پاکستانی مقبوضہ کشمیر: جنگلات کی آتشزدگی برقرار

0
60

پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے وادی سماہنی ضلع بھمبر جموں کشمیر کے سرسبز جنگلات وسیع آتشزدگی کی لپیٹ میں آنے سے تباہی سے دو چار ہیں سوموار کی صبع تونین بلاک سیری ہل کے سرسبز جنگلات میں کسی ماحول دشمن عناصر نے آگ لگا دی آگ دیکھتے ہی دیکھتے جنگلات کے وسیع رقبہ پر پھیل گئی اطلاع ملتے ہی محکمہ جنگلات کے اہلکاران، محکمہ مال اور سول سوسائٹی کے نوجوان موقع پر پہنچ گئے شدید گرمی اور تیز ہوا میں آگ پر قابو پانا مشکل عمل تھا آگ کے باعث سماہنی ہیڈ کوارٹر سیری ہل اور ڈب ویلی کے ملحقہ پہاڑی سلسلہ جل کر کوئلہ بن گیا،تاحال آگ پر قابو نہ پایا جا سکا ہے، وسیع آتشزدگی کے باعث جنگلی حیات، چرند پرند کے مسکن، چیڑھ، کھجور کے درختوں سمیت جنگل میں قدرتی پودا جات جل کر راکھ کا ڈھیر بن گے، آگ سیری ہل کے مقام سے پرائیویٹ رقبہ سے جنگل میں داخل ہوئی کشمیر پریس کلب رجسٹرڈ سماہنی کے صحافیوں نے بھی موقع پر پہنچ پر آگ پر قابو پانے میں اپنا کردار ادا کیا اور نقصان کا جائزہ لیا آگ کے باعث جنگل میں لاکھوں کا نقصان ہوا صبع سے لگی آگ پر سہہ پہر تک قابو نہ پایا جا سکا آگ کے شعلے اور دھواں آسمان سے باتیں کرتا رہا آگ کے باعث موسم گرم اور ماحول سخت آلودگی سے دوچار رہا سنجیدہ حلقوں نے فائر سیزن کے دوران جنگلات کو آتشزدگی سے محفوظ رکھنے کیلئے کٹھ پتلی حکومت کشمیر سے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا یے ادھر ہفتہ کی رات باغسر کہاولیاں کے جنگلات میں بھی کسی ماحول دشمن عناصر نے آگ لگا دی رات بھر آتشزدگی کے باعث باغسر بلاک کا وسیع رقبہ جل کر کوئلہ بن گیا جبکہ فائر سیزن کے دوران اب تک وادی سماہنی کے تمام جنگلات بلاک آتشزدگی کی زد میں آنے سے بری طرح تباہی سے دوچار ہو چکے ہیں۔

محکمہ جنگلات بھی اداؤں پہ ذرا غور کرے۔

وائلڈ فائرز پر کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم تھنک ہیزارڈ کے مطابق درجہ حرارت جب پچاس ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر چلا جاتا ہے تو جنگل میں آگ بھڑک جانے کے امکانات پچاس فیصد بڑھ جاتے ہیں۔ آسمانی بجلی بھی آگ کا باعث بن سکتی ہے۔ تاہم پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں مقامی سطح پر تحقیق کا فقدان ہے۔محکمہ جنگلات نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ جنگلات کو آگ سے بچانے کے لیے محکمے سے تعاون کیا جائے۔

محکمے کے زمہ داران نے بغیر تحقیق کے آگ لگنے کی وجہ درجہ حرارت کو قرار دیا جو مناسب نہیں کیونکہ یہاں درجہ حرارت ابھی اس سطح تک بلند نہیں ہوا یہاں آگ زیادہ تر شر پسندوں کی طرف سے لگائی جاتی ہے۔ ہمارے قوانین آگ لگانے والوں کو چھوٹ دیتے ہیں شفاف تحقیقات کا بھی فقدان ہے۔ محکمہ جنگلات بھی جنگلات کے لیے عذاب ثابت ہوا ہے۔
آسٹریلیا میں جنگل کو آگ لگانے کی سزا اکیس سال قید جبکہ پاکستان میں اسی جرم کی سزا صرف تین سال قید ہے۔
جنگلات ہی زندگی کی ضمانت ہیں اسے بچانے میں سب کو کردار ادا کرنا ہو گا۔محکمہ جنگلات کو اپنا دوہرا معیار ترک کرنا ہو گا۔ اور آگ لگانے والے افراد کی کڑی نگرانی اور معقول سزاؤں سے حوصلہ شکنی کرنا ہو گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں