فوج اور عدالت کو سیاسی امور پر مداخلت نہیں کرنی چاہیے، ایچ آر سی پی

0
22

ہیومن رائٹس کمیشن آ?ف پاکستان(ایچ آر سی پی) نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی بحران ’جمہوری عمل میں تعطل‘ اور پارلیمنٹ کی افادیت کم کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایچ آر سی پی کی چیئرمین پرسن حنا جیلانی نے مطالبہ کیا کہ تمام سیاست دان مل کر بیٹھیں اور جمہوری عمل مضبوط کرنے کے لیے تنازعات حل کریں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مسائل کے حل کے لیے سپریم کورٹ اور مسلح افواج کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے اور اپنے تنازعات خود حل کرنے کے لیے مل بیٹھنا چاہیے۔

ایچ ا?ر سی پی کی چیئرپرسن نے کہا کہ جس طرح سپریم کورٹ کے دو ججوں نے اختلافی نوٹ جاری کیا ہے اس نے انتخابات کے انعقاد پر عدالت کے فیصلے کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے خدشات کو ثابت کردیا ہے۔حنا جیلانی نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس جمال خان مندوخیل کی جانب سے تحریر کردہ فیصلہ آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے اور اب اداروں کی باری ہیکہ وہ اپنی غیرجانب داری ثابت کریں۔

انتخابات کے انعقاد کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ عدالت کو سیاسی امور پر مداخلت نہیں کرنی چاہیے، اس سے عدلیہ کی آزادی پر بات ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین سے متعلق امور کے لیے ایک آئینی عدالت ہونی چاہیے یا ان مسائل پر ایک فل کورٹ بینچ تشکیل دے دینا چاہیے۔حنا جیلانی نے کہا کہ جمہوری عمل کا جاری رکھنا ضروری ہے، انہوں نے بحران اور سیاسی منظر نامے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں