں