سندھ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد لواحقین کااحتجاجی کیمپ جاری ہے

0
36

پاکستان کے صوبہ سندھ کے راجدانی کراچی میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اورشہدا کے لواحقین کااحتجاجی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4967 دن ہوگئے ہیں۔

نیشنل ڈیموکریٹ موومنٹ کراچی کے صوبائی کنوینر شیر محمد بلوچ، یکجہتی کمیٹی کراچی کے آرگنائزر آمنہ بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

اس موقع پر سمی دین محمد بلوچ بھی موجود تھیں۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے موجودہ صورت حال میں جہاں بلوچستان کے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ موجودہ حکومت مطالبوں میں گولیاں برساتی ہے وہاں بلوچ قوم کے نوجوان خواتین اور عمومی طور پر بلوچ کے وسیع حلقوں نے صورت حال پر سندھ بالخصوص کراچی اور بلوچستان میں شدید احتجاج کیا اور کر رہے ہیں ان احتجاجوں میں بڑے بچے اور خواتین شامل ہیں۔

ماما قدیر بلوچ نے مزید کہا کہ بلوچ عوام کی جانب سے احتجاج کرتے ہوتے اس تاریخی سچائی پر زور دیتے ہوئے کہ اپ فرد واحد کس قتل کر سکتے ہیں لیکن اپ تصورات فکر نظریہ کا قتل نہیں کر سکتے نصب العین کو نہیں مار سکتے عظیم سلطنتیں مٹ گئیں لیکن تصورات فکر نظریہ زندہ ہیں لیکن فتح نصرت اگے بڑھتا رہا عوام کا استحصال کرنے والے یہ گروہ خون ریزی اور تباہی کے ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہیں نظم سبط کے نام پر یہ اس آواز کا گلہ دبا دیتے ہیں جو ان کو للکارتی ہے ان کے کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھانے کی جرات کرتی ہے ہمارا عقیدہ ہے سامراجی نظام لوٹ اور غارت گری کے لئے بنائی گئی ایک منظم سازش کا نام ہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ سامراجیت انسان کے ذریعے انسانوں کے استحصال قوموں کے عیارانہ استحصال کا آخری پراو ہے سامراجی قوتیں اپنے دلیل مقاصد کو پورا کرنے کے لئے نہ صرف عدلیہ کے زریعے قتل غارت کرتی ہے بلکہ وہ بڑے پیمانے پر خون ناحق غارت گری اور جنگ جیسے کوفناک جرائم کی مرتب ہوتی ہے ایسے معصوم اور نہتے لوگوں پر گولیاں برسانے میں ان کو کوئی عار نہیں جو ان کے استحصال اور غارت گری کے مقاصد کے اگے جھکنے سے انکار کردیتے ہیں نظام ضابطے کے ٹھیکے دار بن سامراجی قوتیں امن آتشی کا خاتمہ کرتی ہیں معصوم لوگوں کا قتل کرتی ہیں اور اسے سبھی جراںٔم ان کے لئے جاںٔز ہوتے ہیں جو تصور انسانی میں آسکتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں