مقبوضہ بلوچستان:دو خواتین کی فورسز ہاتھوں جبری گمشدگی پر احتجاج بدستور جاری

0
35

مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ میں خاتون کی جبری گرفتاری کے خلاف سی پیک شاہراہ آج چوتھے روز بھی بند، مذاکرات ناکام،بلوچ شاعرہ حبیبہ پیر محمد کی جبری گمشدگی کے خلاف بھی احتجاج
روان ہفتے ضلع کیچ کے علاقے ہوشاپ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی و بعدازاں سی ٹی ڈی کے ذریعے دہشتگردی کے الزام لگا کر منظر عام پہ لائے جانے والی خاتون کی عدم بازیابی کے خلاف آج چوتھے روز بھی سی پیک شاہراہ پر ہوشاپ کے مقام پر دھرنا جاری ہے، جبکہ آج سابق صوبائی وزیر ظہور بلیدئی اور ضلع انتظامیہ کا مشترکہ لواحقین سے مذاکرات ناکام ہوگیا۔انہوں نے مظاہرین سے کہا کہ چار دنوں سے اہم 8 شاہراہ پر دھرنے کی وجہ سے مسافروں کو تکلیف کا سامنا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی نے نورجان کی گرفتاری ظاہر کرکے انہیں عدالت میں پیش کیا ہے اس لیے اب احتجاج اور دھرنا دینے کا کوئی جواز نہیں ان کی کوشش ہوگی کہ جمعہ تک نورجان بلوچ کو رہا کرائیں تاہم مظاہرین نے اس یقین دہانی پر احتجاج ختم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نورجان کو رہا کرکے ان کے حوالے کیا جائے تب دھرنا ختم کیا جائے گا۔

دوسری جانب سندھ کے مرکزی شہر کراچی کے علاقے گلشن مزدور سے پاکستانی فورسز نے بلوچی زبان کی شاعرہ حبیبہ پیر جان کی جبری گمشدگی اور عدم بازیابی کے خلاف تربت مند مین شاہراہ پر مقامی خواتین اور بچوں نے دھرنا دے کر شاہراہ بند کر دی ہے –کراچی سے جبری گمشدگی کا شکار بلوچ شاعرہ حبیبہ پیر محمد کی کزن سہیلہ قومی نے متنبہ کیا کہ اگر ان کی کزن کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو ان کا خاندان اپنے بچوں سمیت غیرمعینہ مدت کیلئے سڑکوں پر بیٹھ کر احتجاج کرے گی۔

بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے نظرآباد میں بلوچ شاعرہ حبیبہ کی جبری گمشدگی اور عدم بازیابی کے خلاف تربت مند مین شاہراہ پر مقامی خواتین اور بچوں نے دھرنا دے کر شاہراہ بند کر دی ہے –جس کے سبب تربت اور ایران سے متصل تحصیل مند کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے –

خیال رہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سندھ کے مرکزی شہر کراچی کے علاقے گلشن مزدور سے پاکستانی فورسز نے بلوچی زبان کی شاعرہ حبیبہ پیر جان کو گھر سے جبری لاپتہ کیا-سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک وائرل وڈیو میں حبیبہ کی بیٹی کے مطابق انکی والدہ کو بدھ کی شب گھر سے اغوا کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، جب میں نے کھڑکی سے دیکھا تو چند گاڑیاں اور رینجرز اہلکار موجود تھے۔ جب والدہ نے دروازہ کھولا تو اہلکار انہیں ایک طرف لے گئے اور پوچھ گچھ کی۔حنا کے مطابق رات کی تاریکی میں گھر آنے والے اہلکار لیپ ٹاپ اور موبائل وغیرہ بھی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

بیٹی کے مطابق اگر میری والدہ کو باعزت رہا نہیں کیا گیا تو خاندان سمیت احتجاجاً شاہراہوں پر دھرنا دونگی –واضح رہے کہ رواں مہینے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگی کا دوسرا واقعہ ہے –ضلع کیچ کے علاقے ھوشاب سے چار روز قبل نور جان بلوچ نامی عورت کی جبری گمشدگی اور بعد ازاں سنگین الزامات اور مقدمات قائم کرنے پر مکران، کوئٹہ شاہراہ گذشتہ چار دنوں سے بدستور بند ہے،دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر بلوچستان سمیت دنیا بھر سے بلوچ خواتین کی جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ، سندھی پشتون سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس اور دیگر مکاتب فکر کے لوگ اپنے غم غضہ کا اظہار کررہے ہیں

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں