پاکستان میں بلوچ کلچر کی پامالی -عزیز سنگھور

0
195

عدالتی حکم پررہائی پانےوالےعبدالحفیظ زہری اور انکی فیملی کے طاقتورافراد کی جانب سے کراچی سینٹرل جیل کے باہر دوبارہ اغوا کی کوشش ، مزاحمت کرنے پر فیملی کی خواتین اور بچوں کو زد و کوب کیا گیا۔ اس کوشش کے دوران عبدالحفیظ بھی زخمی ہوگئے۔ اس عمل سے یہ واضح ہوگای کہ کہ ویگو سوار لوگ پاکستانی عدلیہ سے زیادہ طاقتور ہیں۔ وہ ریاست میں کسی کو جوابدہ نہیں اور اصل سرکار بھی انہی کی ہے، باقی سب کٹھ پتلی ہیں۔

بلوچ معاشرے میں عورتوں پر ہاتھ اٹھانا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔ بلوچ روایات کے مطابق جنگ میں دشمن کی خواتین اور بچے مستثنٰی ہوتے ہیں۔ انتہائی افسوس کا امر ہے کہ پاکستانی معاشرے میں وقت کے ساتھ ساتھ عورت کی عزت و احترام کا تصور بھی ختم ہوتاجارہا ہے۔ بلوچ معاشرے میں عورت کو ماں ، بیٹی اور بہن کی نظر سے دیکھاجاتا ہے اور ان پر ہاتھ اٹھانا عیب سمجھتا ہے۔بلوچستان میں جاری جنگی حالات بھی انہی روایتوں کی پامالی کی وجہ سے مزید خراب ہوتے جارہے ہیں۔

گزشتہ روز متحدہ عرب امارات سے جبری گمشدگی پھر پاکستان حوالگی کے بعد رہائی پانے والے عبدالحفیظ کو سفید کلر ویگو میں سوار افراد نے اغوا کرنے کی کوشش کی۔ مزاحمت پر انہیں اہلخانہ سمیت شدید تشدد کا نشانہ بناکر فائرنگ کرکے زخمی کردیا گیا تاہم اہلخانہ کی مزاحمت نے اس اغوا کو ناکام بنادیا۔

بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والے عبدالحفیظ زہری کے خاندان کے دو افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں راشد بلوچ اور عبدالحمید زہری شامل ہیں۔ راشد بلوچ کی والدہ اماں بذخاتون اور عبدالحمید زہری کی بیٹی سعیدہ حمید اپنی والدہ کے ساتھ طویل عرصے سے اپنے پیاروں کی رہائی کے لئے سڑکوں پر احتجاج کررہی ہیں۔

راشد حسین کو 26 دسمبر 2018 کو اس وقت متحدہ عرب امارات کے خفیہ ادارے نے گرفتار کیا جب وہ اپنے کزن حفیظ زہری کے ہمراہ گاڑی میں جارہے تھے۔ دو گاڑیوں میں سوار خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے تعاقب کے بعد شارجہ کے قریب انہیں روک کر راشد بلوچ کو اتار کر اپنے ساتھ لے گئے اور اپنی شناخت خفیہ ادارے کے اہلکار کے طور پر کی تھی۔ بعد میں راشد حسین بلوچ کو جون 2018 کو غیر قانونی طور پر پاکستان کے حوالہ کیا گیا تھا۔

پاکستانی حکام کی جانب سے راشد حسین بلوچ کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانے پر فدائی حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہیں۔ اس حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں تین حملہ آور، دو عام شہری اور دو پولیس اہلکار شامل تھے۔ بلوچ آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر راشد حسین پر کوئی الزام ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ اگر ثبوت اور شواہد ہیں تو انہیں سزا دی جائے۔ وگرنہ انہیں رہا کیا جائے۔ راشد حسین کیس میں یک نہ شد دو شد​ والا واقعہ پیش آیا۔ 2022 کو راشد حسین کے اغوا کے چشم دید گواہ اور ان کے کزن حفیظ زہری کو بھی عرب امارات سے اغوا کیا گیا۔ اور متحدہ عرب امارات حکام نے لاپتہ عبدالحفیظ زہری کو بغیر دستاویزات پاکستان کے حوالے کردیا۔ کہا یہ جاتا ہے کہ دونوں کی پاکستان کی حوالگی میں چین کی حکومت نے اہم کردار ادا کیا۔ کیونکہ بلوچ سیاسی کارکنوں کی حوالگی کے حوالے سے متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ البتہ چین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بلوچ سیاسی کارکنوں کی حوالگی کا معاہدہ موجود ہے۔ اس ساری جنگ میں پاکستان کو چین کی مدد حاصل ہے۔

بلوچستان کے ضلع خضدار سے تعلق رکھنے والے عبدالحفیظ زہری گذشتہ کئی سالوں سے متحدہ عرب امارات میں اپنا کاروبار چلاکر گزر بسر کررہا تھا۔ بلوچستان میں حالات کی خرابی کے باعث وہ متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے تھے۔ عبدالحفیظ زہری کے بھائی مجید زہری کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا۔ جن کی تشدد زدہ لاش 24 اکتوبر 2010 کو ملی تھی جبکہ عبدالحفیظ کے والد حاجی رمضان زہری جو خضدار کے ایک کاروباری شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے، کو 2 فروری 2012 کو بھرے بازار میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ اسی خاندان کے ایک اور فرد، عبدالحمید زہری کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے لاپتہ کیا گیا۔ جو تاحال لاپتہ ہے۔

بلوچ روایتوں کو جس طرح پامال کیا جارہے ہے یہ کسی صورت قابل قبول عمل نہیں، یہ سمجھنے کی ضرورت ہےکہ اگر عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا توبلوچ بھی جنگ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر مجبورہوجائیں گے۔ اس بات کا ادراک حکمرانوں کو ابھی نہیں ہورہا ہے تاہم اس کے نتائج ریاست کے لئے کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں شاید اس کا بات اندازہ حکمرانوں نہیں۔

***

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں