پاکستانی زیر قبضہ کشمیر:پاسپورٹ آفس راولاکوٹ میں تصادم، دفتر غیر معینہ مدت تک بندکر دیا گیا

0
56

پاسپورٹ آفس راولاکوٹ میں تصادم، مقدمہ درج، دفتر غیر معینہ مدت تک بندکر دیا گیا
پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کے ڈویڑنل ہیڈکوارٹر راولاکوٹ میں قائم پاسپورٹ آفس کو ایک تصادم کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔ تصادم اور تشدد کے واقعہ کی ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے، جبکہ نامزد ملزمان کی عبوری ضمانت بھی منظور کر دی گئی ہے۔
یہ واقعہ جمعہ 16ستمبر کو اس وقت پیش آیا جب ایاز خادم نامی شہری کے پاسپورٹ کی تجدید پر پاسپورٹ عملہ اور شہری کے مابین تلخ کلامی ہوئی۔ واقعہ میں پاسپورٹ آفس راولاکوٹ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نعمان شہزاد زخمی ہوئے ہیں۔ نعمان شہزاد کی درخواست پر درج کی گئی ایف آئی آر نمبر306/22زیر دفعات452/324، 337A/353، 186/430A، 147/148، 149 PC، EHA20میں ایاز خادم سکنہ پڑاٹ، بلال شکیل ایڈووکیٹ سکنہ راولاکوٹ، محمد زرین خان سکنہ پوٹھی اور 6نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق جمعہ کے روز پونے 12بجے کا واقعہ ہے کہ ایاز خادم نے کاؤنٹر پر ملازم پاسپورٹ آفس وقاص کبیر سے پاسپورٹ بنانے کا ٹوکن مانگا، شناختی کارڈ پر نمبر اور پتہ راولپنڈی کا درج تھا، جس وجہ سے مستقل سکونت کا ڈومیسائل رولز کے مطابق مانگ گیا۔ جس پر ملزم ایاز خادم نے ڈیوٹی پر موجود وقاص کبیر سے بدتمیزی کرنے کے بعد سائل(اسسٹنٹ ڈائریکٹر)کے دفتر میں داخل ہو کر گالم گلوچ کرتے ہوئے سائل پر حملہ کر کے باقی ملزمان کو بھی دفتر بلا لیا، جس کے بعد ملزمان نے سائل(اسسٹنٹ ڈائریکٹر)کے دفتر کا دروازہ بند کر کے بانیت ہلاکت حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا۔ ملزمان نے سرکاری اشیاء اور سرکاری املاک کو بھی توڑ پھوڑ کر لاکھوں روپے کا نقصان کیا۔ میز کی دراز اور باسکٹ سے لوگوں کے پاسپورٹ فارم وغیرہ بھی زبردستی نکال لئے اور کچھ فارم پھاڑ بھی دیئے۔ سائل کا موبائل بھی چھین کر لے گئے۔
پاسپورٹ آفس کے اہلکار وقاص کبیر نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ملزم ایاز خادم پاسپورٹ کی تجدید کیلئے آیا تھا، غیر ریاستی اور غیر ملکی افراد کے پاسپورٹ کے اجراء سے بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر کے طورپر قواعد اس طرح کے بنائے گئے ہیں کہ جس شخص کا بھی شناختی کارڈ نمبر ضلع پونچھ کا نہیں ہوگا، اسکا پاسپورٹ اسی صورت بن سکتا ہے اگر وہ ضلع پونچھ کے مستقل سکونتی کی حیثیت سے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کی نقل بھی جمع کروائے۔ تاہم ملزم نے قواعد پر عملدرآمد کرنے کی بجائے حملہ آور ہو کر پہلے دفتری عملہ کو زدوکوب کیا اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نعمان شہزاد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔، بعد ازاں دیگر ملزمان کو بھی بلا کر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو مزید تشدد کا نشانہ بنا کر بری طرح زخمی کر دیا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں