پاکستان کاکشمیر یکجہتی ڈے،کشمیریوں کی غلامی کو تقویت دینے کے لیے ہے،رپورٹ

0
20

یوم یکجہتی کشمیر ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں،پاکستانی ملا فوج صرف کشمیریوں کو بے وقوف بنا رہی ہے اگر یکجہتی ہی کرنی ہے تو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دو عوامی حلقوں کا اس بارے اظہار خیال۔

دراصل یوم یکجہتی کشمیر کی تجویز سب سے پہلے جماعت اسلامی پاکستان کے قاضی حسین احمد نے1990 دی تھی اور پھر نواز شریف نے آئی ایس آئی اور پاکستان فوج کی خواہش پر اسکی حمات کی اور پاکستانی وزیر برائے برائے امور کشمیر اور شاملی علاقہ جات نے 2004 میں اس کی بھاگ دوڑ سنبھالی۔2022 میں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے کئی قصبوں کے رہائشیوں نے اسے “فراڈ ڈے” قرار دیا اور ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے مقابلے میں ناقص انفراسٹرکچر پر حکومت پر تنقید کی۔ 2007 کی تقریب کا اہتمام عالمی دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوہ نے کیا تھا، جو کہ کالعدم اسلامی دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ مذہبی خیراتی ادارہ ہے۔ یکجہتی ریلی سے لشکر طیبہ کے سربراہ عالمی دہشت گردحافظ سعید نے خطاب کیا۔ جس سے صاف ظاہر ہے کہ پاکستانی فوج اور اسکے مذہبی پنڈت کشمیریوں کی اپنی مفادات کے لیے بھلی کا بکرا بنا رہے ہیں۔

ہمارے نمائندے سے بات کر تے ہوئے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر اسلام کے نام پر پاکستان کشمیریوں سے یکجہتی کرتا ہے تو انکو کٹھ پتلی آزاد کشمیر نہیں بلکہ مکمل آزاد کشمیر چائیے جہاں کشمیری الیکشن لڑیں،،انکو اپنی فوج بنانے دو کشمیر کو ایک ریاست تسلیم کر انکو اپنی قومی شناخت کا حق دو تاکہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہو اور اس پر انکے عوام کا حق ہو۔

انکے مطابق پاکستان کی کسی قسم کی بھی مداخلت نہ ہو،اگر پاکستان واقعی کشمیریوں سے یکجہتی دکھانا چاہتا ہے، تو وہ اپنے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کو آزادی دے،ہمیں اسلام آباد میں سفارت خانہ کھولنے دے اور ہمیں سفارتی لڑائی لڑنے دے،ہمیں صرف پاکستان کی اخلاقی اور سفارتی مدد چائیے،جے کے ایل ایف کے مطابق ہم ریاست کی وحدت پر یقین رکھتا ہے ریاست کے شہریوں کو جے کے ایل ایف کو مضبوط طاقت بنانا ہوگا ورنہ ہماری نسلیں غلامی کے تحریک اندھیروں میں ہی رہیں گی۔
یوم یکجہتی کشمیر ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں،پاکستانی ملا فوج صرف انکو بے وقوف بنا رہی ہے اگر یکجہتی ہی کرنی ہے تو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دو،انکو اپنی فوج بنانے دو کشمیر کو ایک ریاست تسلیم کر انکو اپنی قومی شناخت کا حق دو تاکہ کشمیر ایک آزاد ریاست ہو اور اس پر انکے عوام کا حق ہو۔دراصل 5 فروری کو یوم فراڈ ہے،۔
خودمختار جموں کشمیر کو نقصان پہنچانے کے لیئے اس دن کو پاکستان سرکاری طور پر منایا جاتا ہے جو کہ ایک سازش ہے اس لیئے باشعور کشمیری اس دن 5 فروری کی نفی کرتے ہیں اور مسترد کرتے ہیں ۔

لوگوں کے مطابق پاکستانی مذہبی شدت پسندوں اور فوج و اشرافیہ نام نہاد سیاست دانوں کی جانب سے اس دن کو اس لیے منایا جاتا ہے کہ کشمیریوں کو غلام بنایا رکھا جائے۔جو کشمیریوں کو قبول نہیں ہے۔کشمیریوں کو اس دن کے نام پر جہادی بنا کر انکی نسلوں کو تباہکرنے کی ایک مذہبی سازش ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں