پاکستان:کراچی میں بلوچ خواتین و بچوں پر سندھ پولیس کا تشدد،متعدد گرفتار

0
36

پاکستان کے صوبے سندھ کراچی یونیورسٹی کے دو بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرین پر سندھ پولیس نے تشددکرکے متعدد گرفتارکوکرلیا جبکہ تشددسے شیر خوار بچوں کی بھی شدیدزخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔مظاہرین اور سی ٹی ڈی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے سندھ پولیس مکر نے کے بعد مظاہرین نے کراچی پریس کلب سے سندھ اسمبلی کے قریب دھرنا دے دیا۔ پولیس نے مظاہرین پر دھواں بول دیا۔

واضع رہے کہ کراچی یونیورسٹی کے دو بلوچ طلبا کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرین اور سی ٹی ڈی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات سے سندھ پولیس مکر گئی۔مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ ہاؤس کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کی۔

پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا تاہم مظاہرین نے وزیراعلیٰ ہاؤس جانے کے بجائے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ شروع کردیا۔پولیس نے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ کرنے سے بھی مظاہرین کو روک دیا۔ذرائع بتاتے ہیں کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان دھکم پیل سے حالات کشیدہ ہوگئے ہیں۔

مظاہرین میں شامل ایک خاتون نے سنگر میڈیا کو بتایا کہ سندھ پولیس اور سی ٹی ڈی نے متعدد خواتین کو حراست میں لے لیا ہے اور حالات کشیدہ ہیں۔

آخری اطلاع تک احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور کئی خواتین و بچے سمیت مرد سندھ اسمبلی کے قریب دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔یاد رہے کہ سندھ اسمبلی کا اجلاس بھی جاری ہے اور(منگل) سندھ اسمبلی میں سندھ کا بجٹ پیش ہوگا۔ جس کی وجہ سے سندھ اسمبلی کے اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

مظاہرین کی قیادت بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی کی آرگنائزر آمنہ بلوچ اور وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی ڈپٹی سیکریٹری سمی بلوچ کررہی ہیں۔مظاہرے میں انسانی حقوق کے رہنما پروفیسر ریاض احمد اور نغمہ اقتدار بھی شامل ہیں۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ 7 جون 2022 کو بلوچستان کے ضلع کیچ سے تعلق رکھنے والے دو بلوچ طلبا کو کراچی سے لاپتہ کیا گیا۔کراچی کے علاقے مسکن چورنگی میں واقعہ گھر پر چھاپہ مارکر دودا بلوچ ولد الہی بخش اور اس کے ڈیپارٹمنٹ فیلو غمشاد بلوچ ولد غنی بلوچ کو خفیہ اداروں اور سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جبری طور لاپتہ کردیا ہے۔دودا بلوچ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فلاسفی میں تیسرے سیمسٹر غمشاد بلوچ پانچواں سیمسٹر کے طالب علم ہیں۔

دودا بلوچ کا تعلق ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت سے ہے جبکہ غمشاد بلوچ کا ضلع کیچ کے علاقے مند سے ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ سات جنوری 2022 سے دونوں بلوچ طلبا تاحال سیکیورٹی ادارے کے پاس ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں