قومی شناخت اور تشخص کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری ہے۔ شبیر مایار کے ساتھ خصوصی انٹرویو

0
14

نیوز انٹرونشن کا گلگت بلتستان یونائٹڈ موومنٹ کے چیف آرگنائزر,شبیر مایار کے ساتھ خصوصی انٹرویو

شبیر مایار ایک قوم پرست رہنما ہونے کے ساتھ گلگت بلتستان میں عوامی مسائل کے لیے آواز بلند کرنے میں پیش پیش ہیں۔وہ عوامی مسائل کے ساتھ گلگت بلتستان کے قومی شناخت کی بھی بات کرتے ہیں۔

موجودہ صورت حال کے پیش نظر نیوز انٹرونشن نے ان سے خصوصی انٹر ویو کا اہتمام کیاہے،جو قارعین کے لیے پیش کیا جا ر ہا ہے۔

نیوز انٹرونشن: گلگت بلتستان کے بنیادی مسائل کیا ہیں؟

شبیر مایار۔
گلگت بلتستان ایک سٹیٹ لیس خطہ ہونے کی وجہ سے نوآبادیاتی نظام کے زیر اثر ہے اس نظام کا خاتمے اور قانون و انصاف کی بالادستی ناگزیر ہو چکی ہے۔اس وقت قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے اور نوآبادیاتی تسلط کی وجہ سے بیوروکریسی راج ہے جس کی وجہ سے بنیادی انسانی سیاسی حقوق، تعلیم روزگار، صحت،معشیت عرض تمام معاملات وینٹیلیٹر پر ہیں. یہی وجہ ہے لوگ مسلسل گلگت بلتستان کو چھوڑ کر دوسرے جگہوں پر ہجرت کرنے پر مجبور ہیں. جس سے خطے کی مستقبل پر گہرے منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

نیوز انٹرونشن: آئے روز احتجاج ہو رہے ہیں مگر ریاست پاکستان کی جانب سے کوئی سنوائی نہیں ہے؟

شبیر مایار۔
ہر احتجاج کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہوتا ہے کیونکہ ان احتجاجات کی وجہ سے لوگوں میں سیاسی شعور بڑھنے میں کافی مدد گار ثابت ہوئی ہے بنیادی وجہ ان تمام قسم کے احتجاج کا مکمل عوامی تحریک نہ ہونا ہے کیونکہ اس وقت ہر احتجاج کے پیچھے کاروباری حضرات آگے ہوتا ہیں جنکا مقصد فقط اپنے کاروبار پر کسی قسم کا ٹیکس نہ لگانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے. جب بھی احتجاج کامیاب ہونے لگتی ہے حکومت مذاکرات کے نام پر اپنے بندوں کو مظاہرین کی صف میں شامل کرتی ہے اور عوام کو بیوقوف بناتی ہے جس کی وجہ سے عوامی مسائل مثلاً سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی،قدیم تجارتی سڑکوں کا کھولنا، گلگت بلتستان کے وسائل کی رائلٹی اور فورتھ شیڈول جیسے کالے قانون کی خاتمے کا مطالبہ وغیرہ پیچھے رہ جاتی ہے. اس وجہ ہماری کوشش ہے کہ احتجاج کو عوامی تحریک میں بدل دیں۔

نیوز انٹرونشن: گلگت میں گورنر اور وزیر اعلیٰ ہیں،کیا اسکا مطلب ہے پاکستان نے اسے صوبہ بنا لیا ہے؟

شبیر مایار۔
گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ گورنر بلکل اسی طرح کے ہیں بے اختیار ہیں جس طرح آزاد کشمیر میں صدر وزیر اعظم ہے. اختیارات کا منبع سول اور ملٹری بیوروکریسی ہے،. پاکستان نے کبھی بھی آفیشلی نہیں کہا کہ گلگت بلتستان صوبہ ہے،یا بنایا جائے گا وہ فقط لالالی پاپ عوام کی مزاج کے مطابق دیتے ہیں کیونکہ سلامتی کونسل کے قراردادوں کے ہوتے ہوئے صوبہ ناممکن ہے اور دفتر خارجہ کے ترجمان متعدد بار اس بار کا اظہار کرچکی ہے. یہی وجہ ہے کہ ہمارا بنیادی مطالبہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی روکنا اور سلامتی کونسل کے قرارداد 13 اگست 1948 پر عملدرآمد کرکے لوکل اتھارٹی گورنمنٹ کا نفاذ ہے۔

نیوز انٹرونشن: کیا گلگت کے عوام اپنی قومی شناخت اور آزادی کے لیے کبھی سوال اْٹھاتے ہیں؟

شبیر مایار۔
قومی شناخت اور تشخص کی بحالی کیلئے جدوجہد اس وقت سے جاری ہے جب 16 نومبر 1947 کو گلگت بلتستان میں ایک نائب تحصیلدار کو پولیٹیکل ایجنٹ بنا کر مسلط کیا اور اس نے آتے ہی ایف سی آر نافذ کرکے یہاں سے سیاسی حقوق سلب کئے، اب چونکہ زمانہ بدل گیا ہے جہاں گراونڈ میں عام آدمی بنیادی حقوق کیلئے نکلتے ہیں وہیں سوشل میڈیا آپ دیکھیں گلگت بلتستان مسلسل ٹاپ ٹرینڈ ہورہا ہوتا ہے. یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس خطے کی نئی نسل بیدار ہوچکی ہے بس قومی قیادت کا فقدان سے اور اس خلا کو پْر کرنے کی مسلسل کوشش جاری ہے لیکن بیوروکریسی کو سیاسی جدوجہد سے بھی خوف یہی وجہ ہے کہ سیاسی جدوجہد کے قومی شخصیات کو شدت پسندوں آرمی جوانوں کے گردن اڑانے والوں کے فہرست میں لاکر فورتھ شیڈول کے تحت قید کیا جاتاہے جو کہ خود اس ملک کے آئین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

نیوز انٹرونشن: مذہبی شدت پسندی نے گلگت کو کتنا متاثر کیا ہے؟ اور کیا یہی وجہ ہے کہ ریاست نے قبضہ کو دوام بخشا؟

شبیر مایار۔
مذہبی تقسیم اس وقت شروع ہوئی جب میجر بروان کو لگا کہ انکا گریٹ گیم جو اس خطے کو برطانوی سامراجی کالونی بنانے کا تھا اس میں ناکامی نظر آیا اور گلگت بلتستان لداخ کے لوگوں میں تفرقہ ڈالتے ہوئے شیعہ ریاست کی قیام کا شوشہ پھیلایا جسے بعد میں باقاعدہ سرکاری بیانیہ بنایا کتاب لکھے گئے جسکا مقصد عوام کو تقیسم کرکے متحد ہونے سے روکے رکھنا تھا. جس میں انکو کافی کامیابی بھی ملی. اس طرح آپ بھٹو کی تاریخ اٹھائیں تو عام طور گلگت بلتستان کا مسیحا کہلاتے ہیں لیکن اجلال زیدی نے شیعہ صوبے کا نعرہ دیا جسکا مقصد بھی تقیسم رکھنا تھا اور یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے بھٹو نے کہا تھا کہ یہ قوم کبھی ایک نہیں ہوسکتے لہذا انکو لڑاو اور حکومت کرو، اسی سلسلے نے آگے جاکر دل ہلانے والے واقعات رونما ہوئے اور گلگت بلتستان کی بنیادوں کو ہلا دیا فرقہ واریت عروج پر پہنچ گیا پاکستان بھر کے مذہبی انتہا پسند جماعتوں کو گلگت بلتستان مکمل آزادی مل گئی جس کی وجہ سے سانحہ بابو سر، لولو سر، چلاس اور گلگت پیش آیا اس سے پہلے سانحہ 1988 ضیاء الحق کی مرہون منت تھی. اب نئی نسل اس گریٹ گیم کو سمجھ چکی ہے یہی وجہ ہے کہ اس وقت چلاس سے لیکر کھرمنگ کے آخری گاوں تک کا ایک ہی نعرہ ہے ہمیں بہت لڑایا اب ایسا نہیں ہوگا ہمارا بنیادی سیاسی معاشی حقوق جو 75 سالوں سے سلب کی ہوئی ہے اسکا حساب دینا ہوگا، سی پیک میں رائلٹی، دیامر ڈیم میں حقوق دینا ہوگا خالصہ سرکار کے نام پر زمینوں پر کسی قسم کا قبضہ نہیں ہونے دیں گے. یہی ہماری سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے۔

نیوز انٹرونشن: کیا گلگت بلتستان اور جموں کشمیر جو پاکستان کے زیر کنٹرول میں ہیں،انکے عوام میں آپسی باہمی اشتراکیت ہے؟

شبیر مایار۔
جموں کشمیر کے ساتھ ہمارا جبر اور محکومی کا رشتہ کے ساتھ ساتھ. باہمی اشتراک ہے کیونکہ ہمارے مسائل مشترک ہے قانونی حیثیت ایک ہے. لہذا باہمی جدوجہد کی اہم ضرورت ہے

نیوز انٹرونشن: کیاجموں کشمیر اور گلگت بلتستان کے عوام بنیادی مسائل پر اکٹھے ہیں؟
شبیر مایار۔
گلگت بلتستان یونائٹڈ مومنٹ،گلگت بلتستان کی پاپولر قومی تحریک ہے۔اس تحریک کے سرکردہ رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں ڈالنے کی وجہ سے کچھ عرصہ یہ جماعت غیر فعال رہی جس کی وجہ سے پارٹی کارکنوں نے اس جماعت کی تشکیل نو کا فیصلہ کیا تاکہ جدید تقاضوں کے مطابق اس جماعت کو گلگت بلتستان کی کونے کونے تک پھیلا کر اسے عوامی و قومی جماعت بنانے اور گلگت بلتستان کی حقوقِ کے لئے موثر جدو جہد کا آغاز کر سکیں،ساتھیوں نے گلگت بلتستان یونائیٹڈ موؤمنٹ کی تشکیل نو کی ذمہ داری مجھے دی ہے جو کہ میرے لیے ایک اعزاز بھی ہے اور میرا امتحان بھی،مجھے امید ہے کہ گلگت بلتستان کا ہر فرد اس قومی جماعت کے پرچم تلے جمع ہو کر قومی شناخت کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی عوامی حقوقِ کی تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد کو تیز کریں گے۔ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں پارٹی کو پھیلانا اسے وفاقی پارٹیوں کے متبادل عوامی جماعت کے طور پر اگے لانا ہماری خواب ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے لیے گلگت بلتستان کی قومی جماعت ہی بہتر فیصلہ کر سکتی ہے اور عوامی امنگوں کی ترجمانی کر سکتی ہے۔۔اس لئے عوام کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ قومی جماعت کو مظبوط کریں تاکہ اک خوشحال اور ترقی یافتہ گلگت بلتستان کو بنایا جا سکے،اور جموں کشمیر میں بھی بنیادی مسائل پر ہم دوستوں کے ساتھ ہیں،جلد اس پر بھی لائے عمل طے ہونگے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں